آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہے

نادیہ عنبر لودھی

آنکھوں کو اک خواب دکھایا جا سکتا ہے

قصہ یوسف کا دہرایا جا سکتا ہے

…

ہا ں !  اس دنیا کو ٹھکرایا جا سکتا ہے

حسن اور عشق  دعا سے پایا جا سکتا ہے

…

جو مجھ میں ہو زلیخا تجھ میں یوسف کوئی

عمروں کا سرمایہ لایا جا سکتا ہے

…

اسُ کو کہنا مری آنکھوں کے کا سے میں

دید کا اک سکہ تو دکھایا جا سکتا ہے

…

ناداں اتنا مت سمجھو تم دل کو عنبر

کب یاد وں سے اسے بہلایا جا سکتا ہے

تبصرے بند ہیں۔