یوپی انتخابات: ہمارے سیاسی عروج و زوال کی آزمائش

عمیر محمد خان

قومی حوصلے غلامانہ ذہنوں میں پروان نہیں پاتے ہیں۔ قوموں کی تقدیر سہاروں کی بدولت درخشندہ نہیں ہوتی ہے۔ سہاروں سے لاشیں تو اٹھائی جاسکتی ہیں مگر زندہ قوم کے افراد نہیں۔۔۔۔۔!!! غیر اقوام کو سہارا دینے سے مفادات کا حصول تو ممکن ہے قوم کا آگے بڑھنا اور جی اٹھنا ناممکن۔۔۔۔

خوف اور ترد سے غیر اقوام سے پشت پناہی کی امیدیں  جری اور نڈر افرادکو  جنم نہیں دیے سکتی ہیں۔۔۔۔

یہ جذباتی فقرے اور جملے نہیں  بلکہ ساٹھ سالہ مسلمانوں کی سیاسی تقدیر کے حقائق ہیں۔جہاں ہم ساٹھ سالوں تک خوف سے ایک پارٹی کو مضبوط کرتے رہے ہیں ۔  کسی کو ہرانے اور جیت حاصل کرنے کی  الل ٹپ و بے رخی سیاست کے علاؤہ کوئی اہم کارنامہ انجام نہیں دے سکے ہیں  اور آج بھی تاریکی کے اس سفر کو اجالوں کا شاندار ماضی سمجھتے ہیں ۔۔۔۔۔!!! سیاسی بصیرت کے اس اندھے پن کو کیا عروج اور ارتفاع کی ایک منزل سمجھیں۔۔۔۔۔

کوڑھ مغزی اور کج فکری کو سیاسی بصیرت کا نام دیں۔۔۔۔

بزدلی اور پس و پیش کی حکمت عملی کو اعلیٰ کارنامے سے موسوم کریں۔ ہم خود احتساب کریں ہم نے پایا ہی کیا ہے۔۔۔۔۔صرف کھویا ہی ہے۔۔۔۔۔۔ عزت ،اقتدار ،حوصلہ،  سیاسی بصیرت،  قومی طاقت،  دبدبہ ، تشخص، ملی حمیت و افتخار، شعور و آگاہی،  فکر و عمل کی صلاحیت۔۔۔۔

ارشاد ربانی ہے:

اور اندھا اور آنکھ والا برابر نہیں۔اور نہ اندھیرا اور روشنی۔ القرآن

  ہم اندھیروں میں چراغ کی ہلکی ضو فشانی کو اجالوں سے تعبیر کریں تو قصور کس کا ہے۔ ہلکی روشنی  نور کے ہیولے کا بدل نہیں۔۔۔۔۔۔!! خود مختاری غلامی کا پرتو نہیں۔۔۔

اس لیے ہم اس کو دھندلکوں سے موسوم  و تعبیر کرسکتے ہیں، بین درخشندگی سے ہرگز نہیں۔۔۔۔۔!!

اس فکرو شعور کو قرآن اجاگر کرتا ہے۔اندھیرا اور اجالا ،اندھا اور آنکھ والا ایک نہیں۔اسمیں ہی زندگی کے کئی پہلوؤں کا ہماری اجتماعی  زندگی کے لیے درس ہے ۔ ہم اپنی قومی زندگی کا احتساب کر سکتے ہیں ۔ستر سالہ ایک طویل عرصے کے ہمارے حاصل اور لاحاصل جستجووں ،خواب اور آرزوؤں کا ہم حساب لگا سکتے ہیں۔ بحثیت ملی۔ achievement  اور  loss کا تخمینہ لگاسکتےہیں۔اور اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے آگے کی strategy کا تعین کرسکتے ہیں ۔

               غلامانہ ذہنیت خود بھی غلام ہوتی ہے اور افراد کو بھی غلامی کے آداب سکھاتی ہے۔ ساٹھ سالہ لاحاصل جستجو اور نامرادی کی لاچار قوم بنانے کے علاؤہ ہم نے کیا ہی کیا ہے۔۔۔۔؟ سیاسی بے وزن  بھیڑکواکٹھا کر رکھا ہے ۔ تعلیمی میدان میں ایک پچھڑی ہوئی قوم بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ معاشی بے روزگاری کے تناسب کو بڑھا رکھا ہے ۔ سرکاری ملازمتوں میں پچھڑی ہوئی سماج سے بد تر حالت تک مسلمانوں کو پہنچا دیا ہے  ۔ رشوت ستانی  لوٹ کھسوٹ ،بے ایمانی کے مظاہروں پر خاموش  تماشائی بنے رہنے کا ایک بہترین عمل کر دکھایا ہے ۔مختلف چولے پہن کر ملت کے معصوم عوام کا استحصال کیا ہے  ۔بڑھتے حوصلوں کو سلام نہیں کیا۔۔۔۔ بلکہ خاموش کردیا ہے ۔بھڑکتے  تبدیلیوں کے شعلوں کو ٹھنڈا کرنے کا باحوصلہ  کام انجام دیا ہے۔ اور آج وہاں کھڑے ہیں جہاں ان کا ہی کوئی اپنا مقام نہیں۔۔۔۔۔!!!  افراد کا ایک ٹولا جس کی کوئی وقعت اور حثیت نہیں۔۔۔۔۔ ایک جم غفیر اور بھیڑ کے علاؤہ ہم دوسری جماعتوں کے سامنے کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔

       اگر ایسی ہی ہماری تقدیر تھی  توان حالات اور وہ پچھلی حکمت عملی کو پھر سے دوہرانے اور عمل پیرا ہونے کا وقت اب نہیں۔ اب  ہم ایک ساٹھ سالہ اپاہج قوم یقیناً  بننا نہیں چاہیں گے ۔ اب نئے زاویوں ،نئے راستوں اور نئے حوصلوں سے ایک سفر شروع کرنے کا وقت ضرور ہے۔ اگر وہی بوسیدہ عمارتوں پر رنگ و روغن کرکے کچھ پانے کی امنگ ہے تو یہ  ایک دیوانے کا خواب ہے ۔اب ایسے خوابوں کی تعبیر گھسے پٹے نظریات سے پانا  ممکن نہیں۔اب آزمائے ہوئے نسخے اور فرسودہ سیاسی بصیر تیں  کوئی گل کھلا نہیں سکتی ہیں ۔اب نظام ، انصرام ، نظریات،  راستے ، راہیں، افراد، ہنر، سرگرمیاں،  اہداف ، تبدیل کرنے کا وقت ہے تاکہ ساٹھ سالہ آج کے ابتری کے مقام  سے ہم کچھ نئے منازل کو پا سکے۔ اور یہ ہی ایک اسلامی جمہوریت کا جزلاینفک ہے ۔ جو آج کی شکستہ پر، بے حوصلہ، کسمپرسی، زوال پذیر حالت سے ہمیں نکال سکے۔ اب تجربات کو دوہرانے کا نہیں بلکہ نئے اقدام کا وقت ہے ۔ ایک پر عزم، حوصلے جو، منظم نظام، نئے حکمتِ عملی میں  نئےسفر کے آغاز کی ضرورت ہے۔

    ہماری گزشتہ سیاست کا ایک جائزہ لیں ۔ مسلم سیاسی ورکروں کے ذریعے جیتے گئے انتخابات میں  مسلم اکثریتی حلقوں سے ہی جیتے گئے ہیں۔ یہ غیر اقوام کی سیاسی جماعتوں کا کمال نہیں۔ یہ مسلم حق رائے دہندگان کے بدولت ہی ممکن ہوسکا ہے۔ اسمیں سیاسی جماعتوں کا کوئی اہم کارنامہ نہیں۔ غیر مسلم جن حلقوں سے جیتے ہیں وہ بھی مسلم حق رائے دہندگان کی وجہ سے ہی انتخابات جیت سکے ہیں۔ ان کے قومی افراد کی طاقت کے بل پر ہر گز وہ کامیاب نہیں ہوئے ہیں اور نہ ہی ان کی سیاسی جماعت کے کام کے ذریعہ ۔ مسلم اکثریتی علاقوں سے ہم اپنی شناخت اور آزاد رہ کر بھی جیت سکتے تھے۔ کسی سہاروں اور امید کے بغیر یہ ممکن تھا اور  آج بھی ہے۔۔۔۔۔ اس کو ہماری سیاسی بصیرت کہیں یا حماقت۔ جن سیاسی جماعتوں کے بدولت ہم انتخابات جیت بھی گئے تو کسی اعلیٰ و ارفع مقام پر ہم اپنی قوم اور آنے والی نسلوں کو پہنچانے میں کامیاب  نہیں ہوئے۔ سچر کمیٹی نے ہمیں بدترین پچھڑی ہوئی سماج سے تعبیر کیا ہے۔کیا یہ اندھے ،بہرے ،لنگڑےاور گونگے ہونے کی علامات نہیں۔۔۔۔۔

دوسروں کی بیساکھیوں پر کھڑے رہنے سے اپنے پیروں پر کھڑا رہنا بہتر ہے ۔غیر اقوام کے قلادوں سے آزاد رہنا بہتر ہے۔ غور کریں کہ مسلمانوں پر کتنے سخت ترین حالات آئے اور ان نامساعد حالات میں ہمارے جیت درج کئے سیاسی ورکروں نے کس طرح ہماری پشت پناہی کی۔ صرف حالات کا گزر جانے کا انتظار کیا۔ کسی قسم کی مذمت کی گئی نا ہی استعفیٰ پیش کیا گیا۔ کیا ایسے ہی ورکروں کو ہم اپنے نمائندے گردانتے ہیں۔۔۔۔۔

اپنے آقاؤں کو خوش کرنے اور قوم کا استحصال جن کا شعار ہو ان کو اب ان کے اصل کردار سے واقف کروانا ضروری ہے۔

غیر اقوام کے اکثریتی علاقوں سے کن مسلم سیاسی ورکروں کو کامیابی نصیب ہوئی ؟ ان حلقوں سے ٹکٹ مانگنے کی جرات بھی ان میں پیدا نہ ہوسکی۔ قومی و ملی مفادات پر کبھی کھل کر اظہار رائے کی آزادی بھی نصیب نہیں ہوئی۔

یوپی الیکشن اور آنے والے انتخابات میں ایک خاص حکمتِ عملی پر عمل درآمد کیا جائے  تاکہ اب مزید استحصال سے محفوظ رہا جاسکے۔ایک فیز کے بعد بھی  حالات ہماری دسترس میں ہیں۔ تقریباً 138 حلقوں سے یوپی میں مسلم  امیدوار فیصلہ کن انداز سے فتح حاصل کرسکتے ہیں۔ ان حلقوں پر متانت و سنجیدگی سے حق رائے دہندگی کا استعمال کریں۔ جن حلقوں سے مسلمان امیدوار مسلم ووٹوں کی بدولت جیت درج کرسکتے ہوں تو دوسری غیر مسلم جماعتوں کی بجائے مسلم سیاسی جماعت کے امیدوار کو منتخب کرنے کی کوشش کی جائے ۔غیر مسلم جماعتوں کے امیدوار ان جماعتوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کام کرتے ہیں۔ مشکل مرحلوں میں یہ بین طور سے محسوس کیا گیا کہ وہ خاموش کٹھ پتلیوں کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔  جب بھی قوم کو ضرورت محسوس ہوئی ان کی جانب سے چپکی سادھ لی گئی۔  مسلسل مسلم اکثریتی حلقوں سے جیت حاصل کرنے کی باوجود امبیڈکر کی طرح کوئی قابلِ ذکر کارہائے نمایاں انجام نہیں دے سکے ۔ دوسری حکمتِ عملی  کسی بھی حلقے سے دو سے زائد امیدوار انتخاب  لڑیں تو سوجھ بوجھ سے ووٹ کا استعمال کریں۔ بالفرض  جن حلقوں میں تین   سے  زائد امیدوار انتخاب میں حصہ لیں تو صرف ایک ہی امیدوار کو ووٹ ڈالیں۔ وہ امیدوار جو مسلم سیاسی جماعت سے تعلق رکھتا ہو۔ اگر ہم اس بات پر بھی قادر نہ ہوں تو پھر موجودہ  ساٹھ سالوں سے بھی بدترین  حالات کو ہم اپنی تقدیر بنالیں گے۔ اب ہم کسی اور کو مورد الزام ٹھہرا نے کے قابل بھی نہیں رہیں گے ۔ہم ساٹھ سالوں سے ایک سیاسی جنجال کا شکار رہے ہیں ۔ ایک سیاسی خلفشار میں مبتلا رہے ۔ ایک اندھی سیاسی بصیرت کے جال میں پھنسے رہے ۔ خوف و تردد کی کشمکش سے دوچار رہے  ہیں۔ اب وقت اتنے مواقع فراہم نہیں کرے گا کہ ہم پھر سے پچھلی روشوں کو اپنائے اور وہی ردو کد کا راستہ اختیار کریں۔ ساٹھ سالہ تاریکی کے سالوں اور  بدترین  حالت سے پھر دوچار ہوں۔ سیاسی بصیرت کے اندھوں کی تقلید اب ہماری رہی سہی وقعت وحمیت  بھی ہم سے چھین لے گی ۔ دوسروں کی آنکھوں سے اپنے راستے تلاش کرنے سے ہم اپنی منزل پر ہرگز نہیں پہنچ سکتے ہیں ۔

   تیسرا نکتہ جن حلقوں میں مسلم و غیر مسلم ووٹوں سے مسلم امیدوار کی جیت ممکن ہوں وہاں غیر اقوام کے مسلم امیدوار کو منتخب کرنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن مسلم اکثریتی حلقوں سے ہرگز نہیں۔

     مسلم سیاسی جماعت کے منتخب شدہ ارکان بطور خاص مجلسِ ، پیس پارٹی کے متعلق یہ بات کہی جاتی ہے کہ وہ کچھ اہم کام نہیں کر سکے۔  حالانکہ ان کی جیت  ہی ایک بڑا کارنامہ ہے۔ جس کے متعلق لوگوں  کی سیاسی بصیرت ساٹھ  سالوں سے سوچنے کی جرات بھی نہیں کر سکی ۔ فکر و عمل کے دونوں میدانوں میں وہ نامراد رہے ہیں۔

   اگر غور کریں تو حزب مخالف اپوزیشن پارٹیز نے ہندوستانی عوام کے لیے اور باالخصوص مسلمانوں کے لیے کونسا کارنامہ انجام دیا ہے۔..؟ کیا انھوں نے اپوزیشن پارٹیز کا کردار بھی نبھایا ہے؟ بر سرِ اقتدار پارٹی کو ناکوں چنے چبوانے پر مجبور کیا ہے  ؟ ان سوالوں کے جواب آپ کو نفی میں ہی ملیں گے۔سیکولر پارٹیز صرف خاموش تماشائی بنے رہے۔ ہم کو اور ہندوستانی عوام کو  وہ تھپکتے ہی رہے ہیں۔ ایوانوں میں احتجاج تو درکنار مخالفت میں ووٹ بھی نہیں ڈال سکے ہیں۔ اس کے باوجود مسلم سیاسی جماعت ہماری نظر میں بری ہیں۔

      کبھی ہم سوچیں کہ عملی اقدام کر گذرنے والوں کو ہم نے کتنا سہارا دیا۔۔۔۔۔؟ کونسی مدد کی۔۔۔۔؟ کتنا ان کو مضبوط کیا۔۔۔؟ ہم ان کے،ان کے،اس کے اور اس کے پیچھے ہی قوم کو دوڑاتے ہی رہے ہیں۔ نئے کارواں میں شریک ہونا ہمیں گراں گذر رہا ہے۔ اب تو خدارا ایک کارواں بنیں۔ اپنوں کو کچھ کرنے کا ایک موقعہ فراہم کریں۔ تاکہ ملت کے ایک نیا سفر کا ہم آغاز کرسکیں۔یوپی کی مسلم اکثریتی ریاست میں بھی اگر ہم کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہ کر پائے تو ہم ایک بے سمتی سفر دوبارہ شروع کرچکے ہونگے۔ جو ہمیں دوسروں کے سہارے زندگی گزارنے پر مجبور کرچکا ہونگا ۔۔۔فیصلہ آپ کا  ۔۔۔۔۔

اپنی منزل یا  غیروں کی عطاکردہ منزل۔۔۔۔۔۔۔!!!؟؟؟

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