آج کا کالم

سی بی آئی جج کی موت کو لے کر اٹھے سوال

رپورٹ بہت طویل ہے اور ڈراونی ہے. اگر ایک جج کی موت سے منسلک سوالات ادھورے رہ سکتے ہیں تو ہم کس نظام میں رہ رہے ہیں. كیرواں نے ایک اور رپورٹ شائع کی ہے، اس رپورٹ کے بعد. جس میں بتایا ہے کہ ایک جج کو اس کیس کو آباد کے لئے سو کروڑ کی رشوت کی مبینہ طور پر پیشکش ہوئی تھی. اس کا ذکر یہاں نہیں کیونکہ جج کی موت سے منسلک سوالات ابھی ختم نہیں ہوئے ہیں. آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ کیوں دہلی پر برف کے سلی پڑی ہے. کیا ایک جج کی موت کی تحقیقات سے لے کر پوسٹرمارٹم رپورٹ تک میں اتنے فرق ہو سکتے ہیں، سنندا پشکر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ تو روز ٹی وی پر کھولتا ہے، کھلنی بھی چاہیے مگر جسٹس لويا کے خاندان والوں کو کیا جواب ملے گا. ناگپور کے سيتاودي پولیس اسٹیشن اور سرکاری میڈیکل کالج کے دو ذرائع نے نرنجن ٹاكلے کو بتایا کہ انہوں نے آدھی رات کو ہی لاش دیکھ لی تھی، اس کا پوسٹ مارٹم بھی اسی وقت کر لیا گیا تھا. مگر پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی اطلاع کا وقت سوا چھ بجے ہے. پوسٹ مارٹم شروع ہوتا ہے 10 بجکر 55 منٹ پر اور ختم ہوتا ہے 11 بجکر 55 منٹ پر. موت کا وقت اور پوسٹ مارٹم کے وقت کو لے کر دو طرح کی رائے ہیں.

مزید پڑھیں >>

نیتاؤں کے بگڑے بول، آخر حدود کیوں پھلانگے جا رہے ہیں؟

'سشیل مودی نے گنڈاوں سے فون کروایا کہ سابق وزیر صحت سے بات کرنی ہے تو میں نے کہا کہ بولئے بول رہے ہیں. پھر بولا کہ میرے لڑکا ہے کے اتکرش مودی اس کی شادی ہے. بياه میں بلا رہا ہے، بے عزت کر رہا ہے. بياه میں جائیں گے تو وہیں پول کھول دیں گے عوام کے درمیان. پوری عوام کے درمیان. جنگ چل رہا ہے. ہم نہیں مانیں گے. ہم وہاں بھی سیاست کریں گے کیونکہ اس طرح چھلنے کا کام کیا ہے غریب گربا کو، اس کے گھر میں گھس کر ماریں گے. گھر میں گھس کر. ہم لوگ رکنے والے نہیں ہیں. اگر شادی میں بلائے گا تو وہیں سبھا کر دیں گے.' یہ اشيروچن تیج پرتاپ یادو کے ہیں جو راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر ہیں. سخت قابل مذمت. کسی نے بلایا تو مت جائیں مگر یہ کیا کہ گھر میں گھس کر ماریں گے. میرے حساب سے تو جائیں بھی اور سشیل مودی کے سامنے بیس رس گلے کھا جائیں. ایک دوسرے کی خوب مخالفت بھی کیجیے مگر عزت کے ساتھ بھی یہ کام کیا جا سکتا ہے. ایسی زبان تبھی نکلتی ہے جب توازن کھوجایے یا مایوسی بڑھ جاتی ہے.

