آج کا کالم

عالمِ اسلام کا مستقبل اور تحریکِ اسلامی

اُمتِ مسلمہ بھی ایک انسانی گروہ ہے۔ اس کی رہنمائی کافریضہ، تحریک اسلامی کے سپرد ہے۔ چنانچہ تحریکِ اسلامی کو اپنے اندر بلند حوصلگی اور عالی ظرفی کی صفات پیدا کرنی ہوں گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اسلام کے نقطہ نظر کا مستند فہم، علمبردارانِ تحریک کو حاصل ہو اور وہ حالات کا تجزیہ اس فہم کی روشنی میں کرسکیں۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج امتِ مسلمہ مختلف عصبیتوں کا شکار ہے، جو قومی و وطنی بھی ہیں ، قبائلی اور نسلی بھی اور مسلکی، فرقی و جماعتی بھی۔ ان حالات میں تحریکِ اسلامی کا ایک اہم کام یہ ہے کہ عصبیتوں سے مسلمانوں کو نجات دلائے، جائز اختلافات کو عصبیت بننے سے روکے اور دین کی بنیاد پر مسلمانوں کو یک جہتی، اتحاد، اجتماعیت اور اشتراکِ عمل پر آمادہ کرے۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے یہ بہرحال ناگزیر ہے کہ تحریکِ اسلامی خود اپنے بارے میں چوکنّی رہے اور اپنے دامن کو کسی عصبیت سے آلودہ نہ ہونے دے۔ اس کا مقام تقاضا کرتا ہے کہ قرآن و سنت فی الواقع اس کی اساسِ کار ہوں، اُن کے دائرے کے اندر وہ تمام اہلِ ایمان کا یہ حق تسلیم کرے کہ وہ اخلاص کے ساتھ، علم کی روشنی میں قرآن و سنت کا مفہوم سمجھنے کی کوشش کریں۔ تحریکِ اسلامی کو ایسے رویے سے اجتناب کرنا چاہیے، جو اُسے ایک مسلک یا محدود مکتبِ فکر بنادے۔ اس کے دامن میں وہی وسعت ہونی چاہیے جو خود اسلام کے آفاقی تصور میں پائی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

گجرات: بابا کا زہر پپو کا قہر

اِ دھر مودی جی لوٹے اُدھر راہل جی پہنچے اور انہوں نے ایک ایک کرکے وزیراعظم کے بخیے ادھیڑ دیئے لیکن ایک بیان میں چوک گئے۔ راہل نے کہا گجرات  کا وکاس جھوٹ سن سن کر پاگل ہوگیا ہے۔ یہ بات درست نہیں بلکہ سچ تو یہ ہے کہ گجرات کا وکاس جھوٹ جھوٹ بول کر پگلا گیا ہے۔ اس کا منہ بولتا ثبوت وزیراعظم کی ذاتِ گرامی  قدرہے  جو اپنے اسکول کی خاک اٹھا کر اپنے سر پر ڈالتی ہے اور اس کی ویڈیو عوام میں پھیلاتی  ہے۔ واد نگر میں  جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ ’’میں نے وادنگر سے اپنا سفر شروع کیا اور اب کاشی پہونچ چکا ہوں ۔ وادنگر کی طرح کاشی بھی بھولے بابا کی نگری ہے۔ بھولے بابا کا آشیروادمجھے زہر پینے اور ہضم کرنے کی طاقت بخشا ہے۔ کاش کہ مودی جی اپنے جذباتی بیان میں  اس زعفرانی پریوار کو بھی خراجِ عقیدت پیش کرتے جس نے انہیں زہرافشانی  کا فن سکھاکر وارانسی سے  دہلی تک پہنچادیا۔ اس سے قبل مودی جی نے اعلان کیا تھا کہ دیوالی سے قبل دیوالی آگئی۔ یہ سچ ہے کہ امیت شاہ کے بیٹے اجئے شاہ کی دیوالی آگئی مگر عام لوگوں کا تو دیوالیہ پٹ گیا۔

