نیپال میں مدھیسی اور سری لنکا میں تمل عوام کی روہنگیا سے مماثلت 

ندیم عبدالقدیر

طالبان نے جب بامیان میں گوتم بدھ کی مورتیوں کو بم سے توڑا تھا اس وقت  عالمی برادری میں حسبِ معمول طالبان کےخلاف عموماً اوراسلام کے خلاف خصوصاً  ایک ارتعاش برپا ہوگیاتھا۔ پتھر کی مورتیوں کو نقصان پہنچانے سے انسانیت خطرہ میں آگئی تھی، اخلاقیات آنسو بہا رہی تھی، تہذیب آہیں بھررہی تھی اور تمدن دہاڑیں ماررہا تھا۔ طالبان کو شدت پسند، اسلامی تعلیمات کو تنگ نظر اور شریعت کو ’بنیاد پرست‘ کے استعارات سے نوازنے کی ہوڑ سی لگ گئی تھی۔

افغانستان میں اُس وقت بھی بودھ دھرم کے ماننے والے نہیں تھے اور آج بھی نہیں ہیں ،اِس کے باوجود بودھ کی مورتیوں کو توڑ نا خلاف تہذیب گردانا گیا۔آج میانمار میں زندہ جاوید انسانوں کے جسم کے بارودی سرنگوں سے پرخچے اڑائے جارہے ہیں ،انسانی جسم میں گولیاں پیوست کی جارہی ہیں ، خواتین کو بے آبرو کیا جارہا ہے،گھروں کو نذرِ آتش کیا جارہا ہے ، بچوں اور خواتین تک کو آگ میں جھونکا جارہا ہے اس کے باوجو د عالمی برادری کے کوئے انسانیت میں کوئی ہلچل نہیں ہوئی ، اخلاقیات کے کوچہ و بازار کے  کاروبار پر کوئی اثر نہیں پڑا، نہ ہی انسانی ہمدردی نے کوئی انگڑائی لی اور نہ ہی تہذیب و تمدّن پر کوئی آنچ   آئی۔ شاید اسلئے کہ اس بار مظلوموں کا تعلق دینِ محمدیﷺ سے ہے۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عالمی طاقتیں نئے فلسفہ ہائے تہذیب و تمدن کے شعور کا بہتر مظاہرہ کرتیں لیکن مسلم دشمنی کے تقاضےمانع رہے اور اسلام مخالف ذہنیت نے انصاف کے تمام دریچے بند ہی رکھے۔

برما میں جو ہورہا ہے۔ اس کی مثال انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے ۔ یہ مسلمانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانیت کامسئلہ ہے۔ اس کو سمجھنے کیلئے اتنا ہی کافی ہے کہ فوجیں فوج سے لڑتی ہیں ،نہتے عوام سے نہیں ۔  کسی ملک کی فوج کسی مخصوص نسل کو اپنا دشمن نہیں سمجھتی۔ ایسا تاریخ میں کم ہی ہوا ہے جب کسی پاگل بادشاہ یا ڈکٹیٹر نے ایک نسل پر عتاب نازل کیا ہو،اور آج  بنی نوع انسان اتنی ذہنی بلوغت تک تو پہنچ ہی گیا ہے کہ اسے انسانی اقدار کی سمجھ ہو۔ آج کے زمانے میں نسل کشی جیسے غیر انسانی فعل ناقابل یقین معلوم ہوتے ہیں کیونکہ یہ مہذب دنیا کے قرینوں سے  بالکل بھی میل نہیں کھاتے۔ ان سب کے باوجود برما میں امن کا نوبل اعزاز حاصل کرنے والی ایک پاگل خاتون اس وحشی فعل کی ضد پر اڑی ہوئی ہے اور انسانی ہمدردی کے دعویدار تمام ممالک اس وحشی پن میں خاموش رہ کر اس کی حمایت کررہے ہیں ۔

عالمی برادری کی حمایت کو سمجھنے کی ضرورت 

عالمی برادری کی حمایت ہمیشہ مشروط رہی ہے ۔ یہ حمایت اور مخالفت کسی انسانی قاعدے ، کسی قانون ، کسی اخلاق یا کسی ہمدردی کی بنیاد پر نہیں ہوتی ہے ۔ وہ صرف اور صرف مادّی فائدے اور نقصان کے جمع تفریق کے قاعدے پر ہوتی ہیں ۔ عالمی برادری نے آنگ سان سوچی کو امن کے نوبل انعام سے اُس وقت نوازا تھا جب وہ جیل میں تھی اور برما میں پر کمیونسٹ طاقتوں کی حکومت تھی۔ آنگ سان سوچی چونکہ کمیونسٹوں سے برسرِ پیکار تھی صرف اسلئے ہی انہیں نوبل اعزاز دیا گیا۔ آج مسلمانوں پر جو ظلم آنگ سان سوچی کررہی ہے اس کا دسواں حصہ بھی کمیونسٹ کرتے ہوتے تو ساری دنیا میں سب سے بڑا مسئلہ روہنگیا مسلمان  ہی بن جاتے۔
نیپال میں مدھیسی اور سری لنکا میں تمل عوام کی روہنگیا سے مماثلت