مزید پڑھیں >>

پدماوتی: دیتے ہیں دھوکہ یہ بازیگر کھلا

فلم کی تشہیر کے لیے فلمساز مختلف النوع طریقہ استعمال کرتے ہیں مثلاً سلمان خان کی نریندر مودی کے ساتھ پتنگ بازی۔ فلم  پدماوتی پرراجستھان کی کرنی سینا نے تاریخی حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ یہ کون لوگ ہیں؟ اور پدماوتی کی مخالفت کے علاوہ کیا کرتے ہیں یہ کوئی نہیں جانتا ؟  اس کے باوجود ہر روز ان کی مہربانی سے پدماوتی کا نام  سارے اخبارات کے صفحۂ اول کی زینت بن جاتا ہے۔ یہ حضرات ٹیلیویژن پر بھی پدماوتی کی خدمت انجام  دیتے ہیں ۔ ٹائمز ناو کے ایک شو میں سینا کا ایک ذمہ دار تلوار لے کر پہنچ گیا۔ جب سوال کیا گیا کہ علاوالدین خلجی نے  کس سن میں چتوڑ پر حملہ کیا تو اس کا جواب ان کے پاس نہیں تھا بلکہ وہ چیخ چیخ کر یہی کہتے رہے کہ پدماوتی نے 16 ہزار عورتوں کے ساتھ جوہر کی رسم ادا کی۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آپ تلوار سے کسے ڈرا رہے ہیں ؟ جواب دیا پدماوتی ہمارے لیے  دیوی کا درجہ رکھتی ہے۔ کیا دیپکا اس کے برابر ہوسکتی ہے؟ وہ کیوں کہتی ہے کہ یہ فلم ریلیز ہوکر رہے گی۔ یہ  ڈرامہ دیکھتے ہوے  ایسا نہیں لگ رہاتھا کہ قومی ٹیلیویژن چینل پر کوئی سیاسی مباحثہ  ہورہاہے بلکہ یہی محسوس ہوتا تھا کہ پدماوتی کی تشہیر کا سستا ناٹک  کھیلا جارہاہے۔ عصر حاضر میں طوائف کے لقب سے نوازے جانے والے ذرائع ابلاغ سے یہ توقع بیجا بھی نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>

عدل کا چشمہ سوکھ گیا، عدل کے پیاسے پیش ہوئے!

افراد کے امراض کا علاج اسپتال میں ہوتا مگر اجتماعی بیماریوں  سے نجات کے لیے عدالت سے رجوع کیا جاتاہے۔ ایسے میں اگر عدلیہ خود بیمار ہوجائے تو سماج کی دگرگوں  حالت زارکا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ سپریم کورٹ میں جاری حالیہ تنازع  گواہ  ہے کہ نظام حکومت کے اس اہم ترین ستون کو بھی بدعنوانی کی دیمک چاٹنے لگی ہے۔ اس کے اپنے بوجھ سے زمین دوز ہوجا نےپر عدل و انصاف کا چراغ بجھ جائیگا اور چہار جانب جبر و ظلم کی ظلمت چھا جائیگی۔ حکومت کی گاڑی کے چار پہیوں پر چلتی ہے۔ ان  میں سے ایک انتظامیہ، دوسرا مقننہ، تیسرا عدلیہ اور چوتھا  ذرائع ابلاغ ہے۔ آزادی کے بعد سب سے پہلے انتظامیہ کے اندر بدعنوانی کے مرض  نے اپنے قدم جمائے اس کا آغاز  پنڈت نہرو کے زمانے میں ہوگیا تھا۔ اندرا گاندھی کے دور اس نے مقننہ میں پیر پسارنے شروع کیے آگے چل  کے مسٹر کلین کے کہلانے والے راجیو گاندھی کو اقتدار سے بے دخل ہونا پڑا۔ ذرائع ابلاغ کو طوائف الملوکی کا شکار کرکے کوٹھے پر نیلام کرنے کا کارنامہ نریندر مودی کے زمانے میں  انجام دیا گیا۔ عدلیہ سے کھلواڑ  کا آغاز ویسے اندرا جی کے دور اقتدار میں ہوچکا تھا لیکن اب وہ خود اپنے پیر پر کلہاڑی ماررہا ہے۔ حکمرانوں کو اس  سے بے چینی نہیں ہے  کیونکہ ہر بدعنوان چاہتا ہے ساری دنیا اس کی مانند کرپٹ ہوجائے نیز اس پر اعتراض کرنے والا کوئی باقی نہ رہے۔

