ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ؒ: اقدار کا پاسباں، طرز کہن کا باغی

 ڈاکٹر خان یاسر

ممبئی سے دہلی کے لیے رخت سفر باندھ رہا تھا کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کے سفر آخرت کی اطلاع موصول ہوئی۔ طویل علالت کے پیش نظر خبر بہت انہونی نہ تھی لیکن انتقال پر غم اور تکلیف کا تعلق فوت شدہ کی عمر اور بیماری کی طوالت سے نہیں بلکہ اس کے ”اپنا“ ہونے سے ہوتا ہے۔ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب تو خیر صرف میرے نہیں پوری تحریک اسلامی کے اپنے تھے۔ ان کی مقبولیت اور ہردلعزیزی سرحدوں کی پابند نہیں تھی، بالخصوص معاشیات کے میدان میں ان کی کاوشوں کی قدر صرف برصغیر میں نہیں بلکہ حجاز سے لے کر یورپ و امریکہ تک ہوتی تھی، اس کے ثبوت میں شاہ فیصل ایوارڈ سمیت ان متعدد اعزازات کو پیش کیا جاسکتا ہے جنھیں نجات اللہ صدیقی صاحب کے ذریعہ عزت بخشی گئی۔ میں نے خود کو دلاسہ دیا کہ یہ غم مجھ اکیلے کا غم نہیں ہے، سارا عالم اسلام سوگوار ہے… اور ایسے سپوت سے محرومی پر اسے سوگوار ہونا بھی چاہیے۔ دل و زبان سے إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ نکلا اور قلب و ذہن ان کی قیمتی یادوں میں کھوگیا۔
…………………………………..
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ بحر معاشیات کے شناور تھے۔ علامہ اقبالؔ کی ان سے ملاقات ہوجاتی تو وہ مرحوم سے یہ نہ پوچھتے کہ ”تری کتابوںمیں اے حکیم معاش رکھا ہی کیا ہے آخر“ کیونکہ طلسمِ اقتصادیات کے ایک رازداں کی حیثیت سے وہ ضرور یہ جان لیتے کہ نجات اللہ صدیقی صاحب مرحوم کی کتابیں ‘خطوط خم دارکی نمائش’ نہیں ہیں بلکہ نظام باطل میں سود کی بنیادوں پر استوار معیشت کی دیوار کج کے انہدام نیز سود کی لعنت سے پاک، سرمایہ دارانہ اوراشتراکی انتہاپسندیوں سے محفوظ، اور عدل و راستی کی اسلامی قدروں پر مبنی معاشی نظام کے قیام کی داعی ہیں۔

نجات اللہ صدیقی صاحب کی ویب سائٹ پر اردو و انگریزی میں ان کی 32 شائع شدہ کتابوں کی تفصیلات ملتی ہیں۔ ویسے یہ فہرست نامکمل ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ ان کی تصانیف کی تعداد چالیس سے زائد ہے۔ ان میں سے زیادہ تر معاشیات کے موضوع پر ہیں جن میں ”غیر سودی بنک کاری“، ”شرکت و مضاربت کے شرعی اصول“، ”اسلام کا نظریہ ملکیت“، اور ”انشورنس: اسلامی معاشیات میں “وغیرہ شامل ہیں۔ معاشیات کے میدان میں اصولی موضوعات کے ساتھ ساتھ Financial Crisis، Ethical Investment، Risk Management جیسے عصری اور اطلاقی موضوعات پر بھی ان کی تحریریں گرانقدر ہیں۔ اسی طرح اسلامی معیشت کے مستقبل پر نجات اللہ صدیقی صاحب کے خطابات اور مقالات بڑے پرمغز ہیں اور انقلابیت کے ساتھ ساتھ حقیقت پسندی کے آئینہ دار بھی ہیں۔ انھوں نے اسلامی معاشیات کے کلاسیکی و جدید ترین موضوعات پر ہندوستان، نائجیریا اور سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں متعدد پی ایچ ڈی مقالات کی نگرانی کا فریضہ بھی بحسن و خوبی انجام دیا۔

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ کی تصانیف میں تجدیدی شان نمایاں ہے۔ وسعت مطالعہ کے ساتھ ساتھ جرأت اندیشہ اور نشتر تحقیق سے بھی بہرہ ور تھے۔ چنانچہ بہت کچھ لکھا اور جو کچھ لکھا فکر و نظر کے لیے غور و فکر کا سامان کرگئے۔ ان کی تحریکی و فکری تصانیف مثلاً ”تحریک اسلامی: عصر حاضر میں“؛ ”معاصر اسلامی فکر کے توجہ طلب پہلو“؛ اور ”مقاصد شریعت“ وغیرہ نئے سوالات پر دعوتِ فکر دیتی ہیں۔ اس بات سے قطع نظر کہ مجوزہ جوابات سے علمی و فکری و حکمت عملی کی سطح پر اختلاف ممکن ہے ،یہ فکری کاوشیں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

