آج کا کالم

آگیا اقتصادی خبروں کا جھٹكا مار بلیٹن

روزگار کم ہونے کی وجہ سے ہی سرمایہ کاری بہت کم ہو رہی ہے. نئی سرمایہ کاری کی پیشکش گر کر 8 ٹریلین ڈالر پر آ گئی ہے. دو سال پہلے 15 خبر ڈالر ہوا کرتی تھی. اگر یہی حال رہا تو 2018 میں بھی توقع نہیں کی جا سکتی ہے. 2018 کے پہلے ہفتے میں بے روزگاری کی شرح 5.7 فیصد تھی. گزشتہ 12 ماہ میں یہ سب سے زیادہ ہے.مودی حکومت نے ہر سال دو کروڑ روزگار دینے کا وعدہ کیا تھا. حکومت کے پاس ہر طرح کے اعداد و شمار ہیں، مگر روزگار کے اعداد و شمار کبھی وہ ٹویٹ نہیں کرتے ہیں. وزیر اور ممبر پارلیمنٹ بیمار کی طرح روز کسی نہ کسی کی جینتی، برسی ٹویٹ کرتے ہیں. اس کی جگہ ان کی وزارت میں موجود مواقعوں کو ٹویٹ کرنے لگیں تو کتنا اچھا ہوتا. نوجوانوں کو جھانسے میں رکھنے کے لئے عظیم لوگوں کو یاد کرنے کی نوٹنکی چل رہی ہے.یہ درست ہے کہ بی جے پی ہر الیکشن جیت لیتی ہے. اس کے لئے روزگار پر مضمون لکھنے والوں کو گالی نہ دیں، بلکہ ووٹ دینے والوں کا شکریہ ادا کریں.

مزید پڑھیں >>

ہم جنس پرستی پر فیصلے سے پارلیمنٹ کی بالادستی داؤ پر

کمیشن نے اپنی 172 ویں رپورٹ میں ہم جنس پرستی کو جرم سے آزاد کرنے کی سفارش کی تھی. اس رپورٹ کے مطابق، قانون میں تبدیلی کرنے پر گزشتہ 18 برسوں میں تمام حکومتیں ناکام رہیں. بہت سی دوسرے رپورٹوں میں ہم جنس پرستی سے ایڈز اور بچوں کے جنسی استحصال کے خطرات کی بات کہی گئی ہے. جس بنیاد پر کانگریس کی یو پی اے حکومت نے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ہم جنس پرستی کی عرضی کی مخالفت میں حلف نامہ دائر کیا تھا. لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ششی تھرور نے 2015 میں آي پي سي کی دفعہ 377 کو منسوخ کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں پرائیویٹ بل پیش کیا، جس کے حق میں 14 اور مخالفت میں 58 ووٹ پڑے. کانگریس حکومت کے سینئر وزیر کپل سبل نے ہم جنس پرستی کے حق میں سپریم کورٹ میں پختہ دلیلیں دیں، جن پر اب بڑی بنچ میں سماعت ہوگی. بی جے پی کے حامی بابا رام دیو اور آر ایس ایس ہم جنس پرستی کو خاندانی نظام کے خلاف سمجھتے ہیں. دوسری طرف بی جے پی کی طرف سے مقرر اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے ہم جنس پرستی کے حکم کو غلط بتاتے ہوئے كيوریٹو درخواست کو ایپروو کر دیا.

مزید پڑھیں >>

آزمائشیں درخشاں و تابناک مستقبل کی علامت!

