آج کا کالم

یہ غصہ نہیں، ہمارے اندر کا قاتل ہے!

اگر ہم پورے بھارت سے ایسے اعداد و شمار جمع کریں تو پتہ چلے گا کہ ہر جگہ کوئی قاتل گھوم رہا ہے. جو قتل کرنے کے پہلے تک ایک اچھا انسان ہے مگر اس کا تعمیر ان رجحانات سے ہویی ہے جو اسے معمولی بات پرایک قاتل میں تبدیل کر دیتے ہیں . بھیڑ کا غصہ مختلف طرح کا ہوتا ہے. صرف فرقہ وارانہ ہی نہیں ہوتا، صرف تعصبات کی بنیاد پر ہی نہیں ہوتا ہے، وہ بے حد فوری ہوتا ہے اور کئی بار طویل اور مستقل بھی ہوتا ہے. ہمارا شہر ہمارے اندر کی معصومیت کو چھین رہا ہے. کام سے لے کر ٹریفک کی کشیدگی، شام تک گھر پہنچتے پہنچتے ٹی وی چینلو کے سیاسی کشیدگی میں گھلتے ہی شہری گروپ کو ایک بھیڑ میں بدل دیتا ہے. جہاں دلائل اور حقائق کے پار جاکر مارو مارو کی آواز آتی ہے.آپ یقین نہیں کریں گے. ایک مٹھائی کی ایک چھوٹی سی دکان پر گیا. خالی دکان تھی اور گلی میں تھی. ٹی وی چل رہی تھی. ٹی وی پر مذہبی مشاعرہ چل رہا تھا. دکاندار اکیلے میں چلا رہا تھا. مارو ان کو مارو. ان مسلمانوں کو مارو تبھی ٹھیک ہوں گے. میں نے ٹی وی کے اس اثر کو جانتا ہوں مگر آنکھوں سے دیکھ کر حیران رہ گیا.

مزید پڑھیں >>

گؤ راکشس: اس کے رکشک اور بھکشک!

وزیراعظم کو بالآخر احساس ہوگیا کہ اب مونی بابا بنے رہنے سے کام نہیں چلے گا اس لیے پہلے تو انہوں نے سابرمتی آشرم میں اشاروں کنایوں میں مذمت  کی اور پھر کل جماعتی نشست میں کھل کر بولے لیکن یہ ساری مشقت  بے سود رہی  اس لیے کہ مودی جی  قوم  کا اعتبار کھوچکے ہیں۔ پارلیمانی سیشن سے قبل کل جماعتی اجلاس میں  وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ ’’ گئورکشا کے نام پر تشدد برداشت نہیں کیا جائے گا‘‘۔ قوم یہ جاننا چاہتی ہے کہ اس پرصرف بیان بازی ہوگی یا  حکومت کی جانب سے کوئی اقدام بھی کیا جائیگا؟ مودی جی نے بڑی چالاکی سےایکشن لینے   کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں پر ڈال دی  اور’’ریاستی حکومتوں  کو تلقین کی کہ  وہ اس تشدد  میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کریں ‘‘۔سوال یہ ہے کہ اگر کوئی صوبائی حکومت اپنے فرض منصبی کو  ادا کرنے میں کوتاہی کرے تو وہ کیا کریں گے؟ کیا وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں گے یا کسی وزیر یا افسر کے خلاف کوئی  تادیبی کارروائی کریں گے؟

مزید پڑھیں >>

ڈاکٹر ذاکر نائک کی بزدلی

کسی شہری کے لئے یہ آخری درجہ کی بات ہے کہ اس کے ملک کی حکومت اس کا پاسپورٹ منسوخ کردے۔ شراب کے بہت بڑے تاجر اور ہوائی جہازوں کے مالک وجے مالیہ کا پاسپورٹ اس لئے منسوخ کیا گیا تھا کیونکہ وہ ملک کے بینکوں کا ہزاروں کروڑ روپئے نہ دینے کی وجہ سے لندن بھاگ گیا تھا۔ اور آج سواسو کروڑ ہندوستانیوں میں جو باشعور ہیں وہ اس سے نفرت کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر ذاکر نائک جو لگ بھگ 20  سال سے ’’مفسر قرآن اور داعی اسلام‘‘ کی حیثیت سے نہ صرف ہندوستان بلکہ دوسرے ملکوں میں بھی اپنی عظمت کا پرچم لہرا رہے تھے انہوں نے کیوں یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہندوستان سے عمرہ کرنے جائیں گے اور فرار ہوجائیں گے؟ہمارے محدود علم کی حد تک انہوں نے جو کچھ ہندوستان میں کیا وہ دستور کے اندر کیا۔ اپنے مذہب پر عمل کرنا اور اپنے مذہب کی تبلیغ کرنا ہندوستان میں اتنا عام ہے کہ نہ جانے کتنی عیسائی مشینریاں ہندوستان میں اربوں روئے خرچ کررہی ہیں  اور آج سے نہیں وہ تو 15  ویں صدی سے جب سے واسکوڈی گاما کے بتائے ہوئے راستے پر عیسائی ہندوستان آنا شروع ہوئے۔