مزید پڑھیں >>

ایسے بنے گا اکیسویں صدی کا ہندوستان؟

حکومتیں اعلان کر دیتی ہیں، تالی بج جاتی ہے. پھر پیچھے پلٹ کر نہیں دیكھتيں. اب دیکھئے، منتري جي نئے میڈیکل کالج کھولنے کی بات بتا گئے، کچھ نئے خواب دکھا گئے. لیکن انوراگ آپ کو گزشتہ فیصلوں کی حقیقت دکھانا چاہتے ہیں. مدھیہ پردیش کے تمام میڈیکل، ڈینٹل، نرسنگ اور آیرویدک کالجوں کو ریگولیٹ کرنے والی میڈیکل یونیورسٹی جبل پور کے درشن کرانا چاہتے ہیں. پوری ریاست کے میڈیکل ایجوکیشن سیکٹر کو ہینڈل کرنے والی میڈیکل یونیورسٹی، جبل پور میں کرایہ کے چار کمروں میں کام ہوتا ہے. محض چار کمروں سے. چار کمروں کی اس یونیورسٹی کی کمر ٹوٹی ہویٔی ہے. اس میڈیکل یونیورسٹی میں پچاسي فیصد سے زیادہ عہدے خالی پڑے ہیں. اور تو اور یونیورسٹی میں کوئی امتحان کنٹرولر تک نہیں ہے جس سے کہ ریاست کے میڈیکل ایجوکیشن سیکٹر کا حال سمجھا جا سکتا ہے. وزیر جی نے پرانا تو ٹھیک نہیں کیا مگر نیے کا اعلان کر دیا.

مزید پڑھیں >>

ہمارے بھارت کے یہ 2464 بكلول لوگ

بی جے پی کے رہنما اور سمرتھک کس طرح لوگوں کی رائے کا جشن منا رہے ہیں. میری رائے میں انہیں بھی ان 2464 لوگوں کو سمجھانا چاہئے کہ بھائی، پارلیمنٹ، کورٹ کو بائی پاس کرنا ہمارے مودی جی کے مفاد میں ہی نہیں ہے. یہ سب سے پہلے ہو چکا ہوتا تو آج مودی جی وزیر اعظم ہی نہیں بن پاتے. ویسے بھی پارلیمنٹ کا سیشن ہم انتخابات کے حساب سے مینج کر لیتے ہیں تو اسے بائی پاس کرنے کی بات کیوں کرتے ہو. پارلیمنٹ ہونا چاہئے. غنیمت ہے کہ ان 10 ہندوستانیوں نے یہ نہیں کہا کہ کورٹ کی ضرورت نہیں ہے. صرف مضبوط لیڈر کے لئے بائی پاس کرنے کی بات کہی. مگر یہ 2464 قانون بنانے کا براہ راست حق اپنے پاس رکھنا چاہتے ہیں، پارلیمنٹ کے ارکان کو نہیں دینا چاہتے. پنجاب یونیورسٹی کو بتانا چاہئے کہ ہم نے ایسے لوگوں کو چنا ہے جنہیں نہ جمہوریت کی سمجھ ہے اور نہ فوجی کا پتہ ہے. انہیں لے جا کر کسی ملٹری گراؤنڈ میں دس راؤنڈ لگانا چاہئے تب پتہ چلے گا کہ فوجی کیسا ہوتا ہے. یہی نہیں دونوں ہاتھ اوپر کر بندوق لے کر ریسر سے ایک ہی راؤنڈ میں پتہ چل جائے گا.

