مذہبی مضامین

بدلتے حالات میں قرآن سے راہنمائی حاصل کیجئے! (آخری قسط)

محمد آصف اقبال

موجودہ حالات جن سے فی الوقت مسلمانان ہند دوچار ہیں واقعہ یہ ہے کہ یہ حالات نہ صرف تشویشناک اوردشوار گزار ہیں بلکہ صبر آزما بھی ہیں ۔اس کے باوجود اسی آزاد ہندوستان کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آزاد ہندوستان میں مسلمان مختلف ادوار میں چیلنجز کا سامنا کرتے آئے ہیں ۔حکومت اور اقتدار میں گرچہ کوئی بھی رہا ہو ، دشواریوں سے دوچار خصوصاً مسلمان اور عموماًکمزور و پسماندہ طبقات ہی ہوئے ہیں ۔ اس لیے اگر آج کوئی یہ کہتا ہے کہ موجودہ حکومت مسلمانوں کے تعلق سے حد درجہ سخت ثابت ہورہی ہے، تو ایسے اشخاص کو وہ دن بھی یاد کرلینے چاہیے جبکہ اسی ملک کے چپے چپے پر فسادات رونماہوئے اور اس میں راست نقصان مسلمانوں اور عام انسانوں کے حصہ میں آیا ہے۔1946میں کلکتہ کا فسادجس میں تقریبا10,000 انسانی جانوں کی ہلاکت ہوئی۔  1970میں بھیونڈی، مہاراشٹر کا فساد جس میں 250لوگوں نے اپنی جان کا نظرانہ پیش کیا۔1980میں مرادآباد ، اترپردیش کا فساد جس میں 400لوگ ہلاک ہوئے۔ 1984میں سکھوں کی ہلاکت جس میں اندازاً3000 سکھ ہلاک ہوئے۔ 1987میں ہاشم پوری میرٹھ کے فسادات۔ 1989میں بھاگلپور، بہار کا فساد جس میں 1000 لوگ ہلاک ہوئے۔ 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور پورے ملک میں پھوٹنے والے چھوٹے بڑے بے شمار فسادات جس میں نہ جانے کتنی جانیں ہلاک ہوئیں ۔

2002میں گجرات کے فسادات یا قتل عام ۔2006میں علی گڑھ کے فسادات اور 2013میں مظفر نگر کے فسادات جس میں تقریبا450لوگ ہلاک ہوئے اور پچاس ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہوئے، یہ چند بڑے فسادات کا تذکرہ ہے۔ان کے علاوہ فسادات کی ایک طویل فہرست ہے جسے دیکھ کے محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں آغاز ہی سے فسادات کنٹرول کرنے کا کوئی منصوبہ نہ کل تھا اور نہ آج ہے ۔نتیجہ میں معاشرے کے منظم و غیر منظم غنڈے موالی اور فسادی لوگ اپنے منصوبوں میں کامیاب ہوتے آئے ہیں ۔ساتھ ہی ان بے شمار فسادات نے جہاں نہ صرف مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو دائو پر لگائی گئی بلکہ انہیں معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور تمدنی سطحوں پر بھی منظم و منصوبہ بندانداز میں کمزور کیا گیا۔اور اس کے لیے یہ فسادات ایک کارآمد ذریعہ ثابت ہوئے ہیں ۔

 ہندوستان کی موجودہ صورتحال میں جس خوف وہراس میں مسلمان مبتلاہیں اس میں جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ گرچہ فسادات سے مختلف ہے اس کے باوجود مقاصد کے حصول میں وہ مدد گار ہے۔یہی وجہ ہے کہ ملک کا وزیر اعظم ایک نہیں دو -دو مرتبہ فسادیوں کو متنبہ کرتا ہے اس کے باوجود لا اینڈ آڈر کی صورتحال کمزور ہونے کی بنا پے ان کے حوصلے بلند ہیں ۔ساتھ ہی وہ اپنے ناپاک عزائم میں آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔اس موقع پر درج بالا اہم ترین فسادات کا جہاں تذکرہ کیا گیا وہیں ان مقامات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جہاں وہ رونما ہوئے ہیں ۔اس پس منظر میں باخوبی سمجھا جا سکتا ہے کہ جنہیں  آج ہم کھلا دشمن سمجھتے ہیں گزرے ہوئے کل میں وہ ان مقامات پر اقتدارمیں نہیں تھے، اس کے باوجود فسادات ہوئے، مسلمان ہر سطح پر متاثر ہوئے، ان کی پریشانی اور تکالیف کا حل نہیں نکالا گیا، اور دوسروں کے بھیانک چہرے دکھا کے چند سیاسی پارٹیوں نے مسلمانوں کے ووٹ سے خوب کھلواڑ کی۔