مزید پڑھیں >>

کسانوں کی زندگی کتنی سستی؟

بھارت کی بے روزگاروں کے لئے ایک بہت ہی سادہ بات کہنا چاہتا ہوں. پہلے نوجوانوں کو اچھے اور مستقل اسکولوں سے محروم کرنا ان کو بے روزگار بننے کے قابل بنایا گیا ہے، پھر جب وہ کالج سے نکل کر کسی طرح کی لائق بن بھی جاتے ہیں تو پھراس بات کوشش کی جاتی ہے کہ وہ زندہ بےروزگار رہ رہیں. نوجوانوں کے ساتھ ساتھ ملک کے کسانوں کا بھی برا حال ہے. راجستھان، مڈل ریاست اور مہاراشٹر کی یوت مال میں کسانوں کے ساتھ جو ہوا ہے، اس پر بات کرنا چاہتا ہوں. دو ماہ سے وہاں کٹشنا شک سپرے کرنے کی وجہ 19 کاشت کار مر چکی ہیں. 25 کسانوں کی آنکھوں پر بہت خراب اثر پڑا ہے. تقریبا 700 کسانان یوت مال کے ہسپتالوں میں بھرتی ہیں اور زندگی اور موت کے درمیان جدوجہد کر رہے ہیں.

مزید پڑھیں >>

بھارتیہ جنتا پارٹی کا مورچے سے پیچھے ہٹنا شروع

بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ حکومت کے بارے میں یہ عام تاثر ہے کہ اس کی اقتصادی پالیسیاں امبانی اور اڈانی طے کرتے ہیں اور سیاسی پالیسیاں ناگپور میں آر ایس ایس کے کیمپ میں تیار ہوتی ہیں ۔ سیاسی مبصرین کا یہ بھی تاثر ہے کہ ان دونوں باتوں میں کہیں گٹھ جوڑ اور خفیہ سمجھوتا ہے جس کی وجہ سے آر ایس ایس نے بھی کھلے طور پر اقتصادی پالیسیوں کی مخالفت نہیں کی۔ اس کا کام دوسرے انجام دیتے رہیں تو آخر دشواری ہی کیا ہے۔ مگر ان دنوں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ پرانے لیڈر نریندر مودی حکومت کی کھلے عام مخالفت کرتے نظر آرہے ہیں ۔ یشونت سنہا اورارون شوری کی باتوں کو صرف نریندر مودی سے دیرینہ اختلاف کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ اتفاق سے دونوں افراد اٹل بہاری باجپئی کے زمانے میں بڑے منصب دار اور ان کی پالیسیوں کے لیے ذمے دار مانے گئے تھے۔ انھوں نے جو باتیں کہیں ان میں صرف نریندر مودی کی مخالفت اور امت شاہ یا اس حکومت کے کارپردازوں کو سبق سکھانے کا مقصد پنہاں نہیں بلکہ انھوں نے جو اعداد و شمار پیش کیے ہیں ان کی جانچ پرکھ شروع ہوچکی ہے اور اگر ان میں حقائق کی بنیادیں نہ ہوتیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ چند دنوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو اپنے کاموں میں بنیادی تبدیلی کرنے کی ضرورت پڑتی۔

مزید پڑھیں >>

مسلمانوں کا سیاسی رویّہ

 مسلمانوں کے سامنے وہ سوال دوبارہ اُبھر کرآگیا ہے جو آزادیِ مُلک کے بعد مسلسل اُن کے سامنے رہا ہے یعنی یہ کہ ہندوستان میں اُن کا سیاسی رویّہ کیا ہوناچاہئے؟ گرچہ اِس سوال کا یہ جواب بھی دیا جاسکتا ہے اور دیا بھی گیا ہے کہ مسلمانوں کو ’بحیثیت مسلمان‘ مُلکی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی رائے عامّہ کو یہ جواب مطمئن نہیں کرتا۔ بجا طور پر وہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ سیاست پر اثر انداز ہوناضروری ہے اِس لیے کہ سیاست اور سیاسی نظام کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ زندگی کے ہر گوشے کو متاثر کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کے اِس احساس کو درست تسلیم کرنے کے بعد دواہم سوالات پیدا ہوتے ہیں ۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ سیاست کو متاثر کرنے کی کوشش کے مقاصد کیا ہونے چاہئیں ۔ اس سوال کا جواب دینے کے لیے حالات کے ساتھ موجودہ نظام کی نوعیت اور خود مسلمانوں کی حیثیت کو سمجھنا ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

