حدیثمذہبی مضامین

جس گھر میں کھجور نہیں ،وہ گھر والے بھوکے ہیں!

مقبول احمد سلفی

احادیث کے اندر کھجور کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے کیونکہ اس میں صحت کا راز اور مختلف بیماریوں کا علاج موجود ہے ۔ ان فضیلتوں والی احادیث میں ایک حدیث وہ بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جس گھر میں کھجور ہو وہ گھروالے کبھی بھوکے نہیں رہتے ۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جس گھر میں کھجور نہ ہو وہ گھروالے بھوکے ہیں ۔ دونوں روایات میں پیش کرتا ہوں ۔

پہلی روایت : ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

لا يجوعُ أهلُ بيتٍ عندهم التَّمْرُ(صحيح مسلم:2046)

ترجمہ: اس گھر کے لوگ بھوکے نہیں رہتے جس گھر میں کھجور ہو۔

*اسے امام مسلم رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے ۔

دوسری روایت : ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا:

يا عائشةُ ! بيتٌ لا تمرَ فيهِ ، جياعٌ أهلُهُ . يا عائشةُ ! بيتٌ لا تمرَ فيهِ جياعٌ أهلُهُ – أو جاعَ أهلُهُ – قالها مرتينِ ، أو ثلاثًا .(صحيح مسلم:2046)

ترجمہ: اسے عائشہ ! جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے رہنے والے بھوکے ہیں ۔ اسے عائشہ ! جس گھر میں کھجور نہ ہو اس گھر کے رہنے والے بھوکے ہیں ۔ آپ  ﷺنےیہ بات  دو مرتبہ یا تین مرتبہ دہرائی۔

٭اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں ذکر کیا ہے ۔

یہ حدیث بلاشبہ کھجوروں کی اہمیت وفضیلت اجاگر کرتی ہے ، ساتھ ہی اس حدیث سے یہ جواز بھی نکلتا ہے کہ ہم کھجوروں کو جمع کرکے گھر میں رکھ سکتے ہیں تاکہ تھوڑا تھوڑا اس میں سے کھاتے رہیں اور گھر کبھی کھجوروں سے خالی نہ ہو۔

یہاں ایک اشکال یہ  پیدا ہوتا ہے کہ  جس گھر میں کھجور نہیں اس گھر کے رہنے والےکیا واقعی بھوکے ہیں ؟ یعنی ان کی بھوک نہیں مٹتی جبکہ مشاہدے میں یہ بات آتی ہے کہ لوگ بغیر کھجور کے بھی شکم سیر ہورہے ہیں ؟۔

تو اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ حدیث میں اہل بیت یا اھلہ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے یہاں کھجوروں کی پیداروار ہوتی ہے اور ان کی خوارک ہی کھجور ہے جیسے کہ نبی ﷺ کے زمانے میں نجد و مدینہ والے جن کے یہاں مہینوں گذر جاتا مگر ان کے پاس سوائے کھجور وپانی کے کچھ بھی نہیں ہوتا ، اسی سے ان گزربسر ہوتا ۔ آج کل کوئی بھی جگہ ایسی نہیں جہاں  صرف کھجور خوراک کے طور پر استعمال ہوتی ہو، نجد اور مدینہ میں بھی نہیں ۔ اس بات سے کھجور کی اہمیت کم نہیں ہوجاتی کیونکہ اس حدیث سے اصل کھجور وں کی اہمیت وفضلیت بیان کرنا اور گھر والوں کے لئے غذائی ضروریات  کی ذخیرہ اندوزی کے جواز کا اظہار اور اس کی ترغیب دینا مقصود ہے ۔ یہ غذاء بھی ہے اور شفا بھی ۔ اس لئے ہمیں کھجوروں کی طرف التفات کرنا چاہئے ۔ آج ہمارے گھروں میں متعدد قسم کی مٹھائیاں ، بسکوٹ، نمک پارے موجود ہوتے ہیں جن سے گھروالے بھی وقتا فوقتا ناشتہ کرتے رہتے ہیں اور گھرآنے والے  مہمانوں کی  بھی ضیافت کرتے ہیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان سامانوں کی جگہ ہمارے گھر کھجور ہوتی۔ سنت پر بھی عمل ہوجاتا اور اس سے نہ صرف جسمانی قوت حاصل ہوتی بلکہ جسمانی بیماریوں سے شفا بھی ملتی ۔

مزید دکھائیں

مقبول احمد سلفی

مرکزالدعوۃ والارشاد، طائف، سعودی عرب

متعلقہ

Close