کوئی پوچھے ذرا اُن سے

کاشف لاشاری

کوئی پوچھے ذرا اُن سے

وہ کیوں مُجھ کو ستاتے ہیں

…

 نہ راضی ہو مَنانے سے

وہ کیوں پھر روٹھ جاتے ہیں؟

…

مَیں اُن کو یاد کرتا ہوں

مُجھے جو بھول جاتے ہیں

…

تمنّا کر کے گلشن کی

خزاں سے جی لگاتے ہیں!

…

حزیں حالت میں دیوانے

دُکھوں سے دل لُبھاتے ہیں

…

بہت مشکور ہوں اُن کا

جو ہر پل یاد آتے ہیں

…

مِری آنکھوں کو سپنے بھی

بَھلا کب راس آتے ہیں؟

…

تسلّی دینے والے ہی

غموں سے جی جلاتے ہیں!

…

کبھی غیروں کی محفل میں

سُکون اپنا گنواتے ہیں

…

اُسی کی یاد سے، کاشف!

اُسی کو ڈھونڈ لاتے ہیں

تبصرے بند ہیں۔