خصوصیطب

یوم طب یونانی اور طب یونانی کی موجودہ صورت حال

طب یونانی کا دن ضرور منائیے مگر طب یونانی کے زوال کے اسباب اور اس کی ترقی کے امکانات پر بھی سوچئے

ڈاکٹر خالد اختر علیگ

گزشتہ کئی سالوں سے ۱۱ فروری کو ملک بھر میں طب یونانی کی عبقری شخصیت حکیم اجمل خاں کے یوم پیدائش کو یوم طب یونانی کے نام سے منایا جارہا ہے۔ حکیم اجمل خاں ایک اساطیری شخص تھے جن میں طبابت،خطابت،شاعری ،قیادت اور حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ ایسے فرد تھے جنہوں نے مسلم لیگ کے قیام میں حصہ لیا ،خلافت تحریک کی قیادت کی ،کانگریس کے صدر رہے ،یہاں تک کہ ہندو مہاسبھا نے اپنے دہلی اجلاس کی انتظامی کمیٹی کی صدارت بھی انہیں سونپی،انہیں ہندو مسلم اتحاد کا عظیم نمائندہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ایک بات جو انہیں ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ ہمہ تن مصروفیت کے باوجود انہوں نے طبابت کو نہیں چھوڑا،انہوں نے نہ صرف ذاتی مطب کیا بلکہ ہندوستانی طبوں یعنی یونانی اور آیوروید کی بقا کے لئے جدو جہد بھی کی اور ان کے معالجین کو متحد کیا۔ انگریزی حکومت کے ذریعہ ہندوستانی طبوں کے خلاف کی جانے والی سازشوں کی کھل کر مخالفت کی اور اسے دیسی طبوں کی افادیت تسلیم کرنے پر مجبور کردیا۔ دہلی میں یونانی اور آیورویدک طبیہ کالج نیز ہندوستان کا پہلازنانہ طبیہ کالج قائم کیا۔ انہوں نے طب یونانی میں جدید طریقہ کار کے مطابق تحقیق کی کوششیں کی جس کی ایک اہم مثال اسرول نامی بوٹی کے اجزاءکا الگ کیا جانا ہے۔ اس بوٹی کا ایک جز سرپنٹین ایک طویل عرصہ تک ہائی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے لئے استعمال کیاجاتا رہا اسی طرح اس کا ایک جز اجملین کے نام سے موسوم کیا گیا جوقلب کی رفتار کو قابو میں رکھنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ حکیم اجمل خاں یونانی طب کے اصولوں کو مسلم رکھتے ہوئے اس میں جدید طریقہ سے تحقیق کے متمنی تھے۔ لیکن ان کے بعد طب یونانی میں تجدد پسندی کو رد ّ کردیا گیا۔ تحقیق کا اجملی اسلوب ختم ہوگیا۔

ملک کی آزادی کے بعد دیسی طبوں کی ترقی کے لئے راہیں ہموار ہوئیں ،گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ سطح کے تعلیمی ادارے بھی وجود میں آئے۔ طب یونانی کے تحقیقاتی مراکز بھی قائم ہوئے ان سب کے باوجود یونانی کو وہ مقام جو اسے ایک صدی پہلے حاصل تھا نہیں مل پایا۔ آیوروید نے اس موقع کا خوب فائدہ اٹھایا اور اپنی تحقیقات کوجدید اصولوں پر آگے بڑھایاجس کی وجہ سے اسے اب عالمی سطح پر ایک متبادل طب کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ کہنے کو تو یونانی طب میں بھی تحقیق ہورہی ہے مقالوں پر مقالے تحریر کئے جارہے ہیں لیکن کوئی نئی چیزنکل کر سامنے نہیں آرہی ہے جو یہ ثابت کرسکے کہ طب یونانی میں ایک نیا اضافہ ہو ا ہے۔ طبی تعلیمی اداروں میں تعلیمی نصاب یونانی اور جدید طب کا ایک ایسا معجون مرکب بن چکا ہے جسے استعمال کرنے کے بعد مرض کی ماہیت ہی بدل جاتی ہے۔ طب کے یونانی نصاب میں جو نسخہ جات پڑھائے جاتے ہیں ان کی افادیت کا علم صرف متقدمین کی کتابوں میں ہی ملتا ہے ،ان کے سلسلے میں کوئی نئی تحقیق شامل نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ طب یونانی کے فارغین ایلوپیتھی علاج کرنے لگتے ہیں۔

جب وسائل کم تھے اور تدریس کے اعلیٰ ذرائع مفقود تھے اس زمانے میں ایسے عظیم حکماءہمارے ملک میں پیدا ہوئے جن کی طبابت کے قصے آج بھی اہل علم کی محفلوں میں سننے کو مل جاتے ہیں۔ لیکن آج تعلیم کے وسائل بہت زیادہ ہیں مگر طبی تعلیمی اداروں سے ایسے حکیم نہیں نکل رہے جو اپنی طبابت کا لوہا منواسکےں۔ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے ؟یہ ایسا سوال ہے جس پر طب یونانی کے معالجین اور اساتذہ کو سوچنے کی ضرورت ہے۔

