ماہ رمضان میں دعوت قرآن کا کام یاب تجربہ

محمد عبد اللہ جاوید

ماہ رمضان کی عظمت وفضیلت کے پیش نظر جماعت اسلامی ہند شہر رائچورنے طے کیا کہ قرآن مجید کی تعلیمات اوراسکے ھدی للناس ہونے کی حیثیت کو ہم وطن بھائیوں کے علم میں لانا چاہیے‘ تاکہ اس ماہ مبارک میں مسلمانوں کے شب و روز کے ان کے مشاہدے کو قرآن کے ذریعہ سے ایک صحیح منہج اور راہ میسر آسکے‘ وہ اس کی جانب رجوع کرسکیں اور جان سکیں کہ دنیا بھر میں سارے مسلمان ایک ساتھ اپنی مخصوص عبادات کے ذریعہ کس عظیم نعمت کے ملنے کا شکر ادا کررہے ہیں ؟

ارکان وکارکنا ن کو ہدایت دی گئی کہ وہ اپنے قریبی ہم وطن بھائیوں اور ملنے جلنے والے افراد کو قرآن مجید کانسخہ تحفتاً دیں۔ ہونے والی گفتگو اور تاثرات کو ذہن نشین کرنے کی خصوصی ہدایت دی گئی تھی تاکہ اس دعوتی تجربہ کی صحیح صورت حال معلوم کرنے اور جائزہ لینے میں آسانی ہوسکے۔اس ضمن میں یہ بھی طے کیا گیا تھاکہ۱۳مئی کو یوم القرآن کے حوالے سے سب جمع ہوں گے اور اپنے اپنے تاثرات اور تجربات بیان کرنے کا اہتمام کریں گے۔

تحفہ قرآن پر ہم وطن بھائیوں کا ردعمل

حسب ہدایت‘ رفقاء نے اپنے ہم وطن بھائیوں اور قریبی دوستوں کو قرآن مجید تحفتاً عنایت کیا۔روزے کی حالت میں فرداً فرداً ان کے گھروں پر جاکر ملاقات کی۔اور ماہ رمضان‘قرآن مجید اور مسلمانوں کی عبادات وغیرہ پر گفتگو کی۔ تمام رفقاء کا متفقہ احساس رہا کہ سبھی بھائیوں نے قرآن مجید کو بڑی قدر سے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اسے اپنی آنکھوں سے لگایا اور چوما۔کسی کی جانب سے بھی ناپسندیدگی یا بیزارگی کا اظہار نہیں ہوا۔ البتہ دلچسپی میں کمی وبیشی محسوس کی گئی۔ کسی نے بڑے پرتپاک انداز سے رفقاء کاخیر مقدم کیا اور مبارک کتاب کے تحفہ کا والہانہ استقبال کیا تو کسی نے بس اظہار مسرت اور اپنائیت کے ساتھ اسے قبول کرلیا۔

ایک غیر معمولی انکشاف

اس خوشگوار مجموعی تاثر سے یہ حقیقت منکشف ہوتی ہے کہ انسانی دلوں پر ہمیشہ ان کے خالق ومالک ہی کی حکمرانی چلتی ہے۔ ان میں سے بیشتر انسان ایسے ہوتے ہیں جن کے دل غلط فہمیوں ‘ نفرت وتعصب سے بھری باتوں سے بالکل متاثر نہیں ہوتے۔یوں لگتا ہے کہ باطل طاقتوں کے مکر اور انسان دشمن سازشوں کے شوروغوغے سے انسانوں کی اکثریت بڑی محفوظ و مامون ہے۔یہی وجہ ہے کہ باطل کی کمزور چالیں نوٹس کرنے کی بجائے اہل ایمان کواپنے مشن پر بھرپور توجہ دینے کی ہدایت کی گئی۔رسول اللہﷺ کا مکی دور اس کا شاہد ہے۔ نہ رسول اللہﷺ نے اور نہ ہی حضرات صحابہ کرامؓ نے اسلام دشمن طاقتوں کی ہر چال کا جواب دیا بلکہ دین اسلام کی حیات بخش تعلیمات کو انسانوں تک پہنچانا ہی وہ کام رہا جس پر ان کی ساری کی ساری توجہ مرکوز رہی۔

