شگفتہ غزل

افتخار راغبؔ

اچھے دنوں کے خواب دکھانے سے ہم رہے

بھکتوں کو بے وقوف بنانے سے ہم رہے

…

سیوک ہیں سارے ملک کے فرصت کہاں ہمیں

بیوہ کو اپنی گھر بھی بلانے سے ہم رہے

…

یوں گھومنے کا شوق ہوا ہے یہاں وہاں

اپنے وطن میں منھ بھی دکھانے سے ہم رہے

…

کالج کا منھ ہی دیکھے نہ اسکول ہی گئے

پھر بھی نہ باز سب کو پڑھانے سے ہم رہے

…

اتریں گے بار بار ہوائی جہاز سے

سابرمتی میں ناؤ چلانے سے ہم رہے

…

نعرے ہی ٹھوستے رہے ہم ان کے کان میں

بھکتوں کو دیش بھکت بنانے سے ہم رہے

…

سادھو کی طرح جینے کی عادت پڑی ہے یوں

دس لاکھ کا بھی سوٹ جڑھانے سے ہم رہے

…

جو جل رہے ہیں ان میں ہی ہم ڈالٹے ہیں تیل

بجھتے ہوئے چراغ جلانے سے ہم رہے

…

بھاشن سے پیٹ بھرتا تو مرتا نہ ایک شخص

کجھ ماسوا اب ان کو کھلانے سے ہم رہے

…

ہم ہیں جہاں وہیں پہ بہت خوش ہیں دوستو

جاپان جاکے ڈھول بجانے سے ہم رہے

…

ڈر ہے کہ کوئی چور نہ کہنے لگے ہمیں

ان کی گلی میں آنکھ چرانے سے ہم رہے

…

 سیوک تو بن گئے پہ ہمیں تجربہ نہ تھا

"اب ڈوبنے سے تم کو بچانے سے ہم رہے”

…

 راغبؔ ہے ہم کو فکر سوا سو کڑوڑ کی

گو اپنا ایک گھر بھی بسانے سے ہم رہے

تبصرے بند ہیں۔