Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
دنیا بھی عارضی ہے مسکن بھی عارضی ہے - مضامین ڈاٹ کام

دنیا بھی عارضی ہے مسکن بھی عارضی ہے

عمران عالم

دنیا بھی عارضی ہے مسکن بھی عارضی ہے

سانسوں کی انجمن میں گلشن بھی عارضی ہے

۔

کرتا ہوں عرض سن لو ارض و سما کے باسی

عارض کی عارضی بھی دھڑکن بھی عارضی ہے

۔

نکلے ہیں جب سفر میں چھانیں گے خاک صحرا

رہبر کی کیا ضرورت رہزن بھی عارضی ہے

۔

بے ساختہ لبوں سے کچھ پھول جھڑ گئے ہیں

معلوم تھا مجھے بھی سوزن بھی عارضی ہے

۔

شمعیں جلاؤ یا پھر قلب و جگر جلا دو

صورت ملے تو کیوں کر؟ درپن بھی عارضی ہے

۔

بادل کے درمیاں سے کرنیں جو آرہی ہیں

عالم سمجھ بھی جاؤ روزن بھی عارضی ہے

تبصرے بند ہیں۔