آج کا کالم

گنگناتا جارہا تھا ایک فقیر، دھوپ رہتی ہے نہ سایہ دی رتک!

معاشی کوتاہیوں کے سبب گھٹتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اب تو  آرایس ایس نے بھی اپنی  خفیہ رپورٹ میں  مودی جی آگاہ کردیا ہے  کہ آئندہ سال انتخاب میں کامیابی مشکل ہے۔ دی ٹیلیگراف کے مطابق سنگھ نے اپنی مختلف ذیلی تنظیموں کے جائزوں کی روشنی میں کہا ہے کہ مندی، بیروزگاری، نوٹ بندی، کسانوں کی بدحالی کی وجہ سے عام لوگوں میں مودی سرکار کے تئیں مایوسی جنم لے رہی ہے۔ سنگھ کے مطابق مودی جی کی ذاتی  مقبولیت انتخابی کامیابی کی ضمانت نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تنظیمیں مودی سرکار کی  معاشی پالیسی سے خفا ہیں اوراپنے آپ کو فریب خوردہ محسوس کررہی ہیں۔  آرایس ایس کے مزدور سنگھ کو 2015 میں مودی سرکار کے خلاف مظاہرہ کرنے سے روک دیا گیا تھا لیکن اس سال 17 نومبر کو اس نے اپنا احتجاج طے کردیا ہے۔ یہ رپورٹ متھرا میں ہونے والی سنگھ کے رابطہ اجلاس  میں پیش کی گئی جس میں امیت شاہ اور یوگی بھی موجود تھے۔ ان کو بتایا گیا کہ اسی طرح کی خوش گمانی کا شکار اٹل سرکار 2004 میں انتخاب ہار گئی تھی۔

مزید پڑھیں >>

اسلامی اساس پر علوم کی تدوینِ نو

علوم کی اسلامی تدوین کی موجودہ تحریک نے (جو ایک تہائی صدی سے زیادہ عرصے سے موجود ہے) نتائج کے جلد حصول کی طرف توجہ دی چنانچہ اس کام کے اُن تقاضوں کی طرف اُن (داعیوں) کی طبیعت مائل نہیں ہوئی، جو دیر طلب تھے۔ فاروقی نے اپنامشہور بارہ نکاتی خاکہ پیش کیا جس میں ترتیب کے ساتھ اُن اقدامات کی نشاندہی کی گئی جن کے ذریعے علوم کی تدوین کا کام انجام پاسکتا تھا۔ ان اقدامات میں آخری اقدام نصابی کتب کی تیاری کا تھا۔ اس پورے اندازِ فکر میں عجلت پسندی جھلکتی ہے۔ سوچا یہ گیا کہ ایک مرتبہ نصابی کتب مرتب ہوجائیں تو گویا تدوینِ علوم کا کام مکمل ہوجائے گا اور اس کے بعد محض ان کتابوں کاپڑھنا پڑھانا کافی ہوگا۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ نئے خطوط پر علمی ارتقاء پیشِ نظر ہو تو آدمی کے ذہن میں آغازِ کار کے طورپر نصابی کتب تیار کرنے کا خیال نہیں آئے گا بلکہ وہ تحقیقی سرگرمیوں پر توجہ کرے گا۔

