حالیہ مضامین

  • یہ غصہ نہیں، ہمارے اندر کا قاتل ہے!

    اگر ہم پورے بھارت سے ایسے اعداد و شمار جمع کریں تو پتہ چلے گا کہ ہر جگہ کوئی قاتل گھوم رہا ہے. جو قتل کرنے کے پہلے تک ایک اچھا انسان ہے مگر اس کا تعمیر ان رجحانات سے ہویی ہے جو اسے معمولی بات پرایک قاتل میں تبدیل کر دیتے ہیں . بھیڑ کا غصہ مختلف طرح کا ہوتا ہے. صرف فرقہ وارانہ ہی نہیں ہوتا، صرف تعصبات کی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا ہے، وہ بے حد فوری ہوتا ہے اور کئی بار طویل اور مستقل بھی ہوتا ہے. ہمارا شہر ہمارے اندر کی معصومیت کو چھین رہا ہے. کام سے لے کر ٹریفک کی کشیدگی، شام تک گھر پہنچتے پہنچتے ٹی وی چینلو کے سیاسی کشیدگی میں گھلتے ہی شہری گروپ کو ایک بھیڑ میں بدل دیتا ہے. جہاں دلائل اور حقائق کے پار جاکر مارو مارو کی آواز آتی ہے.آپ یقین نہیں کریں گے. ایک مٹھائی کی ایک چھوٹی سی دکان پر گیا. خالی دکان تھی اور گلی میں تھی. ٹی وی چل رہی تھی. ٹی وی پر مذہبی مشاعرہ چل رہا تھا. دکاندار اکیلے میں چلا رہا تھا. مارو ان کو مارو. ان مسلمانوں کو مارو تبھی ٹھیک ہوں گے. میں نے ٹی وی کے اس اثر کو جانتا ہوں مگر آنکھوں سے دیکھ کر حیران رہ گیا.

    مزید پڑھیں >>
  • گؤ راکشس: اس کے رکشک اور بھکشک!

  • ڈاکٹر ذاکر نائک کی بزدلی

  • فلسطین کا حق دار کون: اسرائیل یا فلسطینی مسلمان؟

  • کیا پرائیویسی کے لیے نیا قانون بنے؟

  • ڈاکٹر ذاکر نائک کی بزدلی

    کسی شہری کے لئے یہ آخری درجہ کی بات ہے کہ اس کے ملک کی حکومت اس کا پاسپورٹ منسوخ کردے۔ شراب کے بہت بڑے تاجر اور ہوائی جہازوں کے مالک وجے مالیہ کا پاسپورٹ اس لئے منسوخ کیا گیا تھا کیونکہ وہ ملک کے بینکوں کا ہزاروں کروڑ روپئے نہ دینے کی وجہ سے لندن بھاگ گیا تھا۔ اور آج سواسو کروڑ ہندوستانیوں میں جو باشعور ہیں وہ اس سے نفرت کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر ذاکر نائک جو لگ بھگ 20  سال سے ’’مفسر قرآن اور داعی اسلام‘‘ کی حیثیت سے نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی اپنی عظمت کا پرچم لہرا رہے تھے انہوں نے کیوں یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان سے عمرہ کرنے جائیں گے اور فرار ہوجائیں گے؟ہمارے محدود علم کی حد تک انہوں نے جو کچھ ہندوستان میں کیا وہ دستور کے اندر کیا۔ اپنے مذہب پر عمل کرنا اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنا ہندوستان میں اتنا عام ہے کہ نہ جانے کتنی عیسائی مشینریاں ہندوستان میں اربوں روئے خرچ کررہی ہیں  اور آج سے نہیں وہ تو 15  ویں صدی سے جب سے واسکوڈی گاما کے بتائے ہوئے راستے پر عیسائی ہندوستان آنا شروع ہوئے۔

    مزید پڑھیں >>
  • فلسطین کا حق دار کون: اسرائیل یا فلسطینی مسلمان؟

  • کیا پرائیویسی کے لیے نیا قانون بنے؟

  • کسانوں کے مسائل کا حل کیا ہے؟

  • معاصر دنیا اور دعوت اسلامی

  • یہ غصہ نہیں، ہمارے اندر کا قاتل ہے!

    اگر ہم پورے بھارت سے ایسے اعداد و شمار جمع کریں تو پتہ چلے گا کہ ہر جگہ کوئی قاتل گھوم رہا ہے. جو قتل کرنے کے پہلے تک ایک اچھا انسان ہے مگر اس کا تعمیر ان رجحانات سے ہویی ہے جو اسے معمولی بات پرایک قاتل میں تبدیل کر دیتے ہیں . بھیڑ کا غصہ مختلف طرح کا ہوتا ہے. صرف فرقہ وارانہ ہی نہیں ہوتا، صرف تعصبات کی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا ہے، وہ بے حد فوری ہوتا ہے اور کئی بار طویل اور مستقل بھی ہوتا ہے. ہمارا شہر ہمارے اندر کی معصومیت کو چھین رہا ہے. کام سے لے کر ٹریفک کی کشیدگی، شام تک گھر پہنچتے پہنچتے ٹی وی چینلو کے سیاسی کشیدگی میں گھلتے ہی شہری گروپ کو ایک بھیڑ میں بدل دیتا ہے. جہاں دلائل اور حقائق کے پار جاکر مارو مارو کی آواز آتی ہے.آپ یقین نہیں کریں گے. ایک مٹھائی کی ایک چھوٹی سی دکان پر گیا. خالی دکان تھی اور گلی میں تھی. ٹی وی چل رہی تھی. ٹی وی پر مذہبی مشاعرہ چل رہا تھا. دکاندار اکیلے میں چلا رہا تھا. مارو ان کو مارو. ان مسلمانوں کو مارو تبھی ٹھیک ہوں گے. میں نے ٹی وی کے اس اثر کو جانتا ہوں مگر آنکھوں سے دیکھ کر حیران رہ گیا.

    مزید پڑھیں >>
  • گؤ راکشس: اس کے رکشک اور بھکشک!

  • حالات وظروف کا تنوع اور دعوت اسلامی

  • ڈاکٹر ذاکر نائک کی بزدلی

  • فلسطین کا حق دار کون: اسرائیل یا فلسطینی مسلمان؟