شہد کی افادیت: تعلیماتِ نبوی اور طبی تحقیقات کے تناظر میں

ڈاکٹر فہد انوار

    نبی کریم ﷺکی تعلیمات  میں جہاں دل کی بیماریوں شرک، کینہ، حسد نفاق    کی نشاندہی اور اصلاح سے متعلق ہدایت کا سامان موجود ہے وہاں  جسمانی بیماریوں  کے علاج کے متعلق بھی اہم ہدایات موجود ہیں۔ قرآن کریم جوآپ ﷺکی تعلیمات کی اصل ہے،اس مین  ارشادِ باری ہے :

{وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ ورحمة للمؤمنين}بنی اسرآءیل:۸۲

اور ہم وہ قرآن نازل کر رہے ہیں جو جو مومنوں کیلیے شفا اور رحمت  کا سامان ہے

اس آیت کی تفسیر میں حضرت   قاضی ثناءاللہ پانی پتی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ قرآن کریم  کفر، جہالتوں کی بیماریوں کیلیے شفا  دلوں کیلیے جلا،قلبی،قلبی اور نفسانی میل کچیل کو مٹانے والااور  بری خصلتوں کو دور کرنے والا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آیت میں من  تبعیض کیلیے ہے (تو پھرعربی گرائمر کے قواعد سے) شفا ظاھری بیماریوں  سے ہے۔ اور قرآنِ کریم کے بعض حصے سے مراد وہ حصہ ہے جو بیمار کو تندرست کر دیتا ہے جیسے سورہءفاتحہ اور اس کی مثل۔ یہ ہی آپ ﷺ کے اس ارشاد گرامی کا مطلب ہو گا  کہ تم پر دو تندرستی دینے والی چیزیں لازم ہیں  :شہد اورقرآن(تفسیرِ مظہری،صفحہ ۴۸۵جلد۵،رشدیہ)

يَخْرُجُ مِنْ بُطُونِهَا شَرَابٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِلنَّاسِ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُون(النحل:69)

اس مکھی کے پیٹ سے وہ مختلف رنگوں والا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کیلیے شفا ہے،یقینا ان سب باتوں میں ان لوگوں کیلیے نشانی ہے جو  سوچتے سمجھتے ہوں۔

        یہاں  مفسرین اور محدثین نے یہ بحث فرمائی ہے کہ آیا شہد میں ہر بیماری سے شفا ہے یا مخصوص امراض کیلیے:

۔ بعض حضرات کے نزدیک شفا کا ہونا  عام نہیں ہے بلکہ  بعض امراض کیلیے باعثِ شفاہے  چنانچہ بعض امراض  میں شہد کا استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بعض لوگوں کیلیے شہد شفا ہے اور بعض کیلیے  نہیں۔ ۔ دوسرا قول یہ ہے کہ  آیت کے الفاظ عام ہیں اور واقعتا شہد اصلا تمام امراض کیلیے باعثِ شفا ہے تاہم کسی  عارض کی وجہ سے اگر شہد نقصا ن دہ ثابت ہو تو  اس کا اعتبار نہیں(کشف الباری  جلد۴ص  ۵۴۴بحوالہ فتح الباری،عمدۃ القاری و روح المعانی)

کتبِ احادیث میں ایسی  احادیث ملتی ہیں جن میں آنحضرت ﷺنےجسمانی  امراض کیلیے شہد تجویز فرمایا۔ ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شہد کو عجیب و غریب صفات سے نوازا ہے اور معلمِ انسانیتﷺکے ذریعے اس سے استفادہ کرنے کی طرف متوجہ کیا ہے۔ مندرجہ ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیں:

 عن ابی ھریرة قال:قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم : ﴿مَنْ لَعِقَ الْعَسَلَ ثَلاثَ غَدَوَاتٍ کُلَّ شَھْرٍ لَمْ یُصِبْہ عَظِیْمٌ مِنَ الْبَلاءِ﴾․ (سنن ابن ماجہ بسند ضعیف، ۴/۱۲۴، حدیث نمبر:۳۴۵۰، دارالجیل، بیروت)

 ترجمہ:حضرتِ ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله اﷺنے ارشاد فرمایا:جو شخص ہر مہینے تین دن تک صبح میں شہد چاٹے، تو اس کو کوئی بڑی مصیبت نہیں پہنچے گی۔

۲- عن عبدالله قال: قال رسول الله ا: ﴿عَلَیْکُمْ بالشِّفائَیْنِ:العَسَلِ وَالْقُرْآنِ﴾۔ (سنن ابن ماجہ،۴/۱۲۴،حدیث نمبر:۳۴۵۲،دارالجیل،بیروت)

ترجمہ:حضرت عبد الله نبی کریم اﷺکا فرمان نقل فر ماتے ہیں :دو باعثِ شفاء چیزوں کو لازم پکڑ لو ۱: شہداور ۲۔ قرآن۔