ہاں تو بات چل رہی تھی کہ انسانوں کے دل‘ باطل کی ریشہ دوانایوں کی وجہ سے مستقل طور پر مضطرب نہیں رہتے۔ انہیں ان کا رب سکون کی حالت میں اس لیے رکھتا ہے تا کہ وہ اپنے حقیقی خالق کو جان کر اس کی بندگی کے لیے درکارآمادگی اپنے دلوں میں پیدا کرلیں۔ قابل مبارکباد ہیں وہ لوگ‘ جو انسانوں کواس عظیم حقیقت سے روشناس کراتے ہوئے انہیں خواب غفلت سے بیدار کرتے ہیں۔ ان تک ان کے خالق کا پیغام پہنچانے اوران کے رب کے منشاء کو کما حقہ واضح کرنے کے لیے پورے عزم واستقلال کے ساتھ کاردعو ت میں مصروف رہتے ہیں۔ جماعت اسلامی سے وابستگی کے بعد فرد کی زندگی ایک ایسے ہی داعی حق کی صورت میں بدل جاتی ہے جس کا وجود اعلائے کلمۃ اللہ کیلیے ان تھک جدوجہد کرنے کیلیے وقف رہتا ہے جسے ہم عرف عام میں دعوت کہتے ہیں۔

تحفہ قرآن پر ہم وطن بھائیوں کا ردعمل

رفقاء کے تاثرات‘ جیسا کہ عرض کیا گیا عمومی طور پر اچھے رہے۔کسی ہم وطن بھائی نے قرآن مجید کو مقدس کتاب کہا۔ کسی نے اس کے انتظار میں رہنے کی اپنی دلی تمناظاہر کی۔ کسی نے اس کے پہلے سے کچھ پڑھنے کی بات بتائی توکسی نے اسکے باقاعدہ مطالعہ کرنے کا وعدہ کیا۔ایک بھائی نے اس کتاب کو پڑھ کر دوسروں تک اسکی تعلیمات پہنچانے کا عندیہ ظاہر کیا۔ کسی بھائی نے مادری زبان میں قرآنی ترجمہ کو اپنے دل کے قریب بتایا۔ کسی نے اس دارالاشاعت کی ستائش کی جس نے علاقائی زبان میں قرآن مجید جیسی عظیم کتاب  شائع کرنے کا اہتمام کیا۔بعض نے اس بات کے معلوم ہونے پر حیرت کا اظہار کیا کہ یہ قرآن مجید ساری انسانیت کیلیے ویسا ہی مقام اور بے شمار افادی پہلو رکھتی ہے جیسا مسلمانوں کیلیے ہے۔

بزرگوں میں دعوت دین

دعوت قرآن کے اس کارخیر میں ان بزرگ رفقاء کا تجربہ بھی بڑا منفرد رہا جو اپنے ہم عمر وطنی بھائیوں سے ملاقات کی اور انہیں قرآن مجید کا تحفہ پیش کیا۔کسی بزرگ نے کہا کہ جب یہ کتاب ہدایت ہے تو پھر ہمیں اب تک کیوں معلوم نہیں ہوسکا؟کسی نے ایک رفیق کے سامنے ہی ترجمہ سے سورہ الفاتحہ مکمل پڑھ لی اور کہا کہ اس کے بعد کی باتیں میں پڑھ کر خود سمجھ جاؤں گا۔اور بڑے پرتکلف انداز میں کہا کیا تم مجھے اب بتاؤ گے کہ قرآن مجید کیا ہے؟

