طالبان: پرچمِ توحید کو پھر سے اٹھاکر آگئے

شیطان بزرگ امریکہ کی سب سے بڑی شکست

سید فاروق احمد سیدعلی

 افغان طالبان 20 برس بعد دوبارہ افغانستان پر پوری طرح سے قابض ہوگئے ہیں اورامریکی چاٹوکر صدر اشرف غنیاور اسکے حوارین ملک چھوڑ کر فرار ہوگئے ہیں بتایا جاتا ہے کہ وہ ایران یاتاجکستان فرار ہوگیا ہے۔ جانے سے قبل صدراشرف غنی نے کہا کہ طالبان جیت گئے او ر ہم ہارگئے ہیں۔ یہ خبر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر طالبان کی اس جیت کوبہت سارے صارفین صحابہ کی قیصر وکسری پر حاصل کی گئی فتح سے مشابہ قرار دے رہے ہیں۔ کسی نے انس بجنوری کی طالبان کی کامیابی پر لکھی گئی نظم کو شیئر کیا:

آبرو ماؤں کی یارو! ہم بچاکر آگئے

اپنی سرحد سے درندوں کو بھگاکر آگئے

حق کا نعرہ آسماں پر ہم لگاکر آگئے

پرچم توحید کو پھر سے اٹھاکر آگئے

توڑ ڈالا کفر کے ایوان کو افغان میں

نغمہ الاللہ کا سب کو سناکر آگئے!

لشکرِ باطل کو حیران و پریشاں کردیا

خنجر اسلام سے ہم خوں بہاکر آگئے

کوہ کے دامن میں پھیلایا نظامِ مصطفی

نقش باطل کو پہاڑوں سے مٹاکر آگئے

حق کے آگے کفر کا لشکر ٹھہر سکتا نہیں

یہ حقیقت ہم زمانے کو بتاکر آگئے!

دین کی خاطر کیا قربان اپنا مال و زر

اپنا سب کچھ راہِ حق میں ہم لٹاکر آگئے

ہم نے سینچا ہے یہاں کی سرزمیں کو خون سے

خاک میں اپنے جوانوں کو چھپاکر آگئے

آخر کار طالبانیوں نے کر دکھایااور اپنی جرأت وہمت کے آگے امریکنس اور یہودیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔خیر امریکی چاٹوکروں کو جس بات کا ڈر تھا اور جس بات کا خدشہ تھا وہی ہوگیا۔ امریکی افواج کے فرار کے بعد وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ طالبان نے کابل پر بھی قبضہ کرکے ملک کا نقشہ ایک بار پھر بدل دیا۔اور امن وامان کی پھر سے واپسی کردی ہے۔۔امریکی انٹلی جینس نے پچھلے ہفتے اس بات کا اندازہ ظاہر کیا تھا کہ اگلے نوے دنوں میں طالبان کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں لیکن آج اتوار کو ایک ہفتےمیں ہی طالبان نے بغیر کسی مزاحمت کابل پر قبضہ کر لیا۔مگر اس مرتبہ طالبان کا انداز اور مزاج بظاہر بدلا ہوا ہے۔

طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں داخلے سے قبل افغان حکومت کے ساتھ ساتھ اتحادی افواج کے لیے بھی کام کرنے والوں کے لیے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے مال و جان کی حفاظت امارات اسلامی افغانستان کی بنیادی ذمے داری ہے۔۔۔طالبانیوں نے کہا کہ ہم کسی کے بھی دشمن نہیں ہے پوری دنیا میں ہماری شبیہ خراب کی گئی ہے۔ ہم نے عام معافی کا اعلان اسی لیے کیا ہے کہ تاکہ پوری دنیا کو معلوم ہوسکے کہ طالبان دہشت گرد قوم نہیں ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے دشمنوں نے ہمیں بدنام کیاہم پر ایک پوری منصوبہ بند سازش کے تحت جنگ تھوپ دی گئی لیکن ہم نے آپس میں اتحاد کا مظاہرہ جیسے ہمیشہ کرتے آئے ہیں ویسے ہی اس بار بھی اتحاد اوراتفاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی چوہوں کو ہماری سرزمین سے بھگانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے۔ طالبانیوں نے کہا کہ ہم نے علی الاعلان معافی کے اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ جس کو اگر شریعت پسند ہے تو وہ یہاں رہ سکتا ہے ورنہ وہ ملک چھوڑ کر جاسکتا ہے۔ ہم کسی کو بھی زبردستی رہنے کے لیے اور شریعت پر پابندی کرنے کے لیے مجبور نہیں کریں گے۔

افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم پہلے بھی کسی کو شریعت پر پابندی کے لیے نہیں اکسایا کرتے تھے اور آج جب کہ ملک کی باگ دوڑ دوبارہ ہم نے سنبھال لی ہے تب بھی ہم یہ علی الاعلان کہتے ہیں کہ آپ اپنی مرضی سے یہاں رہ سکتے ہیں یا ملک چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ ترجمان نے مزید کہا کہ اشرف غنی کہتا ہے کہ ہم ملک میں خون خراب روکنے کے لیے ملک چھوڑ کر چلے آئے ہیں جبکہ اصل بات یہ ہے کہ اشرف غنی اوراس کے حوارین اس ملک کو ننگے پن اور جمہوریت کے دوغلے وعدوں کے درمیان دکھیل دینا چاہتےتھے اور ایک ایسا ملک بنانا چاہتے تھے جہاں انصاف نہیں فیصلے کئے جاتے ہوں۔

طالبان نے امریکی عوام کے نام ایک کھلا خط بھی لکھا اور یہ کہا کہ طالبان اسلامی تعلیمات کے مطابق خواتین کے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنائیں گے۔ ہم خون خرابہ نہ پہلے چاہتے تھے اور نہ اب چاہیں گے۔ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ گزشتہ 19 سال کی جنگ نے یہ ثابت کیا ہے کہ افغان تنازع کو طاقت کے بل بوتے پر حل نہیں کیا جا سکتا، جب کہ اس جنگ نے نہ صرف افغان عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے بلکہ امریکہ کو بھی بھاری جانی اور مالی نقصان اُٹھانا پڑا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ ہر قوم یہ چاہتی ہے کہ وہ ہر قسم کے بیرونی خطرے، دھمکیوں اور مداخلت کے بغیر اپنی اقدار اور رسوم و رواج کے مطابق زندگی گزارے۔ لہذٰا گزشتہ 19 سال سے افغانستان میں جاری ہماری مزاحمت انہیں اُصولوں پر مبنی ہے۔طالبان نے امریکہ کو یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ افغان سرزمین کو امریکہ یا اس کے اتحادی ملکوں کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ طالبان نے یہ بھی یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ القاعدہ سمیت افغانستان میں دیگر دہشت گرد گروپوں سے روابط بھی نہیں رکھیں گے۔اسی موقع پر حاجی حکمت کہتے ہیں کہ ’ہم ہر چیز کے لیے تیار ہیں۔ ہم امن کے لیے تیار ہیں اور ہم جہاد کے لیے بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔ ‘ ان کے ساتھ بیٹھے ایک فوجی کمانڈر کہتے ہیں کہ ’جہاد عبادت کا ایک عمل ہے۔ اور عبادت ایک ایسی چیز ہے کہ آپ اسے جتنا بھی کریں ، آپ اس سے تھکتے نہیں۔

وہیں امریکن اور بھارتی گودی میڈیاچاٹوکر میڈیا یہ بے بنیاد خبریں پھیلارہا ہے کہ افغانستان کے شہری خوف وحراس میں آگئے ہیں کہ اب طالبانی اپنا جابرانہ نظام مسلط کردیں گے جس میں خواتین کے حقوق سلب ہوجائیں گے۔ قتل وغارت گری پھر سے عام ہوجائے گی۔افراتفری عام ہوجائے گی۔لوگوں کا جینا مشکل کردیاجائے گا۔ اور چاٹوکر میڈیا دن رات یہ راگ الاپ رہا ہے کہ اب دہشت گرد پھر سے پوری دنیا پر قابض ہوجائیں گے اور وہ اپنا دہشت گردانہ نظام نافذ کرکے رہیں گے۔جبکہ طالبانیوں نے اس بات کی نفی کی ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہونے والا ہے پہلے جیسا تھا اس سے بہتر افغانستان اب پوری دنیا کو دیکھنے ملے گا۔

لیکن ناظرین ایک بات یہاں یہ سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ طالبان کا دوبارہ اپنی زمین امریکی دہشت گردوں سے چھیننے کے بعد دیگر ملکوں کی تنبو میں گھبراہٹ کیوں ہیں۔ دیگر ملک کی باگ دوڑ جن شرپسند سیاسی پارٹیو ں کے ہاتھوں میں ہیں جو ہر پل ہر لمحہ اسلام او رمسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی فکر میں رہتے ہیں آج طالبان کے دوبارہ افغانستان پر قابض ہونے سے ان کی زبانیں ہی بدل گئی ہیں ان کے لہجے بدل گئے ہیں مسلمانوں سے ان کو اچانک اتنی ہمدردی کیوں ہوگئی ہیں کبھی عید اورمسلمانوں کے تہواروں پر ان کے آقا مبارکباد نہیں دیتے تھے آج ٹویئٹر پر وہ مسلمانوں سے ہمدردی کی باتیں کرنے لگے ہیں تہواروں کی مبارکبادیاں دینے لگے ہیں۔ اب کشمیر کو آزاد کرنے کی بات کرنے لگے ہیں۔ ادھر اسرائیل بھی پریشان ہوچکا ہے کہ کیونکہ امریکہ جیسی فوج جو ۲۰ سال تک افغانستان کا بال بھی بیکا نہیں کرسکا بھلا ان کا مقابلہ اسرائیل کہاں سے کرسکتا ہے اس لیے طالبانیو ں کو مذاکرات کی پیش کش کردی گئی ہیں۔

خیر جو کچھ بھی ہوقارئین یہ بات تو طئے ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ کے قانون اور اس کے رسول کی تعلیمات کو نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے اور صرف وحدہ لا شریک کی بات کرتا ہے اللہ ایسی قوموں کی ہیبت دیگر کفار اور مشرکین کے دلوں میں ڈال دیتے ہیں اور پھر وہ ہیبت اور دہشت کے مارے صرف اپنی جان بچانے کو ترجیح دینے لگتے ہیں۔ اور آج جس طرح سے طالبان فاتحانہ انداز میں پورے افغانستان پر دوبارہ قابض ہوگئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ اب دنیا کے حالات بہت جلد کروٹ لینے والے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل جیسے دہشت گردوں کی اب بہت جلد اینٹ سے اینٹ بجنے والی ہیں۔ لہذا یہ سبق ہے ان ظالم حکمرانوں کے لیے کہ اگر ظلم وزیادتی کروں گے تو اللہ تم پر تم سے بہتر اور جاندار اور شاندار لوگوں کو نافذ کرے گا اور تمہارے ظلم کو ملیا میٹ کردے گا۔

اللہ سے دعا ہے کہ اللہ سارے عالم کے مسلمانوں کی جان مال عزت وآبرو کی حفاظت فرمائے۔ مسلمانوں کوعقل سلیم اور شعور و آگہی دے۔ پوری دنیا میں امن وامان اور خوشحالی کا دوردورہ کردے۔ اور آپ تمام کواپنی حفظ وامان میں رکھتے ہوئے تمام کا خاتمہ بالخیر کریں۔ بولا چالا معاف کرا۔۔۔۔زندگی باقی توبات باقی۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


تبصرے بند ہیں۔