مزید پڑھیں >>

فلسطین کا حق دار کون: اسرائیل یا فلسطینی مسلمان؟

اگر یہودی آج بھی اپنی اسلام دشمنی اور مسلم دشمنی سے باز آجائیں اور فلسطین کے معزز شہریوں کی حیثیت سے فلسطین میں رہنا چاہیں ، تو مسلم قوم کووہ دوسروں سے زیادہ عالی ظرف اور فراخ دل پائیں گے۔ لیکن اگروہ مسلم امت کی غیرت وحمیت اور اس کے وقار کو چیلنج کرتے ہیں اور ظلم وبربریت سے اس کے کسی خطۂ زمین پر قبضہ کرکے اسے یہودی ریاست بنانا چاہتے ہیں ،تو مسلم امت کسی بھی حال میں یہ ذلت برداشت نہیں کرسکتی، وہ آخر دم تک اس کے لیے لڑتی رہے گی۔ اگرمسلم امت کے سروں پر مسلط کچھ حکمرانوں اور بادشاہوں کا خون سفید ہوگیا ہے،تو اس سے اسرائیل کودھوکہ نہیں کھانا چاہیے! اسرائیل کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے، کہ آج بھی مسلم امت کی رگوں میں دوڑنے والا خون نہایت سرخ ہے اور ایمانی حرارت سے کھول رہا ہے، وہ اسلامی مقدسات کے تحفظ کے لیے ہربازی کھیل سکتی اور اپنی قیمتی سے قیمتی متاع کو داؤں پر لگا سکتی ہے!وہ اپنے سروں پر مسلّط ظالم وجابر اور اسلام دشمن حکم رانوں اور بادشاہوں سے بھی عاجز آچکی ہے اور اللہ تعالی کی مدد شامل حال رہی، تو وہ وقت دور نہیں جب وہ ان سب کو اپنے پیروں سے روند کرسارے عالم کے لیے نمونۂ عبرت بنادے گی!

مزید پڑھیں >>

کیا پرائیویسی کے لیے نیا قانون بنے؟

حکومت کی فائلوں پر خفیہ لکھا ہوتا ہے، اس کا مطلب ہے یہ معلومات عوامی نہیں ہوگی. اسی طرح ہماری اپنی زندگی کی کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جن کے بارے میں ہم نہیں چاہتے کہ دنیا جانے. کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے نام سے لکھا گیا خط کوئی اور پڑھ لے اور یہ بھی جان لے کہ خط کہاں سے آیا ہے. آپ خط سینے سے لگا کر پڑھتے ہیں یا ساری دنیا کو دکھا کر پڑھتے ہیں. یہ مثال اس لیے دے رہا ہوں تاکہ یہ بات سب کے سامنے برابری سے صاف ہو جائے کہ سب کے سامنے خط کا پڑھنا پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے. جیسے اگر میں آپ کی پاس بک لے کر دیکھنے لگ جاؤں کہ کتنی رقم ہے تو آپ کو برا لگے گا. جس طرح سے حکومت کی رازداری اس کی پرائیویسی ہے، اسی طرح سے آپ کی پرائیویسی یعنی پرائیویسی کی بھی رازداری ہے. آج کل آدھار بہت چیزوں میں لازمی کیا جانے لگا ہے. آدھار کارڈ میں آپ کی بہت سی معلومات ہوتی ہیں. ان سب معلومات کو آج کل ڈیٹا کہتے ہیں. دنیا کے کسی بھی ملک میں یہ ڈیٹا محفوظ ہوتے ہوئے بھی آخری طور پر محفوظ نہیں ہے. ایک جگہ جمع ہونے کی وجہ سے ان اڑا لینے کا خطرہ رہتا ہے. اڑایا بھی گیا ہے. سپریم کورٹ میں آدھا کو بايومیٹريك یعنی آنکھوں کی پتلی، انگلیوں کے نشانات سے شامل کرنے کے خلاف 20 یاچیکاییں دائر ہیں.

