Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
سب کے دانتوں تلے دب گئیں انگلیاں - مضامین ڈاٹ کام

سب کے دانتوں تلے دب گئیں انگلیاں

عبدالکریم شاد

سب کے دانتوں تلے دب گئیں انگلیاں

جب ہماری تمھاری ملیں انگلیاں

…

تو انگوٹھی میں دل میرا جڑ کر پہن

اور زیادہ حسیں ہوں حسیں انگلیاں

…

اف! ہوا گال پر زلف لاتی رہی

اور پیہم ہٹاتی رہیں انگلیاں

…

تو نہ جا یوں جھڑک کر انھیں ہم سفر!

تھامنے والی ملتی نہیں انگلیاں

…

میرے دل کے سبھی تار ہلنے لگے

چھو گئیں جب تری مرمریں انگلیاں

…

تیری الجھی ہوئی زلف سلجھی نہیں

ساتھ دل کے اسی میں پھنسیں انگلیاں

…

 شرم سے سرخ کلیاں کھلیں گال پر

ہاتھ ملنے میں جب دب گئیں انگلیاں

…

اے مرے ہم سفر! مجھ کو اندھا نہ کر

راستے میں چھڑا مت کہیں انگلیاں

…

یوں تصور میں تیرے میں گم سم رہوں

دیدِ یوسف سے جیسے کٹیں انگلیاں

…

عشق اتنا ہی مشہور ہوتا گیا

جتنی لوگوں کی اس پر اٹھیں انگلیاں

…

میں سمجھتا ہوں تیرے اشارے سبھی

میری جانب اگرچہ نہیں انگلیاں

…

انگلیوں پر گنے جاتے ہیں میرے دوست

یعنی غیروں پہ اٹھتی رہیں انگلیاں

…

ان کو زینہ بنا کر میں چڑھتا رہا

دشمنوں کی جو مجھ پر اٹھیں انگلیاں

…

طیش میں جب ہماری زباں چپ ہوئی

مثلِ خنجر مخاطب ہوئیں انگلیاں

…

ایک حمام میں سارے ننگے دکھے

سب کی اک دوسرے پر اٹھیں انگلیاں

…

ان پہ تسبیح و تحمید و تکبیر پڑھ

ہیں انھی کے لیے تو بنیں انگلیاں

…

اک کلک پر میسر ہیں اب خیر و شر

شاد! کس کس بٹن پر دبیں انگلیاں

تبصرے بند ہیں۔