دیوانِ غالب کی پہلی غزل پر شگفتہ تضمین

افتخار راغبؔ

چھوڑیے پیچھا مرا غالب سے جا کر پوچھیے

"نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا”

…

لگ رہا ہے آگئے ہیں آج ہم سنسد بھون

"کاغذی ہے پیرہن ہر پیکرِ تصویر کا”

…

آج کل کے شاعروں کی شاعری سنتے ہوئے

"صبح کرنا شام کا لانا ہے جوئے شیر کا”

…

جان لے گی کیا حیا داری کی اب عریانیت

"سینہء شمشیر سے باہر ہے دَم شمشیر کا”

…

کام ہے پرچار میرا دیش کا سیوک ہوں میں

"مدعا عنقا ہے اپنے عالمِ تقریر کا”

…

گھر جمائی بننے سے پہلے نہ تھی راغبؔ خبر

"موے آتش دیدہ ہے حلقہ مری زنجیر کا”

تبصرے بند ہیں۔