مزید پڑھیں >>

کسانوں کے مسائل کا حل کیا ہے؟

مسئلہ یہ ہے کہ کسان دہلی آ جاتے ہیں تب بھی ان کی کوئی نہیں سنتا، میڈیا میں آ جاتے ہیں تب بھی کسی کو فرق نہیں پڑتا. ایسا نہیں ہے کہ حکومت کچھ کرنے کا دعوی نہیں کرتی ہے، اس کے تمام دعووں اور منصوبوں اور ان کی ویب سائٹ کے بعد بھی کاشت کا بحران جہاں تہاں سے نکل ہی آتا ہے. کسان دوبارہ جنتر منتر پر آ گئے ہیں. مدھیہ پردیش کے مندسور سے آل انڈیا کسان جدوجہد رابطہ کمیٹی نے کسان مکتی یاترا نکالی، جس میں 6 ریاستوں سے ہوتے ہوئے دہلی پہنچی ہے. اس سفر کو ملک کے 150-200 سے زیادہ کسانوں کی تنظیموں نے حمایت دی ہے. اسٹیج پر کسان لیڈروں کے علاوہ پہلی بار خود کشی کرنے والے کسانوں کے بچوں نے بھی اپنا درد دہلی والوں کو سنایا. اس امید میں کہ دہلی کے لوگوں کو سنائی دیتا ہو گا. مہاراشٹر سے چل کر جنتر منتر پر ان بچوں کا آنا ہم سب کی ناکامی ہے. میں جانتا ہوں کہ اب ہم سب ہر طرح کی ناکامی کے عادی ہو چکے ہیں. فرق نہیں پڑتا، مگر یہ بچے ایک اور بار کوشش کر رہے ہیں کہ جھوٹے آنسو رونے والی حکومتیں اگر کچھ کرتی ہیں تو ان کا اثر کہاں ہے. کیا اس حکومت کو شرم نہیں آرہی ہے جس نے ان بچوں کو صرف یقین دہانی کے سوا کچھ نہیں دیا ہے.

مزید پڑھیں >>

بدعنوان اور جرائم پیشہ نمائندوں کا صدر

جمہوریت کا دعویٰ ہے عوام کی حکومت، عوام کے ذریعہ اور عوام کے لیے۔ آئیے اس دعویٰ کی حقیقت  صدارتی انتخاب کی روشنی میں ملاحظہ فرمائیں ۔ ہندوستان کی کل آبادی 134 کروڈ ہے اور  نومبر 2016 کو سرکار کے ذریعہ اعداوشمار کے مطابق جن لوگوں کی سالانہ آمدنی ایک کروڈ یا اس سے تجاوز کرتی  ہے ان کی تعداد 45 ہزار سے کچھ زیادہ  ہے  یعنی 30 لاکھ لوگوں میں ایک کروڈ پتی ہے۔ اس کے برعکس عوام کےان  نمائندوں کی حالت دیکھیں جن لوگوں نے ملک کا نیا صدر منتخب کرنے کیلئے اپنے قیمتی ووٹ کا استعمال کیا۔ ان 4852 ارکان پارلیمان اور اسمبلی میں 71 فیصد کروڈ پتی ہیں۔ یعنی ہر 150 میں سے ایک کروڈ پتی۔  سوال یہ ہے کہ عوام اور ان کے نمائندوں کی خوشحالی میں  یہ ایک کے مقابلے 20 ہزار کا فرق کیسے واقع ہوگیا ؟ عوام کے نمائندے ان 20 ہزار گنا خوشحال کیسے ہوگئے؟ ایک سوال یہ بھی ہے جمہوری نظام  غریب عوام اپنے جیسے غریبوں کو اپنا نمائندہ بنانے کی اجازت کیوں نہیں دیتا ؟  اور آخری بات یہ ہے کہ  کیا عوام کے نمائندگی کا دم بھرنے والا یہ امیر کبیرطبقہ   ان کا حقیقی نمائندہ بھی ہے؟ اگر نہیں تو جس سیاسی نظام  نے  انہیں اس جعلی  سرٹیفکٹ سے نوازہ ہے وہ عوام کے لیے رحمت ہے یا زحمت ہے؟

مزید پڑھیں >>

زعفرانی خانہ جنگی: یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے؟ 

یوگی ادیتیہ ناتھ کی حکومت کاابھی  40 واں بھی نہیں ہوا تھا کہ سہارنپور کا فساد پھوٹ پڑا جس نے دلتو ں کو  ٹھاکروں کے خلاف متحد کرکے بی جے پی سے دور کردیا اور سیکڑہ پورا  ہوتے ہوتے دیگر پسماندہ ذاتوں اور براہمنوں کے درمیان لڑائی لگ گئی ۔ اس طرح براہمن ، راجپوت، پسماندہ اور دلت اتحاد ڈھاک کے پات کی مانند بکھر گیا ۔ یوگی ادیتیہ ناتھ کی تاجپوشی کے 100ویں  دن جو کچھ ہوا وہ بالکل فلمی تھا بلکہ اگر اس کا منظر نامہ سلیم جاوید بھی لکھتے تو ایسا دلچسپ اور سنسنی خیز  نہ ہوتا۔ ان واقعات نے80  کی دہائی کے فلمساز ارجن ہنگو رانی یاد تازہ کردی ۔ وہ بہت باصلاحیت  فنکار نہیں تھا لیکن ہر فن مولیٰ  تھا ۔ فلمسازی کے علاوہ ہدایتکاری  کے فرائض بھی انجام دیتا  اور بوقت  ضرورت منظر نامہ لکھ مارتا لیکن اس کی فلمیں باکس آفس پر خوب کماتی تھیں بالکل مودی جی کی طرح جونہ دانشور ہیں اور نہ  رہنما ئی کی خاص صفات کے حامل  ہیں لیکن  کبھی نیتا بن کر اپنے ساتھیوں کو ڈراتے ہیں تو کبھی ابھینتا بن کر رائے دہندگان کا دل بہلاتے ہیں ۔ کبھی قہقہہ لگاتے ہیں تو کبھی آنسو بہاتے ہیں اوراپنی تمام تر نااہلی کے باوجود ای وی ایم پر خوب دھوم مچاتے ہیں.

مزید پڑھیں >>

بہار میں ہندستانی سیاست کا نیا دنگل

 بہار کی حکومت سازی میں نتیش کمار کو کم سیٹوں کے باوجود وزارتِ اعلا کی کرسی ملی۔ اس میں انھیں فائدہ تھا اس لیے وہ بہ خوشی تیار رہے۔ مگر لالو پرساد یادو کی مقبولیت اور سیاسی گرفت سے نتیش کمار کو ہمیشہ خطرہ رہتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے خلاف چھوٹے موٹے سوالات پر بیان دے کر ایک دوسرے کو احساس کراتے رہتے ہیں کہ یہ ساتھ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے۔ لالو یادو کے لیے یہ مسئلہ ہے کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی سے پچیس برس سے زیادہ دنوں سے دور ہیں ۔ کانگریس مخالف سیاسی منچ میں لالو یادو کی حیثیت 1990 ء سے ہی مرکزی طور پر تسلیم شدہ ہے۔ اس لیے ان کے اِدھر اُدھر ہونے کا سوال کم ہے۔ شاید اسی لیے بھارتیہ جنتا پارٹی کی ساری جانچ ایجنسیاں اور بہار کے بھاجپا لیڈران بھی نتیش کمار کے بجاے لالو اور ان کے بیٹوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ نتیش کمار کے پاس ہمیشہ یہ راستہ ہے کہ وہ لالو کا ساتھ چھوڑ کر بھارتیہ جنتا پارٹی سے مل کر یا باہر سے مدد لے کر سرکار بنالیں۔ بھاجپا کا مفاد یہ ہے کہ بہار کی سرکار ٹوٹے گی تو لالو کمزور ہوں گے اور ملک گیر سطح پر 2019ء کے انتخاب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف مہم چلا پانے میں وہ پچھڑ جائیں گے۔

مزید پڑھیں >>

چین کی پھلجھڑيوں کے علاوہ اس کی مخالفت کرنا چاہیں گے؟

میڈیا میں بھارت چین کے کاروباری رشتے کی کئی کہانیاں ہیں. آپ خود بھی کچھ محنت کیجیے. باقی چین کی مخالفت بھی کیجیے، اس میں کچھ غلط نہیں ہے لیکن جو آپ کے گھر میں گھس گیا ہے اس سے شروع کر سکتے ہیں. چین کی لڑياں تو ویسے بھی دیوالی کے بعد بیکار ہو جاتی ہیں. مخالفت کیجیے مگر اس کا مقصد بڑا کر لیجئے. میں نے یہ اس لئے لکھا کہ ہو سکتا ہے چینی لوازمات کی مخالفت کرنے والے پڑھتے نہیں ہوں یا حکومت سے پتہ نہ چلا ہو لیکن اب وہ اپنی معلومات کو اپ ڈیٹ کر اس میسج کو وهاٹس اپ یونیورسٹی کے مایوسی کاکا کو دے سکتے ہیں تاکہ وہاں سے سرٹیفاي ہوکر یہ جلد ہی ملک بھر میں گھومنے لگے.

مزید پڑھیں >>