بزرگوں میں دعوت کی حکمت اور اسکے افادی پہلو پر غور ہونا چاہیے۔چونکہ بڑی عمر کو پہنچنے تک زندگی کی حقیقت بالکل واضح ہوجاتی ہے۔جیسی بھی زندگی گزرای تھی‘ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ کیسی تھی؟جس مادی دنیا کیلیے اپنا سب کچھ نچھاور کیا تھا اب وہ کس کام آرہا ہے؟ جس اولاد کے لیے دن رات ایک کئے تھے وہ کس حد تک خدمت گزاراور اپنے والدین پر سب کچھ نچھاور کرنے والی بن گئی ہے؟دکھ سکھ میں کون کس حد تک ساتھ دیتا ہے؟کون کس حد تک وفادار ہتا ہے؟حق کو جان کر نہ ماننا کس قدر نقصان دہ رہتا ہے؟ وقتی جذبات سے مغلوب ہوکر بڑے بڑے گناہ کرنا یا کسی کے حق چھننا کیسے اخلاقی ساکھ کے متاثر ہونے کا سبب بنتا ہے؟ غرض خودآگاہی کی ایک ایسی ہی لمبی فہرست قلب وذہن پر مرتب ہوتی چلی جاتی ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ صحیح فرماتا ہے:

بَلِ الإنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ

بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے (سورہ القیامہ:14)

غالباً یہی وہ بصیرت کی باتیں ہیں جو ہر شخص کو عمر کے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ معلوم ہوہی جاتی ہیں۔ اورغالباً انسان کی یہ خود شناسی ہی وہ خدائی اہتمام ہوسکتی ہے جس سے اتمام حجت کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔

لہذامعاشرہ میں موجود بزرگ شخصیات تک اسلام کا پیغام بلاکم وکاست پہنچادینا چاہیے۔ہوسکتا ہے کہ بعض لوگوں کو اپنی سابقہ باطل پرست زندگی اور اس کے لیے سب کچھ لٹانے کے باوجود ذلت و لاچارگی کے ساتھ خالی ہاتھ بیٹھے رہنا بہت کھلتا ہوگا۔ ایسے میں اگر مخلص اہل ایمان آگے بڑھیں اور انہیں اسلام کی دعوت سے روشناس کرائیں تو ان کی حالت بدل سکتی ہے۔چاہے وہ حال یا ماضی کی کیسی ہی بڑی شخصیات رہی ہوں ‘چاہے وہ عام معاشرہ سے ہوں یا میدان سیاست سے‘ چاہے کھیل کود کے میدان سے ہوں کہ میدان ادب سے۔ہر فرد اور ہر میدان ہمارا ہے۔اوردین کی دعوت‘ آمادگی کے پیش نظر دی جاتی ہے عمر یا کسی اور معیار کے تحت نہیں۔ لہذا عمر کے کسی بھی مرحلہ میں ‘ فرد کے کیسے ہی اسلام دشمن رویے میں ‘ رب کریم کا یہ ارشاد:

يَا أَيُّهَا الإنْسَانُ إِنَّكَ كَادِحٌ إِلَى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلاقِيهِ

اے انسان، تُو کشاں کشاں اپنے ربّ کی طرف چلا جا رہا ہےاور اُس سے ملنے والا ہے۔(سورہ الانشقاق:6)

ذہن کے چاروں طبق روشن کردینا چاہیے کہ کسی فرد کا زندہ رہنا‘ درحقیقت اس کے رب کی امید کا اظہار ہے اور اہل ایمان ہی اس امید کے مطابق افراد کے مثبت طرز عمل کے ضامن بن سکتے ہیں۔