ایلون ٹوفلر مغرب کے بڑے ماہر عمرانیات ہیں اور ان کی کتابFuture Shockدنیا کی تین درجن زبانوں میں ترجمہ ہوئی ہے۔ ایلون ٹوفلر نے خیال ظاہر کیا ہے کہ جدید مغربی تہذیب ٹیکنالوجی کے پیدا کردہ بحران میں مبتلا ہے۔ البتہ ان کا خیال یہ ہے کہ یہ بحران سائنس اور ٹیکنالوجی نے پیدا کیا ہے اور وہی اُسے اِس بحران سے نکالیں گی۔ اس سلسلے میں پال کینڈی کی رائے بھی اہم ہے۔ پال کینڈی امریکا کا اہم مورخ ہے۔ انہوں نے بڑی طاقتوں کے عروج زوال کے تجزبے سے متعلق اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ سلطنت عثمانیہ اور امریکا دونوں کے زوال کا ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ کہ ان عالمی طاقتوں نے خود کو بہت پھیلا لیا اور ان کے اخراجات ان کی آمدنی سے بہت زیادہ ہوگئے۔ اس پوری گفتگو میں ایک باریک نکتہ یہ ہے کہ اخلاقی زوال ہی کسی قوم کی پستی کا اہم ترین سبب ہے۔ موجودہ دور میں اخلاقی زوال نے جس تیز رفتاری کے ساتھ ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ لیکن یہاں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال خود اپنے آپ میں برا نہیں ہے۔ شرط یہ ہے کہ اس کے منفی استعمال سے قوم کا ہر فرد اور فی نفسہ قوم پرہیزکرے۔ منفی استعمال میں اخلاقی پستی سے لے کرتشدد اور ظلم و زیادتیاں اور استحصال سب کچھ شامل ہے۔

مزید پڑھیں >>

بی جے پی کو 2019 کے انتخابات میں شمالی مشرقی ریاستوں سے توقع

گزشتہ ماہ کی 16 تاریخ کو جب سیاسی پارٹیاں اور سیاسی پنڈت 19 دسمبر کو اعلان ہونے والے گجرات انتخابات کے نتائج کو لے کر قیاس آرائیاں کر رہے تھے تب وزیر اعظم مودی دو انتخابی شمالی مشرقی ریاستوں، میزورم اور میگھالیہ میں ریلی کر رہے تھے. معنی  صاف ہیں کہ بی جے پی کو بھی پتہ ہے کہ اگر لوک سبھا میں بی جے پی کو 2014 کی کارکردگی دہرانا ہے تو شمالی مشرقی ریاستوں میں اسے بہترین کارکردگی کرنی ہوگی. یہی وجہ ہے کہ بی جے پی شمالی مشرقی ریاستوں میں پہلی بار آسام  کیجیت سے کھلے دروازے سے تمام ریاستوں میں اپنی مضبوط گرفت بنانا چاہتی ہے. ملک کی تاریخ میں پہلی بار یکم جنوری کو شمال مشرق کی دو زبانوں آسامی اور منی پوری میں بھی وزیر اعظم کے دفتر کی ویب سائٹ شروع کی گئی ہے تاکہ لسانی بنیاد پر بھی شمال مشرق کو مرکزی دھارے سے منسلک کیا جا سکے.

مزید پڑھیں >>

کالے دھن کا سب سے بڑا ڈون:  چندے کا دھندہ کرنے والا الیكٹورل بونڈ

وزارت خزانہ نے گزشتہ ہفتے اس منصوبہ کا اعلان کیا ہے. بتایا ہے کہ شخصیت، افراد کے گروپ، این جی او، مذہبی اور دیگر ٹرسٹ ہندو غیر منقسم خاندان اور قانون کی طرف سے درست تمام فیکٹریاں بغیر اپنی شناخت ظاہر کئے چندہ دے سکتی ہیں.اس قانون کے بعد000 20، سے اوپر چندہ دینے پر نام بتانے کے قانون کا کیا ہوگا؟ اس کے رہتے حکومت کوئی اصول کس طرح بنا سکتی ہے کہ آپ بونڈ خرید لیں گے تو 1 لاکھ یا 1 کروڑ تک کے چندہ دینے پر کسی کو نہ نام نہ سورس بتانے کی ضرورت ہو گی. کھیل سمجھ آیا؟ ہنسی آ رہی ہے، بھارت کی قسمت یہی ہے. جو سب سے بدعنوان ہے وہ بدعنوانی کے خلاف لڑنے کا یقین دلاتا ہے اور ہم اس بات پر یقین کر لیتے ہیں. اس پر الیکشن کمیشن نے کچھ  کیا ہے؟

مزید پڑھیں >>

کیجری وال اور کمار کی ‘جنگ’ ہو سکتی ہے گھماسان!

