بے سہارا انجمن میں تیرا آنا یاد ہے

حبیب بدر ندوی

بے سہارا انجمن میں تیرا آنایاد ہے

روتے روتے ترستے تیرا آنا یاد ہے

…

پھر رہے تھے ذلیل ہو کر در بدر

جان سے  عزیز بنانا یاد ہے

…

زخمی پرندہ سا سسک رہے تھے درد سے

دست کرم تم پہ رکھنا مجھے یاد ہے

…

قر بتیں حد سے بڑھیں تو موسم بن گئے

کیسے تم  بدل گئے وہ بہانہ یاد ہے

…

  غیر تھے غیرہو غیر رہوگے صدا

تیرے دل کا وہ فسانہ یاد ہے

…

زخمی دل کر گئے  الزام ہوس دیکر

کتنے پاکیزہ تھے ہم وہ زمانہ یاد ہے

تبصرے بند ہیں۔