ایلوپیتھ یا جدید طب نے ڈیڑھ صدی کے اندر صحت کے میدان میں ایسا انقلاب پیدا کیا جس کی نظیر نہیں ملتی۔ اس نے مریض کی سہولیات کو اولیت دی۔ ٹکنالوجی سے ہاتھ ملاکرایسی ایجادات کیں جو مرض کی تشخیص میں معاون ہوئیں۔ ایلوپیتھ میں تحقیق ایک مسلسل سفر ہے۔ ان کے یہاں تحقیق کا ایک کھلا میدان ہے جس پر وہ تندہی سے کام کرتے ہیں اور اپنی تحقیقات کو منظر عام پر لاتے ہیں۔ لیکن طب یونانی میں ابھی تک ایسا تحقیقی مزاج پروان نہیں چڑھ پایا ہے جس سے کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے آتا ہو۔ پوسٹ گریجویٹ سطح پر ہونے والی تحقیقات کسی ایسے نئے عنوان پر نہیں ہورہی ہیں جو اس قدیم طب کو عالمی سطح پر کھڑا کرنے میں معاون ثابت ہو۔ دعوے تو بہت کئے جاتے رہے ہیں مگر ان کی حقیقت کیا ہے وہ ذہن سے پرے ہے۔ کم و بیش دوسال پہلے ایک سینئر پروفیسر نے ذیابیطس کی ایک ایسی یونانی دوا بنانے کا دعویٰ کیا تھا جو کہ انسولین کے افراز کوبڑھا کر خون میں شکر کی سطح کو متوازن رکھے گی اور انسولین پیدا کرنے والے خلیات کی مرمت کرکے انہیں طبعی صورت میں بحال کردے گی جس کے بعد ذیابیطس کا خاتمہ ہوجائے گا۔ ان کے اس دعوے کی تشہیر کئی ہندی روزناموں میں کچھ دنوں تک ہوتی رہی لیکن ایک سال گزر جانے کے بعد بھی وہ دوا بازار میں نہیں آسکی۔ اسی طرح ایک مشہورطبی ادارے میں ۲۰۱۰ءکے آغاز میں نبض شناسی کے آلہ کو تیار کرنے کے لئے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیاجس کا نتیجہ کیا نکلا یہ ابھی تک معلوم نہیں ہوپایا۔

فی زمانہ جدید طب نے ٹکنالوجی کی مدد سے مرض کی تشخیص کے تمام تر اسباب مہیا کر دئے ہیں۔ اب دیگر طبی نظاموں کے ماہرین کے لئے مرض کی تشخیص کوئی مسئلہ نہیں رہ گیا۔ اگر کوئی مسئلہ ہے تو ان امراض کے شافی علاج کا۔ جسے تلاش کرنے کی ذمہ داری طب کے دیگر نظاموں پر عائد ہوتی ہے۔ لیکن اس سمت میں طب یونانی میں افسردگی کی کیفیت ہے۔ ذیابیطس،ہائی بلڈ پریشر،کینسر ،دمہ ،جوڑوں کے امراض آج کی برق رفتار زندگی میں ایک بڑا چیلنج بن کر ابھر رہے ہیں جس کوجدید طب بھی قابو کرنے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ طب یونانی کے خزانے میں ایسے نسخہ جات اور ادویات ہیں جو ان امراض کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں لیکن ابھی تک یہ کوئی سنجیدہ موضوع نہیں بن پایا ہے۔ بچوں کے امراض پر بھی کوئی خاص کام نہیں ہورہا ہے ،نہ ہی ایسی دوائیں تیار کی جارہی ہیں جو ان کی عمر،ذوق اور معیار کے مطابق ہوں۔ میرے ایک شناسا نے بتایا کہ ان کے ایک دوست جو یونانی کے ایک ادارے میں علم الادویہ میں ایم ڈی کا کورس کررہے تھے انہوں نے اپنے شعبہ کے صدر سے یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ بچوں کے معیار اور ذوق کے مطابق دواؤں کی تیاری پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کے شعبہ کے صدر نے انہیں اس موضوع پر کام کرنے نہیں دیا۔ یہ سوچنے کا مقام ہے کہ ہمارے یونانی کے تحقیقی ادارے جب مناسب سمت میں کوئی تحقیقی پیش رفت نہیں کررہے ہیں تو کیا صرف سینا،رازی جیسے عظیم حکماءکا نام رٹ لینے سے طب یونانی کی ترقی ہوجائے گی۔

طب یونانی کا دن ضرور منائیے مگر طب یونانی کے زوال کے اسباب اور اس کی ترقی کے امکانات پر بھی سوچئے اور اس کے لئے عملی اقدامات کیجئے۔ کوئی بھی طب اسی وقت مقبول ہوسکتی ہے جب وہ مریض کے جذبات اور اس کی سہولیات کو مقدم رکھے۔ ایسی دوائیں بنائی جائیں جن کی دستیابی ممکن ہو اوران کا استعمال کرنا آسان ہو۔ یہ بات بھی واضح رہنی چاہئے کہ طبی نسخہ جات سینوں میں بند کرنے کے لئے نہیں ہوتے بلکہ ان کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طب کے طلبہ کی بدنصیبی ہے کہ ان کوایسے اساتذہ میسر نہیں ہیں جو انہیں اپنے مجرب نسخہ جات سے رو برو کر سکیں ،حقیقت تو یہ ہے کہ چندمشفق اور صاحب ایثار اساتذہ کو چھوڑ دیا جائے تو بیشتر اساتذہ اپنا علم طلبہ کو نہیں دینا چاہتے۔ تاریخ شاہد ہے کہ جو بھی علوم سینوں میں بند رہتے ہیں اور ان کے دروازے نہیں کھلتے وہ دفن ہوجایا کرتے ہیں۔ اور دفینے تو صرف عجائب گھروں کی زینت بننے کے لئے ہوتے ہیں۔

مزید دکھائیں

خالد اختر علیگ

ڈاکٹر خالد اختر علیگ معالج اور آزاد کالم نویس ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close