تعلیم یافتہ طبقہ میں دعوت

اس دعوتی تجربہ میں ایک معاملہ پڑھے لکھے حضرات کا بھی سامنے آیا۔جیسا کہ ایک عام تاثر ہے کہ فکری اور تعلیمی لحاظ سے اونچے درجے پر فائز حضرات لا دینیت کی طرف زیادہ مائل رہتے ہیں۔ ان کی گفتگو سے دین پر زیادہ زورمحسوس نہیں ہوتا بلکہ وہ مفاہمت اور مصالحت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے سب مذاہب صحیح ہیں کہ اصول پر کاربند رہتے ہیں۔ وہ اس کا اظہار ایسے موقعوں پر کرنے سے نہیں چوکتے جب کسی مذہب کو سمجھنے اوراس کی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کی انہیں دعوت دی جاتی ہے۔چنانچہ رفقاء کے وفد کے ساتھ کالج کے ایک پروفسیر نے یہی بات کہی کہ آپ اپنے مذہب کو صحیح مت کہیں۔

یہ بات داعی اور مدعو کے درمیان ملاقات و گفتگو کیلیے حدفاصل نہیں بلکہ یہ تو دعوت کے تسلسل کا ذریعہ ہے۔ایسی بات اسلام کی حقانیت واضح کرنے کے بڑے روشن دراوزے کھول دیتی ہے۔لیکن اس کے لیے داعیان حق کو دین اسلام کے گہرا مطالعہ کے ساتھ اس کے عملی پہلوؤں اور اس کے راہنمایانہ اصولوں کا بخوبی ادراک کرنا چاہیے۔ داعی اور مدعو کے بیچ جو اصل مدعا ہے اس کی شروعات ہی‘اسلام اللہ کا پسندیدہ دین‘سے ہوتی ہے۔لہذا محض اس کے اظہار سے بات نہیں بنے گی بلکہ دین اسلام کی رحمتوں اور برکتوں کو ظاہر کرنا اور کیسے یہ دین ایک معاشرہ کومثالی اور ایک فرد کو عالی بناتا ہے‘ اس کا حکیمانہ انداز سے اظہار کرنا ضروری ہے۔تب ہی انسانی دماغ میں الجھی گتھیاں سلجھ سکتی ہیں۔ اور اللہ نے چاہا تو وہ حق و صداقت معلوم کرنے کیلیے غور وفکر پر آمادہ ہوسکتے ہیں۔

دعوت کیلیے ذہنی وقلبی تیاری اورعلمی واخلاقی برتری ضروری

اس دعوتی تجربہ کی روشنی میں مندرجہ ذیل امور واضح کرنا ضروری محسوس ہوتا ہے:

(۱) مدعوئین سے ملاقات کیلیے اچھی ذہنی اورقلبی تیاری کے ساتھ جانا چاہیے۔ذہنی تیاری سے مراد اسلام ہی کے برحق ہونے پر کامل یقین ہے‘اور اسلامی اصولوں کو موجودہ حالات کیلیے موزوں ترین حل کے طور پر پیش کرنے کے لیے علمی وفکری تیاری ہے۔اس کا تقاضہ ہے کہ قرآن وحدیث کا مطالعہ اور معاصر افکار کی روشنی میں اسلامی لڑیچر کا منصوبہ بند مطالعہ ہو۔یہ گویا ایک داعی کی علمی برتری ہے اور اسی سے وہ مدعو کے سامنے اپنے منشاء ومدعا کو واضح کرنے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

قلبی تیاری سے مرادمدعوئین کو اللہ تعالیٰ کی گرفت اور جہنم کے رسواکن عذاب سے بچانے کی انتہائی تڑپ دل میں پیدا کرنا ہے۔اوربغیر کسی غرض اور مفاد کے ان تھک مصروف عمل رہنا ہے۔یہ داعی کی اخلاقی برتری ہے جو اسکو‘ مدعو کے ہر طرح کے رویوں چاہے مثبت ہوں کے منفی‘ عدل وراستی پر قائم رہنے اور صبر وثبات کا پیکر بنے رہنے کیلیے آمادہ کرتی ہے۔ رسول اللہﷺ کا طائف کا واقعہ‘ حضرات صحابہ کرام ؓکا سخت ظلم وجبرکے باوجود اسلام کے کٹر دشمنوں کو لعن طعن نہ کرنا‘ اسی اخلاقی برتری کا ایک اعلی معیار ہے۔لہذا داعیان اسلام کو بہرحال اس معیار کو پہنچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

(۲)  مختلف زبانوں میں اسلامی لڑیچر ہم وطن بھائیوں تک پہنچانا اب ایک معروف عمل بن چکاہے۔جوبھی دعوتی شعور رکھتا ہے‘ اس کے نزدیک دوسروں تک اسلامی لڑیچر پہنچانے کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جو کتاب‘ تنہائی میں فرد کے قلب و ذہن کو متاثر کرتی ہے وہ محفل یا کسی بھی قسم کی جلوت میں ممکن نہیں۔ لیکن صرف لڑیچر دینا دعوتی کام نہیں بلکہ یہ داعی ومدعو کے درمیان ایک قسم کا خاص لین دین ہے جو بڑی حکمت وموعظت کا تقاضہ کرتا ہے۔یہ معاملہ بالکل ویسا ہی ہے جیساایک ڈاکڑ اور مریض کے درمیان ہوتا ہے۔ ڈاکڑ جس قدرحکمت اور دانش مندی کے ساتھ اپنے مریض کی تشخیص کرے گا‘ اس کے علاج کیلیے تجویز کی جانے والی دوائیں بھی اسی قدر مفید اور اثردار ہوں گی۔لہذا کسی ہم وطن بھائی کو کوئی کتاب دینے سے پہلے اس سے خوب دعوتی روابط بڑھانے چاہیے۔مختلف موضوعات پر مستقل تبادلہ خیال کا اہتمام کرنا چاہیے۔اس کی غلط فہمیوں کے ازالہ اور اس کے شکوک وشبہات کودور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔اگر یہ کام کسی فرد سے تنہا ممکن نہ ہو تو اس کو اپنے دیگر رفقاء کے ساتھ اجتماعی ملاقات کے ذریعہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس دوران اگر ہم وطن بھائی کسی موضوع پر خود سے کچھ پڑھنے کی خواہش ظاہر کرے یا داعی کا اپنا تجزیہ ہو تو کتاب دی جاسکتی ہے۔ورنہ تھوڑا سا توقف اور مناسب وقت کے انتظار کے ساتھ لڑیچر دینا سراسر خیر کا باعث ہوسکتا ہے۔

لڑیچر کب اثرانداز ہوتاہے؟

ہم وطن بھائیوں کا کسی اسلامی لڑیچر پڑھ کر متاثر ہونا‘ کئی عوامل پر منحصر ہوتا ہے۔(۱) ایک تو ہم وطن بھائی کی اپنی جستجواور لگن ہے‘اس کی دلچسپی اور آمادگی ہے۔مقصد حیات سے متعلق صحیح علم کی تلاش یا جنت کا حقدار بننے اور جہنم سے نجات حاصل کرنے کی اسکی چاہت ہے۔ جب اس فردکا یہ اندرون‘ کتاب کے مطالعہ سے ہم آہنگ ہوتا ہے تو متوقع نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس لیے داعی کو چاہیے کہ وہ مدعو کے اندرون کو اپنی بے لوث ملاقاتوں ‘ دعاؤں اور دعوتوں کے ذریعہ بدلنے کی کوشش کرے۔جب اندرون صالح ہو تو سمجھنا چاہیے کہ فرد‘ اسلامی لڑیچر کا مکمل استحقاق رکھتا ہے۔قرآن مجید نے فرد کے اس صالح اندرون کو انابت سے تعبیر فرمایا ہے:

….اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ

اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کر لیتا ہے، اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔(سورہ الشوری:13)