بات کی تہہ تک پہنچنا اور علمی بحث کو آگے بڑھانے میں انھیں خاص درک حاصل تھا۔ وہ تکرار اور گھوم گھوم کر ایک ہی بات دہرانے کے قائل نہیں تھے۔ مثال کے طور پر اپنے ایک مقالے Islamization of Knowledge: Reflections on Priorities میں وہ بحث کو موجودہ علوم کے اسلامائزیشن سے آگے لے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں عدل، احسان اور تعاون جیسی اسلامی قدروں کی افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے علمی تحقیق کی اساس اور طریق کار کو اسلامی مزاج سے ہم آہنگ کرنے کی وکالت کرتے ہیں۔ بات صاف ہے کہ مختلف موضوعات پر تحصیلِ حاصل قبیل کی تصانیف کا انبار لگادینا کبھی ان کے پیش نظر نہیں رہا، لہذا اگر کسی اہم موضوع پر کوئی بہتر علمی کاوش ان کے سامنے آئی تو اسی پامال موضوع پر نئے سرے سے داد شجاعت دے کر تصنیفی سورما بننے کے بجائے انھوں نے ترجمہ کرنے پر اکتفا کیا۔ اس ضمن میں”قرآن اور سائنس“، ”اسلام میں عدل اجتماعی“ اور ”اسلام کا نظام محاصل“ قابل ذکر ہیں۔ اول الذکر سید قطب شہیدؒ کی ان تحریروں کا ترجمہ ہے جن میں قرآن کی حقانیت کے ثبوت میں سائنس سے استدلال کے حوالے سے معتدل نقطہ نظر کی وکالت کی گئی ہے۔ اسے سائنس کے حوالے سے بڑھتے ہوئے ایک انتہا پسندانہ رجحان، جسے Explorations in Islamic Science میں ضیاء الدین سردار نے Bucailleism سے تعبیر کیا ہے، کے محاکمے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ ان تراجم کی زبان ٹھوس، نثر شستہ اور رواں اور تحقیقی معیار مسلم ہے۔ مترجم نے قاری تک صرف مصنفِ کتاب کے استعمال کردہ الفاظ کے معانی منتقل نہیں کیے ہیں بلکہ مصنف اور کتاب کے پورے سیاق سے قاری کو ہم آہنگ کرنے کا فریضہ انجام دیا ہے، ساتھ ہی ترجمہ کردہ علمی کاوش کی علمی و تاریخی قدر بھی متعین کرتے چلے ہیں۔ چنانچہ سید قطب شہیدؒ کی کتاب ”العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام“ کے ترجمے میں تقریباً چالیس صفحات مقدمہ اور تعارف کی نذر ہوئے ہیں جن میں سید قطب شہیدؒ کے حالات زندگی، ان کی کتابوں کا اجمالی تعارف، ان کے افکار و خیالات، اسلامی تاریخ کے حوالے سے ان کا موقف، اوران کی شہادت کا پس منظر بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح قاضی ابویوسفؒ کی ”کتاب الخراج“ کے ترجمے میں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ نے تقریباً 75 صفحات پر مشتمل ایک مبسوط مقدمہ تحریر کیا ہے جس میں اس دور کا تاریخی پس منظر، قاضی ابویوسفؒ کے حالات زندگی، تصانیف کا اجمالی تعارف، مناقب و محاسن، معاصرین کی جانب سے کی جانے والی تنقیدوں کا محاکمہ اور اسلامی تاریخ میں ان کے علمی مقام کا تعین وغیرہ شامل ہے۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ نے اس مقدمے میں ”کتاب الخراج“ کا اپنے موضوع پر دیگرمعاصر کتب سے موازنہ اور اس کی علمی و تاریخی اہمیت ، اس کے مختلف نسخوں، شرحوں ، اور ترجموں کا ذکر بھی کیا ہے۔ اسی طرح کتاب کی شروعات ہی میں درہم، مثقال، دینار، اوقیہ، صاع، وسق وغیرہ سکوں، اوزان اور پیمانوں کا تحقیقی تعارف بھی پیش کردیا ہے تاکہ کتاب سے استفادے میں زمانی بعد حائل نہ ہوسکے۔

