Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر کب سے - مضامین ڈاٹ کام

 تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر کب سے

ایڈوکیٹ متین طالب

(ناندورہ )

 تمام نیکیاں دریا میں ڈال کر کب سے

 خلوص رکھا ہے میں نے سنبھال کر کب سے

…

اجالے ہوگئے سورج کے نام سے منسوب

کہ شمع بجھ گئی خود کو پگھال کر کب سے

…

ذرا سی چوٹ بھی لگتی تو ٹوٹ جاتا تھا

وہ دل تو رکھ دیا میں نے نکال کر کب سے

…

بچھڑ کے مجھ سے نظر آتے ہیں یتیم سے وہ

 رکھا تھاجن غموں کو میں نے پال کر کب سے

…

حواس باختہ ہیں دیکھ کر وہ جیت مری

جو جی رہے تھے غلط فہمی پال کر کب سے

…

یہ درد یوں ہی نہیں آگیا زباں پہ مری

رکھا ہوں آہوں کو نغموں میں ڈھال کر کب سے

…

شمار کر نہ سکا وہ مرے ہنر  طالب

جو خوش ہے عیب مرا اک نکال کر کب سے

تبصرے بند ہیں۔