شگفتہ غزل

افتخار راغبؔ

بزمِ ادب میں چیخنے گانے سے ہم رہے

رکھ کر بھی مال دھوم مچانے سے ہم رہے

…

اس درجہ تھک گئے ہیں کہ بیگم نہ پوچھیے

باہر کسی کے پانو دبانے سے ہم رہے

…

موسم ہے اتنا سرد کہ پانی ہوا ہے برف

ہر ہفتہ اے حکیم نہانے سے ہم رہے

…

اک روز قبل روٹھ کے میکے چلی گئیں

اُن کو منا کے عید منانے سے ہم رہے

…

سالے سے کوئی نوک نہ سالی سے کوئی جھونک

سسرال میں اگرچہ زمانے سے ہم رہے

…

 سب کچھ ہے دستیاب سسر جی کا ہو بھلا

محنت سے چار پیسے کمانے سے ہم رہے

…

ہر گھر میں چوکی دار ضرورت سے تھے سوا

ان کی گلی میں اور بہانے سے ہم رہے

…

 چوری کی شاعری پہ ہمیں مل رہی ہے داد

اپنا اب ایک شعر سنانے سے ہم رہے

…

ڈر ہے کہ کوئی چور نہ کہنے لگے ہمیں

ان کی گلی میں آنکھ چرانے سے ہم رہے

…

بیگم سے نوک جھونک میں پھٹ ہی گئی قمیص

اس عمر میں تو دوسری لانے سے ہم رہے

…

بے وزن شاعری کی یوں راغب پڑی ہے لت

مصرع جو گر گیا تو اٹھانے سے ہم رہے

تبصرے بند ہیں۔