مزید پڑھیں >>

سوچھ بھارت مشن کے تین سال 

ستمبر کی 15 تاریخ سے شروع ہونےوالے سوچھ بھارت ابھیان کی افتتاحی تقریب میں موجود یونیسیف اور سرکاری اعلی افسران نے کہا کہ مودی سرکار کی طرف سے چلائی  جارہی صفائی مہم سے غیر معمولی نتایج  سامنے آئے ہیں۔ افسران کا یہ بھی کہنا تھا کہ شہریوں میں صاف صفائی کے تیں زبردست بیداری آئ ہے۔ اس موقع پر پریس کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے  یونیسیف واش کے سرپرست نیکولاس اوسبرٹ نے گندگی کے باعث ہونے والی اموات کا ذکر کرتے ہوئے بتایاکہ بھارت میں عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2015 میں 1لاکھ 17 ہزار بچوں کی موت ڈائریا کی وجہ سے ہوئی یعنی ایک گھنٹے میں 13 بچے۔ یہ دنیا میں ڈائریا سے ہونے والی پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کی اموات در کا 22فیصد ہے۔ انھوں نےبتایا کہ بھارت کے 39 فیصد بچے عدم غزاعت (کوپوشن) کے شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 11 فیصد مائیں بچے کی ولادت کے وقت اور15 فیصد نومولود صفائی کی کمی کی وجہ سے موت کے منھ میں چلے جاتے ہیں۔ آلودہ پینے کے پانی کی وجہ سے بھارت کو ہر سال بڑا اقتصادی نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ہجری کیلنڈر: ایک اہم درس

آج پھر سے ایک بار اپنے آپ کو محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، نئے سال کی آمد کے ساتھ ہی ہمیں اس بات کی فکر دامن گیر ہونی چاہیے کہ سالِ ماضی میں ہم نے ایسے کیا کام کئے ہیں جن کی وجہ سے مجموعی طور امت کی بقاء کا سامان پیدا ہوا اور کن لاحاصل کاموں میں پڑ کر ہم امت کو نقصان پہنچانے کی وجہ بن گئے۔ امت بکھری ہوئی ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ روز بروز اس امت کا ایک ایک انگ کاٹے جا رہا ہے اور امت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، اس کے پیچھے کیا وجوہات ہیں ، ان وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے جس کونے میں بھی اس ملت سے وابستہ کوئی ایک فرد اگر رہتا ہے تو وہ انفرادی اور اجتماعی طور کس چیز کا علمبردار بنتا جا رہا ہے، اگر امت کے ساتھ اپنی والہانہ محبت رکھ کر اسی امت کی بقاء وقیام کا متمنی ہو کر اسی راہ میں جدوجہد میں مصروف عمل ہے تو صد مبارک اور اگر اپنی ہی ٹانگوں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف کام کر رہا ہے تو احتساب کی اشد ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں >>

کثرتیت اور اقامت دین

یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں اور انسانی گروہوں کے درمیان گوناگوں نوعیتوں کے اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ یہ تنوع (Diversity) ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ کثرتیت کی اصطلاح کبھی کبھی اِس واقعے کے بیان کے لیے استعمال کی جاتی ہے مثلاً جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ’’ہندوستان کا سماج Plural (یعنی کثرتیت کا حامل) ہے‘‘ تو وہ اس واقعے کا ذکر کرتا ہے کہ ہندوستان کے رہنے والے رنگ ونسل، علاقہ وزبان اور عقیدہ ومذہب وغیرہ کے اعتبار سے یکساں نہیں ہیں بلکہ ان سب پہلوئوں سے ان کے درمیان نمایاں فرق پایاجاتا ہے۔ اس تنوع کو بطور واقعہ ہر شخص تسلیم کرے گا، جو حقائق کا انکار نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کثرتیت کی اصطلاح محض ایک حقیقی صورتحال کی عکاسی کے لئے استعمال کی جائے (جو فی الواقع موجود ہے) تو اِس اصطلاح پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ’’عرب کا بیشتر حصہ ریگستان ہے‘‘ اور اُس کا یہ قول محض ایک حقیقت کا اظہار ہے تو وہ اسی طرح یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں ملک کا سماج Plural (کثرتیت کا حامل) ہے اور یہ بھی محض ایک حقیقت کا اظہار ہوگا۔