شاعر سے عام آدمی پارٹی کے سیاستدان بنے ڈاکٹر کمار وشواس ممکنہ طور پارٹی کے اندر اندر عآپ کے سیاسی کردار کے اختتام تک پہنچ گئے ہیں، کیونکہ اب اروند کیجریوال ان کے ان پیغامات کا بھی جواب نہیں دے رہے ہیں، جن میں وہ اپنے 12 سالہ ساتھ کا حوالہ دیتے ہوئے ملاقات کی خواہش ظاہر کر رہے ہیں. کمار وشواس کی طرف سے مسلسل بھیجے جا رہے پیغامات اور فون کالوں کو اروند کیجریوال گزشتہ تقریبا ایک ماہ سے بہت سختی کے ساتھ نظر انداز کرتے آرہے ہیں.یہ درار راجیہ سبھا کی ان تین سیٹوں کے معاملے پر ہے جو 'عآپ' کو ملنا طے ہے، اور جن کی وجہ سے پارٹی کے اندر چل رہا گھماسان اجاگر ہو گیا ہے.

مزید پڑھیں >>

پاکستان کے خلاف ٹرمپ زندہ باد تو بھارت کے خلاف؟

ٹرمپ انتظامیہ کی تجویز ہے کہ جو لوگ مستقل رہائش (permanent residnecy) کے لئے H-B1 ویزا میں توسیع حاصل کرنا چاہتے ہیں، ان کو توسیع نہ ملے. اگر یہ پیشکش قابل عمل ہو گئی تو تقریبا پانچ لاکھ ہندوستانیوں کو واپس آنا پڑے گا. چین کے شہری بھی متاثر ہوں گے، مگر سب سے زیادہ اثر ہندوستانیوں پر پڑے گا. ٹرمپ کی جیت کے لئے ہون کرنے والے پلیز ہون ری سٹارٹ کریں، تاکہ ٹرمپ کے بھیجے میں حکمت کی آمد ہو اور ایسا نہ ہو. چینلز کو فوری طور پر ٹرمپ کے خلاف محاذ کھول لینا چاہئے اور وزیر اعظم مودی سے کہنا چاہئے کہ ایک بار اور جیت کر دکھائیں. پاکستان کی فوجی مدد ركوا دی، اب یہ ویزا والی پیشکش بھی ركوا دیں.

مزید پڑھیں >>

اسٹیٹ بینک نے آپ کی غریبی پر جرمانہ وصولا 1771 کروڑ روپے

انڈین ایکسپریس نے یہ خبر شائع کی ہے. اسٹیٹ بینک کی ہمت دیکھئے، جواب تک نہیں دیا ہے. کر کیا لوگے، خبر چھاپ لو، ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکے گا. یہ حساسیت ہے ان بینکوں کی جہاں ہم پیسے کے ساتھ اپنا اعتماد جمع کرتے ہیں. سب کو پتہ ہے کہ ٹی وی آپ کو پاکستان اور تین طلاق میں الجھا کر رکھے ہوئے ہیں اور ادھر چپکے سے آپ کی جیب کتری جارہی ہے.ہم نے اس خبر کے بعد ایک ہندی اخبار کو چیک کیا. اس کے پہلے صفحے پر اسٹیٹ بینک کی خبر تھی کہ بینک نے ہوم لون پر سود کی شرح کم کر دیی ہے. ہوم لون سستا ہوا. لیکن آپ کا ہی پیسہ آپ کے اکاؤنٹ سے کٹ گیا، اس کی کوئی خبر نہیں ہے. آپ کو اخبار ہوم لون کے جشن میں الجھا کر بیوکوف بنا رہے ہیں. اخبار خریدنے سے اخبار پڑھنا نہیں آتا ہے. پڑھنا سیکھیں. ہندی اخباروں کی چالاکی سے ہوشیار رہیے.پنجاب نیشنل بینک نے بھی اس جبرا وصولی سے 97.34 کروڑ کمائے ہیں. سینٹرل بینک نے 68.67 کروڑ اور كینرا بینک نے 62.16 کروڑ کمائے ہیں. پنجاب اور سندھ بینک نے اس طرح کا جرمانہ نہیں لیا ہے. وہ ایسا کرنے والا واحد بینک ہے.