 نیپال میں مدھیسی اور سری لنکا میں تمل عوام کی تاریخ بھی بالکل روہنگیا مسلمانوں جیسی ہی ہے لیکن یہ برادری اپنے اپنے ممالک میں محفو ظ ہے کیونکہ یہ مسلمان نہیں ہیں ۔  نہ ہی مدھیسی عوام کی تاریخ نیپال سے تعلق رکھتی ہے اور نہ ہی تمل عوام کا تعلق سری لنکا سے ہے ۔ اس کے باوجود یہ دونوں نسلیں سری لنکا اور نیپال میں سکونت پذیر ہے اور وہاں کی حکومتوں نے انہیں غیر ملکی قرار نہیں دیا۔ مدھیسی عوام نیپالی زبان نہیں بولتے ہے ۔ یہ لوگ بہار کی متھیلی یا بھوجپوری بولتے ہیں ۔اٹھارہویں صدی میں یہ لوگ ہندوستان سے نیپال کے ترائی علاقے میں جا بسے تھے۔ ان کی آج بھی رشتہ داریاں بہار اور اتر پردیش کے علاقوں میں ہے ۔ یہ لوگ بھی بالکل روہنگیا کی طرح تھے ۔ فرق یہ ہے کہ روہنگیا نے علیحدہ ریاست کی مانگ نہیں کی جبکہ مدھیسیوں نے نیپال کے ترائی علاقے کو نیپال سے الگ کرکے علیحدہ ریاست کی مانگ کی ہے ۔مدھیسیوں کی دہشت گرد تنظیم ’جن تانترک ترائی مورچہ‘ علیحدہ مدھیسی ملک کا خواہاں ہے اور اس کےلئے مسلح جدوجہد کررہا ہے ۔ حال ہی میں مدھیسیوں نے نیپال میں زبردست احتجاج کیا تھا اور غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہماری حکومت نے اس احتجاج میں مدھیسیوں کی حمایت کی تھی ۔ ہماری حکومت نے نیپال سے اس کے آئین میں تبدیلی کی بھی مانگ کرڈالی تھی اور اس سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی پارلیمنٹ میں مدھیسیوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے ریزرویشن دے۔

جب بات نیپال میں مدھیسیوں کی آتی ہے تو ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ نیپال کا اندرونی معاملہ ہے ۔ ہم مدھیسیوں کی مختلف دہشت گرد تنظیموں کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں جوکہ نیپال میں خود مختار ریاست کی مانگ کررہی ہیں ۔اتنا ہی نہیں بلکہ ہم نیپال حکومت کو اُس کے آئین میں تبدیلی تک کے مشورے سے بھی نواز دیتے ہیں لیکن جب بات روہنگیا کی آتی ہے تو ہمیں یاد آتاہے کہ یہ برما کا اندرونی معاملہ ہے نیز برما حکومت کو روہنگیاسے خطرہ ہے ۔ کوئی مدھیسی نیپال سے نقل مکانی کرکے ہندوستان نہیں آرہا ہے جبکہ روہنگیا لوگ اپنی جان اور عزت بچانے کیلئے برما سے بھاگ رہے ہیں ۔

سری لنکا میں ہندوستانی تمل کا حال بھی روہنگیا جیسا ہی ہے ۔ یہ لوگ برطانوی دورِ حکومت میں تمل ناڈو کے مختلف شہروں سے سری لنکا ہجرت کرگئے تھے اور وہیں بس گئے۔ تملوں نے سری لنکا میں کیا قیامت ڈھائی تھی اور علیحدہ تمل ریاست کے قیام کیلئےدہشت گردی کا بازار کیسے گرم کررکھا تھا یہ ساری باتیں سب کو پتہ ہے ۔ اس کے باوجود تمل ناڈو کی حکومت نے ہمیشہ ہی ایل ٹی ٹی ای کی حمایت جاری رکھی ۔ یہ نہیں کہا کہ یہ سری لنکا کا اندرونی معاملہ ہے۔

کیا روہنگیا دہشت گرد ہیں 

روہنگیا پر دہشت گردی کا بھی الزام ہے ۔ یہ کیسے دہشت گرد ہیں جو دیگر ممالک میں اپنی جان کی امان چاہ رہے ہیں ۔ یہ کیسے انتہا پسند ہیں جو اپنی بیوی بچوں کے ساتھ نقل مکانی پر مجبور ہیں ۔  یہ کیسا خطرہ ہے جو خود ہی اپنی جان بچا کر بھاگ رہا ہے۔  یہ دنیا کے واحد دہشت گرد ہیں جن کے پاس ہتھیار تو کجا کھانے کیلئے بھی کچھ نہیں ہے جو رفیو جی کیمپوں میں زندگی گزار رہے ہیں ۔ ہٹلر نے جب یہودی عوام کا قتل عام شروع کیا تھا تب اس نے بھی یہی کہا تھا کہ یہودی جرمنی کےلئے خطرہ ہیں اور جس طرح آج روہنگیا بھاگ رہے ہیں اُس وقت یہودی بھی نازی حکومت کو چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔



⋆ ندیم عبدالقدیر

فیچر ایڈیٹر (روزنامہ اردوٹائمز ، ممبئی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے