Warning: Constant WP_MEMORY_LIMIT already defined in /home/u849380803/domains/mazameen.com/public_html/wp-config.php on line 115
کوئی مجھ سے خفا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم - مضامین ڈاٹ کام

کوئی مجھ سے خفا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے

افتخار راغبؔ

کوئی مجھ سے خفا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے

سر تن سے جدا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے

 مِرے شعروں سے ، مِری آہوں سے ، مِرے نالوں سے ، مِری چیخوں سے

اِک حشر بپا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے

یہ سچ کہنا اور سچ سننا ، یہ سچ پڑھنا اور سچ لکھنا

مِرے حق میں بُرا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے

زلفِ اُردو سلجھانے میں، احساس کے دیپ جلانے میں

نقصان بڑا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے

ہے کون اجالوں کا دشمن ، کس کی جانب ہے روے سخن

دنیا کو پتا ہوتا ہے تو ہو رُک جائے قلم ناممکن ہے

1 تبصرہ
  1. مولوی اقبال کہتے ہیں

    قابلِ تحسین پیشکش!

تبصرے بند ہیں۔