مزید پڑھیں >>

نوجوانوں کے نام رویش کمار کا کھلا خط

آپ نئے ووٹر ہیں. آپ سے توقع کی جاتی ہے کہ آپ سیاست میں کچھ نیا کریں گے. ووٹنگ کی شرح بڑھانے کے لئے کبھی ووٹ نہ کریں. سوچ سمجھ کر، پروپیگنڈہ اور پیسے کے کھیل کو سمجھتے ہوئے ووٹ دینے کا فیصلہ کریں. پالیسیوں پر زیادہ بحث کریں. ان کے بارے میں زیادہ معلومات جمع کریں.میڈیا کا اپنے مفاد میں استعمال اپنے لیے  کریں نہ کہ میڈیا کو آپ کا استعمال کرنے دیں. آپ تمام نوجوان ہیں. ملک کو لے کر کنفیوژ ہونے کی ضرورت نہیں ہے. بھارت ایک اچھا ملک ہے، جس کی سیاست پر برے لوگوں کا قبضہ ہو گیا ہے. ان کا اور قبضہ نہ ہو جائے اس کے لئے ضروری ہے کہ سوچ سمجھ کر اور درست اطلاعات جمع کرنے کے بعد ووٹنگ کریں. کوئی نظر نہیں آتا ہے تو نوٹا کا بٹن دبا دیں. اپنے ووٹ کو کسی پارٹی کے یہاں رہن کے طور پر نہ رکھیں. مجھے امید ہے آپ ایک اچھے اور پہلے کے ووٹروں سے بھی بہتر ووٹر ثابت ہوں گے.بس ایک بات یاد رہے . ووٹر آئی ڈی كارڈ بن جانے سے کوئی ووٹر نہیں ہو جاتا ہے. ووٹر کا کام امیدوار  منتخب کرنا  ہے نہ کہ حکومت.

مزید پڑھیں >>

کیلنڈر کی بھی اپنی تاریخ ہے!

سال کے آخری دن اس سال کا کیلنڈر دیواروں سے اتر جائے گا اور 2018 کا کیلنڈر نظر آئے گا. یہ کیلنڈر ہی ہمیں اپنا تاریخی سلسلہ محفوظ رکھنے میں مدد کرتا ہے، لیکن اس کیلنڈر کی بھی اپنی تاریخ ہے. خاص طور پر وقت کے ناپ تول کی تاریخ. دو ہزار سال کی طویل تاریخ میں کیلنڈر میں بہت سی ترمیمات کرنی پڑیں. یہ ترمیمات اس لئے کرنی پڑیں، کیونکہ بہت دھیرے دھیرے ہم یہ جان پائے کہ ہماری زمین سورج کا ایک چکر ٹھیک ٹھیک کتنے وقت میں لگاتی ہے. ویسے ایک سال کا حساب بنانے کے لئے چاند بھی کام آیا. یہ دیکھ کر کہ زمین کا ایک چکر چاند کتنے وقت میں لگاتا ہے. حالانکہ اس سے ہمیں ایک ماہ کا پیمانہ بنانے میں آسانی ہوئی. بہرحال انہی بنیادوں پر دنیا کے تمام ممالک کے اپنے اپنے کیلنڈر بنے. دنیا میں اس وقت سینکڑوں کیلنڈر موجود ہیں، جن میں ہمارے اپنے یعنی بھارتی پنچانگ بھی ہیں. لیکن فی الحال موقع انگریزی کیلنڈر کے حساب سے سال تبدیل کرنے کا ہے. سو جگہ کے لحاظ سے اس پر نظر ڈالنا موزوں ہے اور ویسے بھی روزمرہ کے استعمال کے لحاظ سے دنیا کے  زیادہ  تر سیاسی معاملات میں یہی کیلنڈر چلن میں ہے.

مزید پڑھیں >>