سال نو سب کے لیے ہو سازگار

احمد علی برقیؔ اعظمی

سال نو سب کے لئے ہو سازگار

لائے باغِ زندگی میں یہ بہار

…

سب کے ہوں شرمندۂ تعبیر خواب

ہو مساعد گردشِ لیل و نہار

…

ہو جہانِ رنگ و بو سب کے لئے

امن و صلح و آشتی سے ہمکنار

…

کس کی آخر لگ گئی ہم کو نظر

دامنِ انسانیت ہے تار تار

…

قلبِ مضطر مضمحل ہے آج کل

آتے آتے اس کو آئے گا قرار

…

آئیے مِل جل کے ہم آگے بڑھیں

زندگی کا ماحصل ہے صرف پیار

…

وہ جو ہیں سود و زیاں سے بے نیاز

اُن کا ہے حسنِ عمل برقیؔ شعار

تبصرے بند ہیں۔