Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
دامن دراز عشق میں ہارے بہت ملے - مضامین ڈاٹ کام

دامن دراز عشق میں ہارے بہت ملے

الف اطہر نعیمی

دامن دراز عشق میں ہارے بہت ملے

ہم کو گمان کم کا تھا بارے بہت ملے

…

 خود غرضیوں کے ساتھ سہارے بہت ملے

ہم کو برائے نام ہمارے بہت ملے

…

افسوس! ہو سکا نہ کوئی راہبر مرا

ویسے تو آسمان پہ تارے بہت ملے

…

وہ اور ہوں گے جن کا تعلق خوشی سے تھا

ہم کو غمِ حیات کے مارے بہت ملے

…

ایذا پسند دل تھا سو ایذا طلب رہا

ورنہ مسرتوں کے اشارے بہت ملے

…

پھر آگیا یقین فریبِ نگاہ پر

پہلے محبتوں کے نظارے بہت ملے

…

بزمِ جنوں میں جتنے تھے سب بے نیاز تھے

بزمِ خرد میں ہاتھ پسارے بہت ملے

…

اطہر ہماری راہ تھی طغیانیوں کے ساتھ

بحرِ وفا کے ہم کو کنارے بہت ملے

تبصرے بند ہیں۔