 (۲) عوامل میں دوسرا پہلو معاشرتی نوعیت کا ہے۔یعنی ہم وطن بھائی یہ دیکھیں گے کہ اسلام کو جب اچھا کہا جارہا ہے تو مسلمانوں کی موجودہ حالت اس قدر دگرگوں کیوں ہے؟ جب اسلام ہر مسائل کا حل پیش کرتا ہے تو پھرمسلمانوں کے ہوتے ہوئے وطن عزیز کی حالت ایسی کیوں ہے؟یہ ذات پات کا نظام‘ غربت‘ حقوق کی پامالی‘نفرت وتعصب کا بازار گرم کیوں ہے؟ کیوں معاشرہ بے چین اور اندر سے کھوکھلا ہوتا چلاجارہا ہے؟ کیوں خاندانی نظام تباہی کے دہانے پرکھڑا ہے؟ کیوں والدین کا مقام ومرتبہ اور عورت کی عزت وناموس خطرے میں ہے؟

 اگر مسلمانوں کی جانب سے اس صورت حال کو بدلنے کی انفرادی و اجتماعی کوششیں ہورہی ہوں ہو تو ہم وطن بھائی دی ہوئی کتابوں کی روشنی میں مسلمانوں کے بے لوث رویوں کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔انہیں ایسا محسوس ہوگا کہ جو کتاب میں الفاظ ہیں ‘ وہ معاشرہ کے مسائل کے حل کی صورت میں مجسم بنے ہوئے ہیں۔ جو اخلاقی قدریں اور آفاقی اصول‘ جو انسانیت نواز تعلیمات اور معاشرہ کی تسخیر کے زریں پہلو الفاظ کا لبادہ اوڑھے کتاب کی زینت بنے ہوئے ہیں وہ درحقیقت صالح معاشرہ کی تعمیر میں سرگر م عمل مسلمان ہیں۔

اگر معاشرہ کی بہتری کیلیے مسلمانوں کی اجتماعی کوشش نہ ہو تو کسی بھی قسم کی اسلامی کتا ب ہو‘ پڑھنے والا اسے صرف پڑھنے کی حد تک رکھے گے‘ آگے بڑھ کر اس کتاب کی صداقت کو اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں نافذ کرنے کا خیال کرے گا‘ یہ ممکن نہیں معلوم ہوتا۔ کتاب کے ساتھ صاحب کتابﷺ کا آنا‘ اسی حقیقت کی طرف راہنمائی فرماتا ہے۔

لہذا بحیثیت مسلمان ہمیں ان دونوں عوامل کا بے لاگ جائزہ لیناچاہیے اورمعاشرہ کی بہتری کیلیے اللہ تعالیٰ پر توکل اور انسانو ں سے محبت کے جذبات سے بھرپورزندہ دلوں کے ساتھ جدوجہد کرنی چاہیے۔ دین اسلام کی صداقت اپنی جگہ‘ یہ انسانوں کو ان کے حقیقی خالق سے ملانے کیلیے دنیا میں آیا ہے۔اگر آج انسانوں کی اکثریت اپنے خالق سے دور ہے تومطلب یہی ہوا کہ مسلمان‘ انسانوں سے دور ہیں اور اسلام سے بہت زیادہ قریب نہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ماہ رمضان اور اسکے صیام و قیام ہمیں کس حد تک اللہ سے اور اس کے بندوں سے قریب کرتے ہیں۔

2 تبصرے
  1. syed ahmed salik nadvi کہتے ہیں

    مضمون بہت عمدہ ہے ۔ فاضل مضمون نگار نے کلیجہ نکال کر رکھ دیا ہے ۔ لفظ لفظ آپ کی دعوتی تڑپ کی عکاسی کررہا ہے ۔ اللہ شرف قبولیت بخشے

  2. محمد عبد اللہ جاوید کہتے ہیں

    الحمد للہ
    اللہ رب العزت ہمیں إخلاص و للہیت کے ساتھ دعوتی کام انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے

تبصرے بند ہیں۔