اے پی جے عبدالکلام مرحوم کی کتاب کے اردو ترجمے پر منظوم تاثرات

احمد علی برقی ؔ اعظمی

کچھ نہ تھا ناقابلِ تسخیر جن کے سامنے
ایک مردِ عبقری تھے اے پی جے عبدالکلام

…

ان کے ہے اقوال زریں کا مرقع یہ کتاب
کارناموں سے تھے جو اپنے جہاں میں نیک نام

…

ولولہ انگیز ہیں اُن کے یہ رشحاتِ قلم
استفادہ کررہے ہیں آج جن سے خاص و عام

…

اقتضائے وقت تھا اردو میں اس کا ترجمہ
تاکہ پہنچے اردوداں طبقے کو بھی ان کا پیام

…

ایک سو اٹھانوے صفحات پر ہے یہ محیط
جس کا اردو ترجمہ نوشاد بیگم کا ہے کام

…

قومی اردو کونسل کا بھی تعاون اس میں ہے
جس کی معیاری کُتُب ہیں مرجعِ ہر خاص و عام

…

مصرعۂ حافظ کا تھی عملی نمونہ ان کی ذات
’’ با مسلماں اللہ اللہ با برہمن رام رام ‘‘

…

نظم برقیؔ اعظمی مرحوم کو ہے انتساب
صفحۂ تاریخ کی زینت ہے جن کا آج کام

تبصرے بند ہیں۔