بعد میں بات میری سی کیجے

شاداب رضا صدیقی

بعد میں بات میری سی کیجے

پہلے میری برابری کیجے

…

ہم بُرے ہیں ! تباہ کر دینگے

آپ اچھوں سے دوستی کیجے

…

میں یہ اعلان عام کرتا ہوں

عشق مت کیجے! دلگی کیجے

…

ویسے سنئے ہر ایک کی باتیں

پر جو دل کو لگے سہی کیجے

…

آپ پر داغ ہی تو ہیں نہ ہم

اپنے داغوں میں کچھ کمی کیجے

…

آج یا کل جدا تو ہونا ہے

کیوں نہ یہ کام آج ہی کیجے

…

آپ کے بعد میں کدھر جاؤں

آپ ہی میری رہبری کیجے

…

آپ بدنام ہونا چاہتے ہیں ؟؟

آئیے ہم سے دوستی کیجے

…

دوسروں کو بھی بےوفا کہہ کر

دردِ شاداب میں کمی کیجے

تبصرے بند ہیں۔