چیلنج کا اِدراک، سمتِ سفر کا شعور اور تجدیدِ عہد

 ہمارے ملک میں پائے جانے والے حالات کی مجموعی کیفیت کا ایک رخ افکار ونظریات ہیں۔ جہاں تک عام سماج کا تعلق ہے وہ شرک سے متأثر ہے نظامِ تعلیم پر بھی دیومالائی اثرات پائے جاتے ہیں لیکن نظامِ قانون وسیاست میں مغربی افکار کا رنگ نمایاں ہے۔ ذرائع ابلاغ میں کیفیت ملی جلی ہے، مشرکا نہ تصورات کے اثرات بھی محسوس ہوتے ہیں اورمغربی افکار کے بھی، ان کے درمیان فطری طورپر تصادم پایا جاتا ہے۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ان کے لیے شرک بھی ناقابل قبول ہے اور مغربی مادیت بھی۔ حکمت، صبر اور استدلال کے ساتھ شرک اور مادی افکار کی تردید اور ان کے بالمقابل تو حید اور وحدتِ بنی آدم کی جانب دعوت مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔ حالات نے اس ذمہ داری کی ادائیگی کو اور زیادہ ضروری بنادیا ہے۔ اسلام اور مسلم مخالف پروپیگنڈے کے باوجود حق کی دعوت کو عام کرنے کے راستے کھلے ہوئے ہیں۔ بلکہ بعض ذہنوں کو خود منفی پروپیگنڈے نے اسلام کی جانب متوجہ کیا ہے۔ دعوتِ حق کا کام سنجیدگی، منصوبہ بندی اور محنت کا طالب ہے۔ حالات کے اندر صحت مند تبدیلی لانے میں بنیادی رول دعوت کا ہے۔ اس سے غفلت برتی جائے تو کوئی اور کام اس کی تلافی نہیں کرسکتا۔

مزید پڑھیں >>

مجموعۂ اضداد ہے دنیا مرے آگے

وزارت داخلہ ان کو  پناہ گزین نہیں  بلکہ گھس پیٹھئے یعنی درانداز کے لقب سے یاد کرتی ہے لیکن یہ اصطلاح تبت یا سرلنکائی پناہ گزینوں کے لیے استعمال نہیں کی جاتی۔ اس کے برعکس وزارتِ خارجہ انہیں  پناہ گزینوں کی دیکھ بھال کرنے کے لیے بنگلادیشی حکومت کی تعریف کرتی ہے۔ یہ عجب تماشہ ہے کہ روہنگیا مظلو مین  جب اپنےمادرِ وطن سے نکل کر بنگلادیش پہنچتے ہیں تو  پناہ گزین  ہوتے ہیں لیکن  ہندوستان میں قدم رکھتے ہی  غیر قانونی گھس خور ہوجاتے ہیں۔ بنگلا دیش کے اندر چار لاکھ لوگوں کی آمد امن و سلامتی کو متاثر نہیں کرتی لیکن ہندوستان میں ان میں سے چالیس ہزار لوگ  خطرہ بن جاتے ہیں۔ پڑوسی ملک میں جو لوگ بے ضرر ہیں وہ اس سرزمین پر آتے ہی ضرر رساں کیسے   ہوجاتے ہیں اس سوال کا جواب تو کوٹلیا بھی نہیں دے سکتا؟ ملک کے مختلف حصوں میں منتشر ان لٹے پٹے لوگوں کو خطرہ بتاکر ہمارے سیاستدانوں نے ان قومی حفاظتی دستوں کی توہین کی ہے جوبنگلادیش کی بہ نسبت مقدار و معیار دس گنا  سے زیادہ لائق و فائق   ہے۔

مزید پڑھیں >>

امریکہ میں ایک اور خبط الحواس دہشت گردی

گیارہ ستمبر کے بعد امریکی تاریخ کا سب سے بڑاحملہ گزشتہ سال  جون میں اورلینڈو نائٹ کلب پر حملہ ہوا تھاجس میں 50 ہلاک اور 59 زخمی ہوئے۔ لاس ویگاس کے حملے نے وہ ریکارڈ توڑ دیا۔  اس بار 59 ہلاکتیں  اور 500  سے زیادہ زخمی ہوئے۔ اورلینڈوحملہ   ایک سنکی مزاج عمر متین  کی حرکت تھی اس لیے پولیس چیف نے اسے نفرت کا جرم  ( Hate Crime)قراردیا۔ سابق صدر اوبامہ نے ان  حادثات  کوبلا ثبوت مذہب سے جوڑنے کو غلط ٹھہرایا۔ حملہ آور کے والد صدیق میر کے مطابق  ان کے بیٹے کی ہم ہم جنسوں سے نفرت  کلب پر حملےکا سبب بنی۔ امریکہ کے دستور میں اگر چہ  تعدد ازدواج  پر پابندی  ہے مگرہم جنس پرستوں کو شادی کی اجازت ہے۔ عوام  کی ایک بڑی تعداد لوطیتسے نفرت کرتی ہے۔ دو سال قبل جب  امریکہ کی سپریم کورٹ نے اس غیر فطری  شادی کو جائز قرار دیا تو ۹ رکنی بینچ میں سے 4 جج مخالف تھے  جن میں چیف جسٹس بھی شامل تھے۔ اس حملے کے بعد  امریکہ میں سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر نظر ثانی کی بحث پھر سے چھڑ گئی تھی۔ ان تمام حقائق کے باوجود چونکہ حملہ آور افغانی نژاد مسلمان تھااس لیے میڈیا نے اسےمذہبی رنگ دے کر داعش سے جوڑدیا  اور عوام کو اسلام اور مسلمانوں سے متنفر کرنے کی بھرپور کوشش کی۔