مزید پڑھیں >>

عالمی حالات کا چیلنج اور اُمتِ مسلمہ

حالات کا مقابلہ امتِ مسلمہ کو کرنا ہے۔ چنانچہ امت مسلمہ کے بارے میں بھی چند بنیادی باتیں ہمارے ذہن میں رہنی چاہییں ۔ ایک بات یہ کہ یہ امت کسی ایک ملک میں محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس سے وابستہ افراد کسی ایک زبان کے بولنے والے یا ایک علاقے کے باشندے نہیں ہیں ، بلکہ مختلف زبانوں کے بولنے والے اور مختلف علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان دیگر جغرافیائی اختلافات موجود ہیں ۔ جس چیز نے ان سب کو جمع کیاہے وہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ امت مسلمہ کے بارے میں غور کرتے ہوئے پوری امت کو سامنے رکھنا چاہیے، چاہے کسی ایک ملک کے مسلمانوں کے امور زیربحث ہوں۔ اس لیے کہ امت کا ہر حصہ دوسرے حصے کو متاثر کرتا ہےمسلمانوں کے حالات میں جو تبدیلی آتی ہے، اچھی ہو یا بری، اس میں کچھ نہ کچھ رول امت کے ہر حصے کا ہوتاہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ امت جس طرح ملکوں اور علاقوں میں بٹی ہوئی امت نہیں ہے۔ اسی طرح زمانے کے لحاظ سے بھی بٹی ہوئی نہیں ہے، پچھلے زمانے میں بہت سے صالحین اللہ کے دین پر عمل کرتے تھے۔اسی طرح آئندہ بھی اہلِ ایمان دین پر عمل کریں گے۔

مزید پڑھیں >>

بی جے پی کی تین طلاقن کو تین طلاق

مودی جی نے جو کہا سوکیا۔ انہوں نے مہوبہ میں کہا تھا ہم مسلم خواتین کوتین طلاق کے معاملے  انصاف دلائیں گے۔ ان کے خیال میں شوہر چونکہ یکبارگی تین طلاق دے کر اپنی بیوی کو صفائی کا موقع نہیں دیتا اس لیے یہ ظلم ہے۔ حکومت کے اس موقف کی حمایت آسام کی بی جےپی رہنما بے نظیر عرفان نے اسزور و شور سے کی کہ انہیں تین طلاقن کے خطاب سے نوازہ گیا۔  وہ نہیں جانتی تھی کہ جس پارٹی کے جھانسے میں آکر وہ اپنی شریعت کی مخالفت کررہی ہے کام نکل جانے پر وہ بھی اس کو سابقہ شوہر کی مانند  ایک ہی  نشست میں تین طلاق  تھما دے گی۔  اس بیچاری کے پاس فی الحال 6 عدد طلاق ہے تین اپنے شوہر سے اور تین اپنی  پارٹی سے۔  معطل کرنے سے قبل اس کو وجہ بتاو نوٹس یا اپنی صفائی کا موقع نہیں دیا گیا۔  بے نظیر کو یہ بتانے کی زحمت بھی گوارہ نہیں کی گئی کہ اس کا قصور کیا ہے؟  اس نے کیا کیا؟  کیوں کیا؟ اور کیسے کیا؟ یہ حسن اتفاق ہے واٹس ایپ پر طلاق کی مخالفت کرنے والی بئ نظیر کو معطلی کی اطلاع واٹس ایپ کے ذریعہ ملی۔

مزید پڑھیں >>

واجب الاتباع  کون: ہدایتِ الٰہی  یا  دینِ آبائی!

قوموں کی تاریخ میں بعض اوقات ان کی قدیم روایات (Customs) بڑی اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ وہ انھیں اپنی پہچان سمجھنے لگتی ہیں اور کسی قیمت پر ان سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہوتیں ۔ کبھی کبھی تو ان روایات کو قانون کادرجہ حاصل ہوجاتاہے جس کی خلاف ورزی کی کوئی شخص ہمت نہیں کرپاتا۔ مذہب کی روایات تو اس کے ماننے والوں کے نزدیک حق و صداقت کااصل معیار بن جاتی ہیں ۔ وہ ان میں کسی غلطی کے اِمکان کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ وہ ہر چیز کو باپ دادا کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں اور اسی کی بنیاد پر حق و ناحق کا فیصلہ کرتے ہیں ۔ قرآن مجیدنے کہا قومی اور مذہبی روایات الگ ہیں اور حق و صداقت ان سے بالکل الگ حیثیت رکھتی ہے۔ حق ہر چیز پر مقدم ہے۔ اگر یہ روایات حق کی میزان پر پوری اترتی ہوں تو وہ سرآنکھوں پر رکھنے کے قابل ہیں ، ورنہ انھیں رد کردینا چاہیے۔ یہ کوئی دانش مندی نہیں ہے کہ آدمی روایات کے پیچھے حق کو ٹھکرائے اور ضلالت و گمراہی میں بھٹکتا پھرے۔

