فیشن نے کیا عجیب لبادہ بنا دیا

عبدالکریم شاد

فیشن نے کیا عجیب لبادہ بنا دیا

لیلی کو قیس، قیس کو لیلی بنا دیا

…

انسانیت کو سود کے سانچے میں ڈھال کر

اس دور کی مشین نے کیا کیا بنا دیا

…

فرعون ڈوب جاتے ہیں اپنے غرور میں

ورنہ خدا نے بحر میں رستا بنا دیا

…

عرفان ہو سکا نہ خدا کا تو کیسا علم

عینک نے آنکھ والوں کو اندھا بنا دیا

…

 دیکھو تو ان کے ذکر سے نالاں ہے لفظ لفظ

کچھ سرخیوں نے جن کو مسیحا بنا دیا

…

ہر صبح جاگنے پہ مجھے آتا ہے خیال

میں مٹ گیا تھا کس نے دوبارہ بنا دیا

…

ان رنگتوں کو دیکھ کے مانوں میں کس طرح

خالق نے کائنات کو بے جا بنا دیا

…

دنیا نے مجھ میں رنگ بھرے کیسے اے خدا!

میں شاہ کار تھا مجھے یہ کیا بنا دیا

تبصرے بند ہیں۔