رسولِ اکرم اﷺکی یہ حدیث ِمبارک بڑی جامعیت کی حامل ہے۔ اس میں طبِ جسمانی اور طبِ روحانی دونوں کو جمع کیا گیا ہے۔ جسمانی امراض کیلیے شہد کو تجویز فرمایا گیا، جبکہ روح کی بیماریوں حسد،کینہ،نفاق وغیرہ کیلیے قرآنِ حکیم کو تجویز فرمایا گیا۔

عن ابن عباس ؓ قال  الشِّفَاءُ فِي ثَلاَثَةٍ: شَرْبَةِ عَسَلٍ، وَشَرْطَةِ مِحْجَمٍ، وَكَيَّةِ نَارٍ، وَأَنْهَى أُمَّتِي عَنِ الكَيِّ ” رفع الحدیث

ابنِ عباسؓ  نبی ءکریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ تین چیزوں میں  شفاہے:شہد پینا،پچھنے لگوانا اور آگ سے داغنا لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔

عَنْ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وسلم يقول: "إن كان فِي شَيْءٍ مِنْ أَدْوِيَتِكُمْ خَيْرٌ: فَفِي شَرْطَةِ مِحْجَمٍ، أَوْ شَرْبَةِ عَسَلٍ، أَوْ لَذْعَةٍ بِنَارٍ توافق الداء، وما أحب أن أكتوي

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے بنیءاکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اگر تمہاری دوا  وٗں میں سے کسی چیز میں بھلائی  ہوتی تو  پچھنے لگوانے میں یا شہد پینے میں یا آگ سے داغ لگوانے میں جو مرض کے موافق ہو تاہم میں داغ لگوانے کو پسند نہیں کرتا.

۳- عن عائشة  قالت: کَانَ النَّبِیُ  ﷺ یُعْجِبُہ الْحَلْوَاءُ وَالْعَسَلُ․ (صحیح البخاری، باب:الدواء بالعسل، ۵/۲۱۵۲حدیث نمبر:۵۳۵۸، دار ابن کثیر، دمشق، بیروت)

ترجمہ: ام ّالموٴمنین حضرتِ عائشہ  فرماتی ہیں کہ آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ وسلم کو میٹھی چیز اور شہد مرغوب تھا۔

۴- عن ابی سعید ص أَنَّ رَجُلاً أَ تَی النَّبِیَّ ا فقال: اَٴخِیْ یَشْتَکِی بَطْنه فَقَالَ: اِسْقه عَسَلاً، ثُمَّ اَٴتَاہ الثَّانِیْةَ، فَقَالَ: اِسْقه، عَسَلاً، ثُمَّ اَٴتَاہ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: اسقه عَسَلاً، ثُمَّ اَٴتَاہ، فَقَالَ: قَدْ فَعَلْتُ فَقَالَ: ﴿صَدَقَ اللهُ وَکَذَبَ بَطْنُ اَٴخِیْکَ، اِسْقه عَسَلاً﴾، فَسَقَاہ فَبَرِاَٴ (صحیح البخاری، کتاب: الطبّ، باب: الدواء بالعسل)

ترجمہ:حضرتِ ابو سعیدص فرماتے ہیں:ایک آدمی سرکارِ دو عالم ا کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا اور کہا :میرا بھائی پیٹ کے مرض میں مبتلا ہو گیا ہے، آپ انے فرمایا :اس کو شہد پلاوٴ،وہ دوسری بار آیا تو پھر آ پ انے اس کو شہد پلانے کی تاکید کی اسی طرح تیسری مرتبہ بھی، جب چوتھی بار بھی آ کر اس نے شکایت کی تو رسول الله ا نے ارشاد فرمایا : تمہارے بھائی کا پیٹ تو جھوٹا ہوسکتا ہے؛ لیکن الله کا کلام تو سچاہی ہے، اس کو پھر شہد پلاوٴ، اس نے اس مرتبہ جا کر جب شہد پلایا تو اس کو شفا نصیب ہو گئی۔

اس حدیث سے امراضِ بطن میں افادیتِ شہد کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ طبّ کے ایک بنیادی اور اہم ترین اصول کی طرف راہنمائی بھی ملتی ہے کہ کسی بھی مرض کے علاج کے لیے دوا کی مقدار، اس کی کیفیت اور مریض کی قوت کی رعایت اور لحاظ رکھنا دوا کے مفید ہونے کے لیے انتہائی ضروری ہے، جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث میں چوتھی بارشہد کے استعمال کرنے پر مرض سے افاقہ حاصل ہوا۔

نبیءاکرم ﷺ کی ایک عادت ِشریفہ صبح شہد  کے شربت کا پیالہ نوش فرمانے کی تھی۔ کبھی عصر کے بعد نوش فرماتے۔ اللہ تعالیٗ کے فضل سے آپ ﷺ تمام عمر چست رہے اور موذی مرض میں مبتلا نہ ہوئے۔ اس میں ہم امتیوں کیلیے سبق ہے اور شہد استعمال کرنے کی ترغیبب بھی۔ خصوصا ان وقتوں مین پیٹ خالی ہونے کی وجہ سے   شہد جذب ہونے میں مدد ملتی ہے۔

ڈاکٹر خالد غزنوی    اپنی   معروف کتاب طِبِ نبوی اور جدید سائنس میں استاذ محمد فراز الدقر مصری  کے تجربات بیان کرتے ہنں زیتون کا تیل اور شہد ملا کر لیموں کے عرق میں گھول کر پلانا گردے کی پتھری مین بہت مفید ہے۔ شدید زکام میں نیم گرم پانی میں لیموں food poisoningنچوڑ کر پلانا مفید ہے۔ طبِ نبوی کے مشہور مرتب علی علاءالدین الکحال نے شہد کو اسہال کے علاوہ غذائی سمیت مفید قرار دیا ہے۔ مصری طبیب دکتور عزہ مریدن نے شہد کو  عمدہ دوااور طبیعت مین لطافت پیدا کرنے والی قرار دیا ہے۔ استاذ محمد فراز الدقر نے اپنے مقالہ الاستشفا بالعسل فی امراض جھاز الھضم میں اسے امراضِ بطن کیلیے اکسیر قرار دیا ہے۔ (طبِ نبوی اور جدید سائنس جلد۱ صفحہ ۱۸۷)

          حضرتِ عمرؓکے بارے میں آ تا ہے کہ اُن کے بدن پر اگر پھوڑا بھی نکل آتا تو اس پر شہد کا لیپ کرکے علاج کرتے، بعض لوگوں نے وجہ دریافت کی تو فرمایاکہ الله تعالیٰ نے اس کے متعلق یہ نہیں فرمایا : فِیہِ شِفآءٌ لِّلنَّاس․ (النحل:۶۹) ترجمہ: اس(شہد)میں لوگوں (کی بہت سی بیماریوں)کے لیے شفا ہے ۔ (معارف القرآن(۵:۳۵۳)

وعن عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمُ الشِّفَاءَ فَلْيَكْتُبْ آيَةً مِنْ كِتَابِ اللَّهِ فِي صَحْفَةٍ، وَلْيَغْسِلْهَا بِمَاءِ السَّمَاءِ، وَلْيَأْخُذْ مِنِ امْرَأَتِهِ دِرْهَمًا عَنْ طِيبِ نَفْسٍ مِنْهَا، فَلْيَشْتَرِ بِهِ عَسَلًا فَلْيَشْرَبْهُ كذلك فَإِنَّهُ شِفَاءٌ، أَيْ مِنْ وُجُوهٍ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: {وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ ورحمة للمؤمنين}، وقال: {وَأَنزَلْنَا مِنَ السمآء مآء مباركا}، وَقَالَ: {فَإِن طِبْنَ لَكُمْ عَن شَيْءٍ مِّنْهُ نَفْساً فَكُلُوهُ هَنِيئاً مريئا}، وقال في العسل: {فيه شفآء للناس}(مختصر تفسیر ابنِ کثیر للصابونی ص ۳۳۷ج۲)

سیدنا علی کرم اللہ وجہہ  سے نقل کیا گیا ہے کہ ہے تم میں سے جو  شفا    حاصل کرنا چاہے وہ ایک صفحہ پر قرآنِ کریم کی کوئی آیت لکھے پھر اسے بارش کے پانی سے دھو دے۔ پھر اپنی بیوی کی خوشی سے اس سے ایک درہم (روپے)لے کر شہد خریدکر اسی طرح پی لے کیونکہ یہ شفا ہے کئی وجوہات کی بنا پر ۔ وہ وجوہات یہ ہیں:اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:  اور ہم وہ قرآن نازل کر رہے ہیں جو جو مومنوں کیلیے شفا اور رحمت  کا سامان ہے،اور ارشاد ہے:اور ہم نے آسمان سے آسمان سے برکت والا پانی اتارا، اور ارشاد ہے:ہاں اگر وہ خوداس کا کچھ حصہ خوش دلی سے چھوڑ دیں تو اسے خوشگواری اور مزے سے کھا  لو، اور شہد کے بارے میں فرمایا: اس مین لوگوں کیلیے شفا ہے۔

ْقرآنِ حکیم  شہد کی   جن صفات کا پتہ بتلا رہا ہے اور حدیثِ  پاک سے  جس کا ثبوت ہے اس کی تائید طبِ قدیم و جدید سے بھی ہوتی ہے۔ ذیل میں ہم  نبیء اکرم ﷺکے تجویز کردہ نسخہء شفا یعنی شہد  کے متعلق  کچھ سائنسی تحقیقات و تجربات ذکر کرتے ہیں:

 جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق شہد  کھانے سے قوت  یادداشت پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ شہد دماغی قوت کیلیے مفید ہے ۔ اس کی وجہ شہد کی وہ خاصیت ہے جو کھانے کو درست رکھتی ہے

ڈاکٹرخالد غزنوی لکھتے ہیں کہ امتحان کے دنوں میں دو طالبعلموں کو شہد پلایا گیا ۔ اس سے وہ زیادہ دیر تک پڑھ سکے اور ان کی یادداشت اعتدال سے بہتر رہی۔ (طبِ نبوی اور جدید سائنس ص ۱۸۶ج ۱)

پیٹ کے امراض میں شہد کی افادیت    عوام و خواص میں مسلم ہے۔ نبی ءاکرم ﷺکی حدیث پیچھے گزر چکی ہے جس میں آپ ﷺنے پیٹ کی تکلیف کیلیے شہد تجویز فرمایا اور باربار پلوایا۔

معدہ کی تیزاببیت اور زخم (السر) آج کی بکثرت پائے جانے والی بیماریوں میں سے ایک ہیں۔ ان کی علامات میں سے معدہ اور سینہ کی جگہ پر جلن،منہ می کڑوا پای،کھٹے ڈکار شامل ہیں۔ اس کیلیے کئی قسم کے سیرپ،اور دوائیان وغیرہ دستیابب ہین۔ اور مزید تحقیقات ھی جاری ہیں۔ تحقیق سے ثابی ہو ثکا ہے کہ شہد معدہ کے السر کیلیے مفید ہے۔

بیکٹیریا کو مارنے کیلیے  بھی شہد مفید ہے۔ اسی لیے شہد مدرجہ ذیل مقاصد مین کار آمد ہے:

زخم کے مندمل ہونے میں

جلی ہوئی جلد کو ٹھیک کرنے میں

(Comparative gastroprotective effects of atural honey Nigella Sativa ad Cimetidine. ,Joural of CPSP,Vol 21(3),P:154)

ذیا یطس کا  مرض اب کئی امراض کا مجموعہ ہے۔ اس کی وجہ جسم میں انسولین کی مقدار کا کم ہونا ہے جس کی وجی سے خون می شکر کی مقدار حد سے زیادہ ہو جاتی جو نقصان دیتی ہے۔ شہد کو ج تجراتی طور پر شوگر کم کرنے ولی ادویہ کے ساتھ ملاکر دیا گیا تو خو ن میں انولی کی مقدار بڑھ گئی جس کے نتیجے مین شوگر کم ہوگئی۔ لہذا شہد دیگر دواٗں کے ساتھ دینے سے ذیا بیطس پر قاببو پاننے می بڑی مدد ملتی ہے

(Omotayo O Erejuwa,Effects of Honey in Diaetes Mellitus,Joural of Diabetes ad Metabolic Disorders 2014,13:23,)

اسہال کی وجہ سے جسم میں نمکیات کی کمی ہو جاتی ہے جس کے تدارک کیلیے  نمکول یااو۔ آر۔ ایس  دیا جاتا ہےجس میں  شوگر (چینی) بھی شامل ہوتی ہے۔ تجربہ سے معلوم ہوا کہ   شہہد شوگر کی جگہ بہتر متبادل ثابت ہوا۔ اس کی وجہ  شہد کی اینٹی بیکٹیریل یعنی بیکٹیریا کو مار دینے والی خاصیت ہے۔

J Med Food,2010,Iun,13(3):605-9

        شہد کے اجزا میں فلورائیڈ بھی شامل ہے جو دانتوں کو خرا ب ہونے سے بچاتا ہے۔ امریکہ کے ڈاکٹر میکلیڈن  نے چائے میں شہد ملا کر پینا تجویز کیا ہے تاکہ دانتوں  کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ چونکہ شہد جراثیم کش ہے لہٰذا شہد کے استعمال سے منہ کی صفائی بھی حاصل ہوتی ہے۔

خون  کی کمی دور کرنے میں شہد کا خاص عمل ہے۔ حاملہ خواتین میں ہیمو گلوبن کی کمی کے نتیجے میں واقع ہونے والے انیمیا  (خون کی کمی)کو دفع کرنے کیلیے فولک ایسڈ دی جاتی ہے۔ شہد کے ذریعے خون کی کمی کی مختلف  قسموں پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ شہد خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھا کر  خون کی کمی دور کرتا ہے۔

(Neutraceutical values of natural  honey,J of Nutririon & Metabolism,2012,9:61)

جواب دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا