دیارِ عقل، شہرِ آگہی چُپ

افتخار راغبؔ

دیارِ عقل، شہرِ آگہی چُپ

مرے ہونٹوں پہ اب ہے کیوں تری چُپ

…

 ہمہ تن گوش میری دھڑکنیں ہیں

"سنو!” کہہ کر ہوئی ہے زندگی چُپ

…

نہیں آتا سمجھ میں کچھ کسی کی

کبھی افسردہ رہتے ہو کبھی چُپ

…

دریدہ آبرو لفظ و معانی

تماشا دیکھتی ہے شاعری چُپ

…

ہوئی تفہیم کچھ چُپ کی تمھاری

زبانِ انس، نطقِ عاشقی چُپ

…

نہ جانے کیا ہے بختِ شب میں راغبؔ

اندھیرے چیختے ہیں روشنی چُپ

1 تبصرہ
  1. عبدالرحیم اشہر کہتے ہیں

    ماشاء االلہ بہت بہت مبارک ہو

تبصرے بند ہیں۔