مزید پڑھیں >>

مزار سے مسجد تک

 اگر مودی جی ہندوستان کو ترقی یافتہ بنانے کا ہی خواب دیکھ رہے ہیں تو صرف اسی وقت ان کی ترقی کی زنجیریں کیوں ہلتی ہیں جب انتخابات سر پر ہوتے ہیں اس کے بعد ترقی کے خیالات غائب۔ وارانسی کو بھی انہوں نے جھانسہ دیا تھا کیا بنارس والوں کے وہ خواب پورے کردئے گئے جن کا انہوں نے وعدہ کیا تھا؟ نہیں لیکن گجرات میں انہوں نے وعدہ کیا تھا او ربلٹ ٹرین پروجیکٹ کا افتتاح کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ہم یہاں ترقی کریں گے۔ ایک گجراتی رکشہ والے کے بقول جب سے بلٹ ٹرین اور وزیر اعظم جاپان کے دورے کی احمد آباد میں تیاری شروع ہوئی تھی ہماری لائٹ کاٹ کر ندیوں میں لائٹ سپلائی کی جارہی ہے، ہمارے ٹیکس سے سڑکوں کو سجایاگیا ، ہمارا دھندہ چوپٹ ہوگیا اگر یہی سب کرنا ہے تو پہلے عوام کو خوش رکھیں عوام خوش رہے گی تو دکھاوے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی لیکن مودی جی کو کون سمجھائے۔ وعدوں کے مسافر ہیں کبھی بھی جھولا اُٹھا کر چل دیں گے۔ انہیں عوامی ہمدردی سے کیا سروکار وہ بس سیاست کے شعبدہ باز ہیں بازیگری دکھلا کر عوام کو بے وقوف بنائیں گے اور ہم سدا کے بیوقوف ہیں جوبنتے ہی رہیں گے۔

مزید پڑھیں >>

ریل گاڑی کی بندوق سے انتخابی جنگ

2019 کا قومی انتخاب جیسے جیسے قریب آتا جارہا ہے بی جے پی  کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے خاص طور پر معاشی میدان کا ہر جائزہ روح فرساں ہے۔ یہ لوگ اس قدر حواس باختہ ہو گئے ہیں کہ برکلے میں راہل گاندھی کی  ایک معمولی سی تقریر  کوبی جے پی  کے29 رہنماوں کے ردعمل نے غیر معمولی بنادیا۔ وہ اگر اس کو نظر انداز کرکےاپنے زرخرید میڈیا کو بھی یہی حکم دیتے تو ان کے حق میں بہتر تھا  لیکن ان کی مخالفت نےا سے  سپر ہٹ کردیا۔  اس  طرح  راہل  باباکی قسمت کھل گئی کیونکہ زعفرانی  لفافے کے ساتھ آنے والی ہر خبر کا مقدر شائع یا نشر ہونا تو ہوتا ہی ہے۔  دلچسپ بات یہ ہے کہ جتنے الزام راہل پر لگائے وہ سب کے سب من و عن  مودی جی پر چسپاں ہوتے ہیں مثلاً جن کے پاس ملک کے اندر کوئی کام نہیں ہے وہ غیرملکی دورہ کرتے ہیں۔  اس میں شک نہیں کہ جب کسی صوبے میں انتخاب ہوتا ہے مودی جی مصروف ہوجاتے ہیں لیکن اگر ایسا نہ ہو تو ان کے پاس دنیا کی سیر کرنے کے علاوہ کوئی کام نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں >>