جموں و کشمیر میں پنچایتی انتخابات اور عوامی ذمہ داری

الطاف حسین جنجوعہ

جموں وکشمیر ریاست میں اِن دنوں بلدیاتی (اربن لوکل باڈیز)اور پنچایتی انتخابات کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ ریاست کی دو بڑی علاقائی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس اور پیپلزڈیموکریٹک پارٹی نے  دفعہ-35-Aکے ساتھ مرکزی سرکار کی طرف سے کی جارہی بارہا چھیڑ چھاڑ کے خلاف بطور احتجاج’الیکشن بائیکاٹ کال‘دے رکھی ہے، لیکن باوجود اس کے ریاست بالخصوص جموں صوبہ اور لداخ کے اندر لوگوں میں اِن چناؤ کو لیکر کافی جوش وخروش دیکھاجارہاہے۔ پہلے مرحلہ کے بلدیاتی چناؤ کے لئے 422وارڈوں سے 1283امیدوارو مدمقابل ہیں جبکہ 78امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار دیئے گئے ہیں۔ وادی کشمیر میں اس مرتبہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تقریباًہرجگہ سے اپنے امیدوار کھڑے کئے ہیں جس کو پارٹی اپنی بہت بڑی کامیابی سے تعبیر کر رہی ہے۔ کانگریس بھی پورے دم خم کے ساتھ میدان میں ہے، جس کا کہنا ہے کہ وہ این سی۔ پی ڈی پی کی طرح فرقہ پرستوں کو کھلی چھوٹ نہیں دے سکتی۔بائیکاٹ کال کے باوجود گورنر انتظامیہ کے زیر اہتمام زوروشور سے انتخابات کی جاری سرگرمیوں سے اب نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کیلئے بھی مشکلیں پیدا ہوگئی ہیں جنہوں نے زمینی سطح پر اب پکڑ بنائے رکھنے لئے کئی مقامات پر اپنے پراکسی’درپردہ‘امیدوار کھڑے کئے ہیں۔ بی جے پی کے قومی جنرل سیکریٹری رام مادھو نے گذشتہ دنوں ایک پریس کانفرنس میں بھی اس بات کا انکشاف کیاتھاکہ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی نے پراکسی امیدوار میدان میں اُتارے ہیں لیکن وہ اس کا بھی خیرمقدم کرتے ہیں کہ چلو وہ کسی طرح جمہوری عمل کا حصہ بھی تو بنے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیاکہ پی ڈی پی۔ نیشنل کانفرنس اور جنگجوؤں ایک ساتھ ہیں۔

 بھاجپا کا الزام ہے کہ کشمیر کے اندر انتخابی امیدواروں کو جتناڈر جنگجوؤں سے ہی، اتنی ہی دھمکیاں انہیں این سی اور پی ڈی پی ورکروں سے مل رہی ہیں اور انہیں الیکشن نہ لڑنے کیلئے کہاجارہاہے۔اس حوالہ سے بھاجپانے الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ایک مکتوب بھی ارسال کیا ہے جس میں الیکشن بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتوں نیشنل کانفرنس۔پی ڈی پی، سی پی آئی (ایم)اور بہوجن سماج پارٹی کی تسلیمیات منسوخ کرنے اور چناؤ نشانات کو منجمد کرنے کا مطالبہ کیاگیاہے۔وادی کے متعدد علاقوں میں پنچایتی گھروں کے نذر آتش کئے جانے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ساتھ ہی جنوب وشمالی کشمیر میں جنگجوؤں اور سیکورٹی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپیں اب ایک معمول بن کر رہ گیاہے۔خیر یہ پنچایتی انتخابات کا ایک سیاسی پہلو ہے۔اس سب کے باوجود یہ بات طے ہے کہ انتخابات کے لئے انتظامیہ کسی بھی صورت میں پیچھے ہٹنے والی نہیں، اس حوالہ سے تمام تر انتظامات کئے جارہے ہیں۔

سیکورٹی فورسز کی اضافی کمک بھی بیرون ریاست سے طلب کی گئی ہے۔ اب ایسی صورتحال میں ہماری کیا ذمہ داری بنتی ہے، اس پر ہمیں توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔چونکہ پنچایتیں اور اربن لوکل باڈیز چناؤ علاقائی ترقی اور چھوٹے موٹے روزمرہ مسائل کے حل کے لئے ہیں، اس لئے ہمیں چاہئے کہ اب بڑھ چڑھ کر اس کا حصہ بنیں اور ایسے امیدواروں کا انتخاب کریں جوکہ ہماری بہترنمائندگی کرسکیں۔ ان دِنوں پنچایت حلقہ اور وارڈ حلقہ سطح پر بھی لوگوں نے سرگرمیاں تیز کر دی ہیں۔ سابقہ سرپنچ وپنچ ’دفاعی چمپئن‘کی طرح دوبارہ سے کافی متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ درجنوں نئے چہرے بھی عوام کا ہمدرد، غمخوار اور خادم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے پنچایتی انتخابات کے دنگل میں کودنے کے لئے لنگر لنگوٹے کس چکے ہیں۔ جس طرح ہندوستان کی مجموعی تعمیر وترقی کے لئے پارلیمانی انتخابات، جموں وکشمیر ریاست کی ہمہ جہت اقتصادی، سیماجی، سیاسی م تعلیمی ترقی کے لئے اسمبلی انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ ٹھیک اسی طرح پنچایتی انتخابات گاؤں کی ترقی وخوشحالی کے لئے انتہائی اہم ہیں۔ گاؤں کی ترقی کا دارومدار، پنچایتوں پر ہے۔

گاؤں سطح پر ہونے والا ہر کام بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر پنچایتی اداروں کے ذریعہ ہی کیاجاتاہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرایک کا جمہوری حق ہے، کہ وہ چناؤ لڑسکتا ہے اور اس کے لئے اپنی دعوہداری پیش بھی کرسکتا ہے لیکن چونکہ براہ راست ان انتخابات کا تعلق ایک گاؤں یاوارڈ سے ہے، تو اس میں اگردرجن بھر افراد کھڑے ہوجائیں گے تو ظاہر ہے کہ رائے دہندگان سے حمایت حاصل کرنے کے لئے ہر طرح کے طریقے استعمال ہوں گے۔ تنقید، الزامات تراشی بھی ہوگیں تو اس سے آپسی تعلقات بھی متاثرہوسکتے ہیں۔ توبہتری اسی میں ہے کہ سوجھ بوجھ، افہام وتفہیم اور آپسی صلاح ومشورہ سے چند امیدواروں کو ہی منتخب کیاجائے۔ تو امیدواروں کا انتخاب کرتے وقت چند چیزوں کا خیال ضرور رکھاجانا چاہئے۔ کوشش رہے کہ امیدوار تعلیم یافتہ ہو، بااخلاق، باکردار ہو، غریب پرورہو، لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتا ہو، ذمہ داری کو بخوبی نبھا سکے، حکومت کی طرف سے چلائی جارہی اسکیموں بارے عوام کو بیدارکرے اور مستحقین تک اس کا فائیدہ پہنچاسکے۔پنچایت یا وارڈ کے اندر رہ رہے ہر طبقہ کے لوگوں ایک ساتھ لیکر چلے۔سبھی کی رائے کا احترام کرنے والاہو۔ اگر کسی پنچایت میں مختلف طبقہ جات یا مختلف زبانیں بولنے والے رہتے ہیں تو کوشش کی جائے کہ ایک طبقہ سے کسی موزوں شخصیت کو سرپنچ منتخب کیاجائے، دوسرے طبقہ سے نائب سرپنچ ہو۔ عدالتی چیئرمین کسی تیسرے طبقہ سے ہو۔ پنچایتی عدالتی کمیٹی میں سبھی طبقہ جات کو نمائندگی دی جائے۔رائے دہندگان کو چاہئے کہ وہ وقتی طور پر پیسے یا کسی اور حقیرمفاد کی لالچ میں آکر بغیر سوچے سمجھے اپنے ووٹ کا غلط استعمال نہ کریں۔ جوامیدوار، اِن سے ووٹ طلب کرنے آئیں، ان سے باقاعدہ پوچھا جائے کہ اگر وہ منتخب ہوتے ہیں تو گاؤں کی تعمیر وترقی کے لئے ان کا منشور کیا ہے اور وہ کس طریقہ سے کام کرنا چاہئے گے۔

 آج چونکہ انٹرنیٹ کا دورہے، ہر کسی کے پاس اچھے سے اچھے موبائل فون ہیں۔ آپ امیدواروں کے وعدوں کی ویڈیو گرافی بھی کرسکتے ہیں تاکہ کل انہیں یہ یاد دہانی کرائی جائے۔ذات پات، علاقہ، امیر، غریب کی بنیاد پر کسی بھی امیدوار کو ووٹ نہ دیاجائے۔ پنچایتوں کو غریبوں پر حکمرانی کرنے، بے سہارا کمزوروں پر راج کرنے کے لئے استعمال نہ ہونے دیاجائے بلکہ یہ ادارے اپنی خود مختیاری اور طاقت کا ذریعہ بنیں۔ اُس امیدوار کو ووٹ دیں جوحقیقی معنوں میں ہرشخص کو بااختیار بنانے اور اس کو وہ عزت ومقام دے سکے جس کا وہ مستحق ہے۔تعلیم یافتہ نوجوانوں کے کندھوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس کو سماجی خدمت سمجھ کر اس نازک مرحلہ پر اپنے مثبت کردار ادا کر کے رائے دہندگان میں بیداری لائیں کہ ووٹ کی طاقت کا غلط استعمال ہرگز نہ کیاجائے۔ اس کواپنی فلاح وبہبودی کے لئے سوچ سمجھ کر کیاجائے۔یہ تو ہم سب جانتے ہیں ایک پنچایت میں سے کسی ایک کو ہی سرپنچ بننا ہے۔اس لئے بغیر کسی تنازعہ، اختلافات اور تلخیوں سے سازگار ماحول تیار کر کے متفقہ طور کسی موزوں شخصیت کو سرپنچ منتخب کیاجائے۔ عدالتی چیئرمین کسی معزز شخص کو مقرر کرنے پر اتفاق کیاجائے اور پنچایت عدالتی کمیٹی میں تمام طبقہ جات سے کم سے کم ایک معزز شخص شامل ہو۔کوشش کی جائے کہ اس میں مارہرین قانون (اگر دستیاب ہیں ) اورعلماء کرائم بھی شامل ہوں۔ علاوہ ازیں پنچایتی سطح پر ایک مشاورتی کمیٹی تشکیل دی جائے جس میں ہروارڈ سے تین تین افراد شامل ہوں تاکہ تعمیر وترقی وگاؤں کے جملہ مسائل ومشکلات کے ازالہ کے لئے ان کی صلاح بھی لی جائے۔ نوجوان طبقہ پر ذمہ داری عائد ہوتی کہ ہے ذات پات کی بنیاد پر لوگوں کو تقسیم نہ ہونے دیں۔ لہٰذا اب اس وقت لوگوں کے پاس ایک نادر موقع ہاتھ میں آیا ہے جس کا صحیح استعمال کرنا چاہئے۔500یا1000روپے کے عوض اپنے قیمتی ووٹ کا ہرگز سودا نہ کریں بلکہ اس ووٹ کو اپنے گاؤں، محلہ، گلی کوچوں کی ترقی، بہتری، سفائی ستھرائی، اپنے گاؤں کی آن بان اور شان کی بالادستی کے لئے استعمال کریں۔ گذشتہ انتخابات میں کئی پنچایتوں میں ایسا ہوا کہ انتخابات سے ٹھیک ایک روز قبل رائے دہندگان کے گھر گھر جاکر پیسے دیکر ان سے ووٹ خریدے گئے۔

عام لوگوں کو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ اگر آج ووٹ کا سودا کیا تو پھر پانچ برس تک پچھتانا پڑے گا۔ پنچایتی انتخابات میں ہر ایک شخص کا ووٹ قیمتی ہے۔ سال2011میں ہوئے پنچایتی انتخابات کا ذکر کریں تو اس وقت ایسی صورتحال پیدا کی گئی کہ ایک ہی کنبہ/گھر کے تین چار افراد سرپنچ/پنچ کے لئے میدان میں کھڑے ہوگئے، کہیں جگہ ایسا ہواکہ ایک شادی شدہ خاتون کا والد اور سسر دونوں میدان میں تھے، اب یہ بیچاری کس کے حق میں ووٹ ڈالے۔ پچھلے پنچایتی انتخابات کے دوران ریاست کے متعدد علاقوں میں ہزاروں اپسی رشتے ٹوٹے، سگے بھائی، بہن ایکدوسرے کے دشمن ہوئے۔ ان انتخابات کے اندر جو نفرتیں، قدورتیں اور دوریاں قائم ہوئیں انہیں مٹنے میں کئی برس لگے، کہیں تو اس کا اثر ابھی بھی دیکھاجارہاہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہئے کہ ہم ایک معاشرہ کا حصہ ہیں، یہیں جینا اور یہیں مرنا ہے۔ ان اداروں میں انہیں اشخاص کو چن کر بھیجا جائے کہ جوواقعی اِس کے مستحق ہیں اور تمام تر تقاضے پورا کرتے ہیں۔ محض اپنی اجاراہ داری، حکمرانی، بالادستی کو قائم کرنے کے لئے ان اداروں کا استعمال کرکے اپنے لوگوں سے زیادتی نہ کی جائے۔ رشتہ داری، ذات پات، مذہب، قربت، جان پہنچان، سیاسی پارٹی ودیگر نظریاتی وابستگیوں کو ترک کر کے صرف گاؤں کے سبھی لوگوں کی ترقی کے لئے سوچنے کی ضرورت ہے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