آج ایک بار پھر یہ سلسلہ چل نکلا ہے۔اس موقع پر جہاں یہ بات اہم ہے کہ کھلے دشمن اور گریبان وآستینوں میں چھپے دشمنوں میں فرق کیا جانا چاہیے۔وہیں یہ بات بھی اہم ہے کہ اندرون خانہ امت ایک دوسرے کی دشمنی سے بعض آئے۔مسلکی بنیادوں پر اختلاف اس درجہ سرچڑھ کے نہ بولیں کہ ہم اندر ہی اندر کھوکھلے ہو جائیں ۔اس صورتحال میں تبدیلی جتنی جلدی ممکن ہو آجانی چاہیے ورنہ کل ہم مزید مسائل سے دوچار ہونے والے ہیں ۔نیز یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے جو اس میں کامیاب ہو گیا درحقیقت وہ کامیاب ہے اور جو وہاں ناکام ٹھہرا وہ خسران میں مبتلا ہو گیا۔لہذا خوف و ہراس سے نکلیے، اللہ پے توکل کیجئے، اس پے مکمل ایمان لائیے اوراس کے بتائے طریقہ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیے۔ کیونکہ دنیا میں انسان دوطریقوں سے عموماً پریشانیوں اور تکالیف سے دوچار ہوتے ہیں ۔ایک )جب اللہ کا غضبناک ان پر نازل ہوتا ہے تو دوسرے تب، جب ان کو اسلام پر چلتے ہوئے اسے اختیار کرتے ہوئے ، دنیا و آخرت میں درجات بلند کرنے کی غرض سے اللہ کی جانب سے آزمائشوں میں ڈالا جاتا ہے۔واقعہ یہ ہے کہ ملت کی مجموعی صورتحال کی روشنی میں آج ہم جن مسائل سے دوچار ہیں وہ آزمائشیں نہیں ہیں بلکہ اللہ کاغضب ہے ۔اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زندگی کے جملہ معاملات میں وہی طریقے اختیار کر لیے ہیں جو اہل باطل اختیار کیے ہوئے۔نیز اہل باطل کے ان طریقوں کو اختیار کرتے ہوئے نہ ہمیں ان سے کراہیت محسوس ہوتی ہے، نہ ہمیں اس کی سمجھ ہے اور نہ ہی مجموعی طور پر امت میں اس جانب بیداری ہی پائی جاتی ہے ۔پھر کیونکر ہم اللہ کے محبوب ہو سکتے ہیں اور کیونکر اللہ ہماری مدد فرمائے گا؟

قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے:”واقعہ یہ کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔  ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کر تا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔  فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔  اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہی کو وارث بنا ئیں اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دِکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھاـ”(سورۃالقصص:4-6 )۔مزید فرمایا:”اور موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ، اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو وہ چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں ـ”(سورہ العراف127-128)۔ساتھ ہی یہ بات بھی بتائی کہ :”یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اورمنکر سے منع کریں گے۔  اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔”(سورۃ الحج:41)۔

موجودہ حالات میں نیز زماں و مکاں کی قیود سے بالاتر ہر زمانے میں مسلمانوں کے لیے لازم ہے کہ وہ قرآن حکیم کی ایک ایک آیت پر غور و فکر کریں اوراپنی انفرادی واجتمائی زندگیوں میں تبدیلی لائیں ۔وہیں اس موقع پر درج بالا آیات کی روشنی میں غور و فکر کرنے والوں کی لیے ہدایات اور رہنمائی ہے۔لازم ہے کہ ہم اپنا جائزہ لیں ، احتساب کریں اور آیات کی روشنی میں لائحہ عمل تیار کریں ۔اِن آیات میں اللہ کے مدد گار اور اس کی تائید و نصرت کے مستحق لوگوں کی صفات یہ بیان کی گئی ہیں کہ اگر دنیا میں ہم انہیں حکومت و فرمانروائی بخشیں تو ان کا ذاتی کر دار فسق و فجور اور کبر و غرور کے بجائے اقامت صلوٰۃ ہوگا۔  ان کی دولت عیاشیوں اور نفس پرستیوں کے بجائے ایتائے زکوٰۃ میں صرف ہوگی۔

ان کی حکومت نیکی کو دبانے کے بجائے اسے فروغ دینے کی خدمت انجام دے گی اور ان کی طاقت بدی کو پھیلانے کے بجائے اس کودبانے میں استعمال ہوگی۔آج مسلمانوں کے پاس 58ممالک ہیں جہاں انہیں اقتدار حاصل ہے وہیں انفرادی طور پر بے شمار مقامات ایسے ہیں جہاں انہیں ایک حیثیت حاصل ہے اور ان کی بات مانی جاسکتی ہے ۔اس کے باوجود کیا ریوں سے وہ اعمال ظاہر ہورہے ہیں جن کا اوپر تذکرہ کیا گیا ہے؟ساتھ ہی یہ بات بھی صاف طور پر بتا ئی گئی ہے کہ یہ فیصلہ کہ زمین کا انتظام کس وقت کسے سونپا جائے در اصل اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔  مغرور بندے اس غلط فہمی میں ہیں کہ زمین اور اس کے بسنے والوں کی قسمتوں کے فیصلے کرنے والے وہ خود ہیں ۔

مگر جو طاقت ایک ذرا سے بیج کو تناور درخت بنا دیتی ہے اور ایک تناور درخت کو بیزم سوختنی میں تبدیل کر دیتی ہے ، اسی کو یہ قدرت حاصل ہے کہ جن کے دبدبے کو دیکھ کر لوگ خیال کرتے ہوں کہ بھلا ان کو کون ہلا سکے گا انہیں ایسا گرائے کہ دنیا کے لیے نمونہ ٔ عبرت بن جائیں ، اور جنہیں دیکھ کر کوئی گمان بھی نہ کر سکتا ہو کہ یہ بھی کبھی اٹھ سکیں گے انہیں ایسا سر بلند کرے کہ دنیا میں ان کی عظمت و بزرگی کے ڈنکے بج جائیں !

مزید دکھائیں

آصف اقبال

آصف اقبال دہلی کے معروف کالم نگار ہیں۔ بنیادی طور پر آپ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ آپ کی نگارشات برصغیر کے مؤقر جریدوں اور روزناموں میں شائع ہوتی ہیں۔

ایک تبصرہ

متعلقہ

Close