لکھ رہا ”سین” ہوں سامانِ سفر کیسا ہے؟

محمد ارباز

 لکھ رہا ”سین” ہوں سامانِ سفر کیسا ہے؟

یہ جو ”یا” ہے اُس کا یہ ہُنر کیسا ہے؟

…

اُلفتِ راہ میں ہر بات نِرالی ہے مگر

وہ ”الِف” حرف کا اندازِ اثر کیسا ہے؟

…

وہ جو جس ”سین” میں سَنسکار کی سمجھ نہ ہو

بِنا پَھل پُھول کے لگتا وہ شَجر جیسا ہے

…

”ت” ترتیب و تہزیب و تمیزوں سے بَھرا

جس میں یہ فَن نہ ہو اُجڑے بشر وہ جیسا ہے

…

مِل کے بنتا ہے جہاں لفظِ ”سیاست” اربــاز

سوچ؟ اب اِس لفظ پہ لوگوں کا قہر کیسا ہے؟

…

اے میرے محترم ! تاریخِ وفا پڑھ تو سہی

آنکھیں نَم ہی رہی لوگوں پہ وہ عُمر کیسا ہے؟

تبصرے بند ہیں۔