مزید پڑھیں >>

چشمہ: نظر کا نہیں نظریے کا

انسانی زندگی میں نظریات کی کلیدی اہمیت کے باوجود سماجی علوم میں مختلف نظریات پر بحثیں تو ہوتی ہیں لیکن فی نفسہٖ’’نظریہ‘‘ کو موضوع بحث کم ہی بنایا جاتا ہے۔ نظریات کے معنی و مفہوم کے تعلق سے بھی جو بحثیں کی جاتی ہیں وہ اکثر یک رخی اور نامکمل رہ جاتی ہیں ۔ نظریات پر جو تنقید کی گئی ہے وہ بھی غلط فہمیوں کی معراج ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ نظریہ فرد کو متعصب بنادیتا ہے لہذا ہمیں نظریات سے اوپر اٹھ کر سوچنا، غور و فکر کرنا، تجزیہ کرنا اور نتائج اخذ کرنا چاہئے۔ اس میں پہلی بات صحیح ہے اور دوسری غلط یا کم از کم ناممکن۔ یہ صحیح ہے کہ نظریہ ایک حد تک فرد کو متعصب بنا سکتا ہے لیکن اس کے حل کے طور پر نظریات سے ’اوپر‘ اٹھ جانا ممکن نہیں ۔ ہر فرد کا ایک نظریہ ہوتا ہے۔دوسرے الفاظ میں ہر فرد کے اپنے تعصبات ہوتے ہیں۔ اس دنیا میں کوئی بھی غیر جانبدار نہیں ہے، غیر جانبداری کا ہر دعویٰ جھوٹا ہے۔ پھر تعصب سے بچنے کا طریقہ کیا ہو؟ تعصب کے مضر اثرات سے بچنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اپنے اپنے تعصبات کو علی الاعلان تسلیم کرلیا جائے۔ وگرنہ ایک فرد خود کو غیر جانبدار کہے گا مگر اس کے خیالات مارکسزم کا چربہ ہوں گے؛ دوسرا خود کو نظریات سے اوپر کی چیز قرار دے گا مگر اس کی پوری فکر لبرل ہو گی۔

مزید پڑھیں >>

یشونت سنہا کا بیان اورموہ بھنگ کے آثار

یہ حکومت فی الحال تین  چہروں والا آسیب ہے۔ درمیان میں مودی جی کا چہرہ عوام کو بے وقوف بنانے کے کام آتا ہے۔ دائیں جانب امیت شاہ پارٹی کی جوڑ توڑ میں لگے رہتے ہیں اور بائیں جانب ارون جیٹلی سرکاری  حماقتوں کے دفاع میں مصروف  عمل ہوتے ہیں۔ اس تریمورتی میں عیاری،  رعونت، اور ناپختگی مشترک  ہے۔ یشونت سنہا کےآگ  میں جیٹلی کی رعونت نے تیل کا کام کیا۔  انہوں یشونت سنہا پر ایسے اوچھے الزامات لگائے کو جو کسی قومی رہنما کو زیب نہیں دیتے اسی لیے سنہا نے جیٹلی  کے گھٹیا سوال کا جواب دینے سے انکار کردیا۔ جیٹلی نے سنہا کے خلاف جو بہتان طرازی کی ایسا سلوک  تو کوئی  اپنے مخالفین کے ساتھ بھی نہیں کرتا کجا کہ  سامنے اپنی ہی  جماعت کا معمر رہنما ہو۔

مزید پڑھیں >>