اسلامی ادب پر ان کی کاوشیں ”اسلام اور فنون لطیفہ“ اور ”ادب اسلامی: نظریاتی مقالات“ کے نام سے منظر عام پر آچکی ہیں۔ موخر الذکر کتاب انھوں نے ترتیب دی ہے۔ لیکن یہاں بھی یہ بات واضح ہے کہ ہر قسم کا رطب و یابس جمع کرکے سرورق پر مرتب بن کر براجمان ہونے کا خبط ان پر سوار نہیں تھا۔ کتاب کی ترتیب میں سلیقہ مندی، محنت اور عرق ریزی نمایاں ہے۔ موضوع پر خواہ مخواہ کی ایک تکرار کے بجائے یہ کتاب اسلامی ادب کی نظریاتی بنیادوں کی توضیح و تفہیم کے لیے ایک اہم گائڈبک کا کردار نبھاتی ہے۔ نجات اللہ صدیقی صاحب کی قدرداں اور جوہرشناس نگاہوں نے کتاب میں نعیم صدیقی، ابن فرید، پروفیسر عبدالمغنی، سید عبدالباری و دیگر اساطین ادب اسلامی کی تحریریں موتیوں کی طرح جڑ دی ہیں۔
…………………………………..
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحب کی زندگی کا ایک اہم پہلو کرئیر کی کشتیاں جلاکر تحریک کی قیادت کے سامنے خود سپردگی تھی کہ ہم قتل گاہوں سے اپنی جان اور ایمان بچاکر لے آئے ہیں، اب ہماری تعلیم و تربیت کا نظم کیا جائے۔ سچ کہا جائے تو ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ؒ اور ان کے رفیق کار ڈاکٹر عبدالحق انصاریؒ کے جوش و جذبہ، خلوص و للہیت اور یک گونہ دیوانگی کے پیش نظر تحریک کو ثانوی درسگاہ قائم کرنی پڑی۔ یہ قربانی جو ان نوجوانوں نے پیش کی اس کا اجر عظیم دنیا میں انھیں اس طور سے ملا کہ بطور پروفیسر و محقق دنیا بھر میں انھوں نے علمی خدمات انجام دیں اور تحریک کی فکری امامت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ عربی زبان اور قرآن و حدیث و شرعی علوم کی تحصیل کا یہ ذوق اور اس کے لیے یہ عدیم المثال قربانیاں – نوجوان نسل کے لیے مشعل راہ ہے۔

سابقون الاولون کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ تنگ و تاریک، پتھریلے اور کانٹے دار جنگلوں میں آبلہ پائی کرتے ہیں اور اپنے خون پسینے سے آنے والوں کے لیے راستہ بناجاتے ہیں، راستے دکھا جاتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحق انصاریؒ نے بھی ثانوی درسگاہ کو جدید عصری آہنگ عطا کیا۔ اس میں ان کے ہمدم و دمساز ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ کی فکر دوررس اور خون جگر کی شمولیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اپنے دیرینہ رفیق کے انتقال کے بعد نجات اللہ صدیقیؒ نے کبھی اسلامی اکیڈمی کی سرپرستی میں بخل سے کام نہیں لیا۔ 17-2015 تعلیمی سیشن کے لیے جو جدید پراسپیکٹس تیار کیا گیا تھا، اس میں ان کا ایک حوصلہ افزا پیغام بھی درج تھا۔ یہ پیغام خود ان کی امنگوں اورامیدوں کا مظہر ہے، ملاحظہ فرمائیں: ”مستقبل کی خوبی یہ ہے کہ آپ اس سے امیدیں وابستہ کرسکتے ہیں، حوصلے رکھ سکتے ہیں۔ مستقبل فراخ دل ہے اس کا دامن ماضی کی طرح تنگ نہیں ہے کہ جو ہوچکا بدل نہیں سکتا۔ ماضی ارادوں کی پہنچ سے باہر صرف یادوں کا مجموعہ ہے۔ اسلامی اکیڈمی کا مستقبل ان شاء اللہ شاندار ہے۔“ اس کے بعد دور جدید میں اعلیٰ اقدار کی پامالی کی طرف توجہ دلائی اور اس دعا پر اپنے پیغام کو ختم کیا، ”دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تقاضے پورے کرنے کے لیے سمع، بصر اور فواد کی خداداد صلاحیتوں سے کام لینے اور وحی الہی، اسوۂ نبوی، تاریخ، زمینی حقائق اور معاصر علوم کے خزانوں سے استفادہ کرتے ہوئے آگے بڑھنے کی توفیق دے۔“
…………………………………..
ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی صاحبؒ سے میری پہلی ملاقات یقیناً کتابوں کے ذریعہ ہی ہوئی۔ کتابوں اور مقالات سے انسان کی ذہانت، علمی تبحر، نثر کی پختگی اور ادبی ذوق کا اندازہ ضرور ہوتا ہے، لیکن بالمشافہ ملاقات میں فرد کی شخصیت، مزاج اور اخلاق کا ادراک کسی اور ہی سطح پر ہوتا ہے۔ اس بات کو آج کے سیاق میں یوں کہہ لیجیے کہ کتابِ چہرہ کا بدل نہ کتاب ہے اور نہ چہرہ کتاب (یا فیس بک)۔ نجات صاحب کی بابت میرا کچھ یہی تجربہ رہا۔ غالباً 2009 کی بات ہے، ایس آئی او کی جانب سے تکثیری سماج میں اسلام کی نمائندگی کے موضوع پر ایک سیمینار منعقد کیا گیا۔ سیمینار میں نجات اللہ صدیقی صاحب نے مولانا مودودیؒ کے خطبہ مدراس کا ناقدانہ تجزیہ پیش کیا تھا۔ ایک ٹھیٹھ علمی اور شریف آدمی کی طرح موصوف نے بھرپور تیاری کی تھی اور اپنا مقالہ پہلے سے بھجوادیا تھا۔ مرحوم کے تجزیے سے مجھے جابجا اختلاف تھا۔ چنانچہ ان کے مقالے کی پیشکش کے بعد ہی سوال و جواب کے سیشن کا بھرپور ‘استحصال’ کرتے ہوئے میں نے پیش کردہ نکات سے علی الاعلان اور تقریباً علی الاطلاق اختلاف درج کرایا اور بڑی تفصیل سے کرایا۔ نکات وار اپنی تنقید کو پیش کرتے وقت (کچھ دوستوں کی رائے میں) میرا اندازذرا جارحانہ تھا ۔ میں نے تنقید اپنی بساط بھر غور و فکر کے بعد ہی کی تھی لیکن ظاہر ہے کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی ؒ کی علمی شخصیت کے سامنے مجھ ناتواں کی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اپنے ‘مجاہدے’ کو یاد کرکے میں آج مسکرا رہا ہوں لیکن اس وقت میں بالکل تیار تھا کہ آج یہ عظیم مفکر و محقق جسے اپنی عریاں تنقید سے میں نے سخت مشتعل کردیا ہے وہ اپنی زبان سے میرا سر قلم کرکے رہے گا۔ میرا تاثر اس وقت صحیح ہوتا نظر آیا جب تمام سوالات کے جواب بعد میں ایک ساتھ دیے جائیں گے کے اعلان کے باوجود میرے سوال پر نجات اللہ صدیقی صاحبؒ نے ہاتھ بڑھا کر مائک قریب کرلیا اور جواب دینے لگے۔ لیکن میرے اندیشوں یا بالفاظ دیگر ‘شہید’ ہونے کی امیدوں کے برعکس انھوں نے اتنی نرمی، انکساری اور شبنمی گفتگو کی کہ اس کے بول گو مجھے یاد نہ ہوں لیکن وہ ٹھنڈا تاثر ابھی بھی قلب و ذہن میں مستور ہے جو ان کی گفتگو نے قائم کیا۔ اسی جرح کے بعد ان سے ملاقات ہوئی، انھوں نے تفصیلی تعارف حاصل کیا۔ یہ بھی ان کے بڑپن ہی کی علامت ہے کہ اس کے بعد جب بھی ملاقات ہوئی کبھی اپنا تعارف نہیں کرانا پڑا۔ خود ملتے، خیریت دریافت کرتے، تعلیمی پیش رفت کا حال معلوم کرتے، کیا لکھ رہے ہیں وغیرہ… گفتگو بالکل برابر کی سطح سے کرتے جس سے انسان بے دھڑک ہوکر کوئی بھی بات یا سوال کرسکتا تھا۔ طویل ملاقاتوں یا باضابطہ استفادے کی کوئی سبیل کچھ عمر اور کچھ جغرافیے کے تفاوت کی بنا پر پیدا نہ ہوسکی لیکن سچی بات یہ ہے کہ بڑپن بڑوں کی صحبت سے پیدا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں علمی انکسار اور چھوٹوں کی حوصلہ افزائی پر سیکڑوں کتابوں اور ہزاروں تقریریں شاید وہ درس نہیں دے سکتی تھیں جو ڈاکٹر نجات اللہ صدیقیؒ نے مجھے اپنے عملی رویے سے دیا۔ علم کے ساتھ عمل اور کردار کی یہ پختگی کم لوگوں کے نصیب میں آتی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس حکیم معاش، مجاہد علم، نباض ادب، اور آشنائے لذت تجدید کی مغفرت فرمائے، ان کی خدمات عالیہ کو شرف قبولیت بخشے اور انھیں اپنی رحمتوں اور نوازشوں سے ڈھانپ لے! آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا