ملک میں مسلمانوں کے پاس وقت کم، کام زیادہ ہے

ذوالقرنین احمد

یو پی انتخابات کے نتائج دیکھ کر یہ بات ثابت ہورہی ہے کہ عین انتخابات کے وقت جذباتی تقاریر کے ذریعے عوام کی ذہنیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جب تک زمینی سطح پر اتر کر عوام کی ذہن سازی نہیں کی جائیں گی ووٹوں کا متحد ہونا مشکل ہے۔ جو نفرت فرقہ پرستی اور ہندوتوا آئڈیولوجی کو عوام میں داخل کیا گیا ہے یہ آر ایس ایس کی برسوں کی محنت کا نتیجہ ہے۔ جو صرف انتخابات کے موسم میں تبدیل نہیں ہوسکتی ہیں۔ ان لوگوں نے اپنے سامنے ہندو راشٹر کا ٹارگیٹ رکھ کر کام کیا ہے اور آج وہ اسکی طرف تیزی گامزن ہے۔ سیکولر پارٹیاں مسلمانوں سے جمہوریت کی متزلزل دیواروں کی مرمت کا کام لیتی آئی ہے۔ اور جب جب فرقہ پرستوں نے جمہوریت کی کسی دیوار کو منہدم کیا ہے وہ مسلمانوں کے بے کفن، بے گور لاشوں کا قبرستان ثابت ہوا ہے۔ اب ملک کے مسلمانوں کے پاس وقت بہت کم ہے اور کام بہت زیادہ ہے۔

 ضرورت اس بات کے ہے کہ آئندہ مستقبل میں پیش آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلیے ملت کی صفوں کو درست کیا جائے۔ ہر شخص اپنی اپنے اہل خانہ اور اپنے خاندان برادری کو خودکفیل بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں، بچوں، خواتین، نوجوانوں کو سیلف ڈیفنس کی تربیت دے۔ ملک کے سسٹم میں داخل ہونے کیلیے اعلی سرکاری نوکریوں کو حاصل کرنے کیلیے ہر ممکن کوشش کریں۔ ملی جماعتیں اور تنظیمیں اپنے سیونگ فنڈز کو بچاکر رکھنے بجائے مسلمانوں کو خودکفیل بنانے کیلیے تعلیمی ترقی کیلیے، روزگار فراہم کرنے، تربیتی مراکز کے قیام، عصری تعلیمی اداروں کے قیام اور دیگر مفید ضروری کاموں کیلیے اپنی پالیسی میں بجٹ مختص کریں۔

 تخریب سے پہلے تعمیری کام انجام دے دیے جائیں تو آئیندہ وہ لوگ بھی مشکل وقت میں آپ کے ساتھ کھڑے ہوگے جن کو آج آپ کی مدد کی سخت ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