مزید پڑھیں >>

معمولی آدمی کی فلم اور اس کے نمائندے کیجریوال

جس دن امریکہ سے یہ سروے ہمیں پروسا گیا ہے کہ %55  بھارتی مضبوط لیڈر کو ترجیح دیتے ہیں، اس کے ٹھیک ایک دن بعد ایک فلم آ رہی ہے جس کا اردو میں مطلب ہے 'معمولی آدمی'. آپ اس اتفاق پر مسکرا سکتے ہیں. آپ کی مسکراہٹ کم اہم نہیں ہے. یہ فلم ان تمام طرح کے خدشات کو مسترد کرتی ہے کہ بغیر وسائل اور معاہدے کے کوئی سیاست میں جگہ نہیں بنا سکتا. یہ فلم یہ بھی بتاتی ہے کہ جب آپ سیاست میں آئیں گے تو سمجھوتے آپ کا امتحان لینے آئیں گے. عام آدمی پارٹی کا پہلا سال اور اس کے پہلے کے دو سال جذباتیت بھرے سال تھے. جذبات کا غلبہ تھا. مگر فلم بنانے والے نے اپنے کیمرے سے ان جذبات کو نکال دیا ہے. وہ خود ایک معمولی آدمی بن کر ایک معمولی آدمی کے رہنما بننے کی کہانی کو ریکارڈ کرتا ہے.یہ فلم ایک نئے سیاسی خواب کے طور پر ابھر رہی عام آدمی پارٹی کا سفر نہیں ہے بلکہ اس سیاست کو قریب سے دیکھنے کی چاہ لئے نوجوانوں کی بھی یاترا ہے.

مزید پڑھیں >>

ایماندار افسروں کے لئے نظام میں گنجائش کہاں؟

ہریانہ کے آئی اے ایس افسر اشوک کھیمکا نے تبادلے میں نصف سنچری بنایی ہے. 51 ویں بار ان کا تبادلہ ہوا ہے. ایک تبادلے سے دوسرے تبادلے کے درمیان ایک افسر کس طرح جیتا ہے، نئے اور پرانے محکموں کے اس ماتحت یا وزیر اس کے آنے اور جانے کو کس نگاہ سے دیکھتے ہیں، مجھے یہ سب سمجھنے میں دلچسپی ہو رہی ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اشوک کھیمکا کے ساتھ ہونے جا رہی یہ بات چیت آئی اے ایس اور آئی پی ایس یا کسی بھی سطح کے لوك سیوك کا امحتان دینے جا رہے نوجوانوں کے لئے کوچنگ کا کام کرے. کیا تبادلہ کسی ایماندار افسر کو توڑ دیتا ہے، کیا اس کے خاندان والے اسی سے تنگ آ جاتے ہیں، اس کے خاندان پر کیا اثر پڑتا ہے، کیا ایماندار افسر کو مدھیہ مارگ ہونا چاہئے، مثلا کچھ کمانے دینے چاہئے اور کچھ کو کمانے نہیں دینا چاہئے.

مزید پڑھیں >>

عالمی یوم برداشت

 برداشت، علم نفسیات کا ایک اہم موضوع ہے۔ ماہرین نفسیات کے مطابق اس دنیامیں وارد ہونے والا ہر فرد بالکل جدا رویوں اور جداجدا جذبات و احساسات و خیالات کا مالک ہوتاہے۔ اپنے جیسا ایک انسان سمجھتے ہوئے اسے اسکاجائزمقام دینا ’برداشت‘ کہلاتا ہے۔ اس تعریف کی تشریح میں یہ بات کھل کرکہی جاتی ہے کہ دوسرے کے مذہب، اسکی تہذیب اور اسکی شخصی وجمہوری آزادی کومانتے ہوئے اس کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا ’برداشت‘ کے ذیلی موضوعات ہیں۔ دیگرماہرین نفسیات نے ’’برداشت ‘‘ کی ایک اورتعریف بھی کی ہے۔ ان کے مطابق ’دوسرے انسان کے اعمال، عقائد، اس کی جسمانی ظواہر، اسی قومیت اور تہذیب و تمدن کو تسلیم کرلینا برداشت کہلاتی ہے‘۔ برداشت کی بہت سی اقسام ہیں، ماہرین تعلیم برداشت کو تعلیم کا اہم موضوع سمجھتے ہیں، ماہرین طب برداشت کو میدان طب و علاج کا بہت بڑا تقاضاسمجھتے ہیں، اہل مذہب کے نزدیک برداشت ہی تمام آسمانی تعلیمات کا خلاصہ ہے جسے آفاقی صحیفوں میں ’صبر‘ سے موسوم کیا گیا ہے اورماہرین بشریات کے نزدیک برداشت انسانی جذبات کے پیمائش کا بہترین اور قدرتی وفطری پیمانہ ہے۔

مزید پڑھیں >>

بی جے پی سانسد آر کے سنہا کی صفائی اشتہار کی شکل میں کیوں شائع ہویٔی؟

پیراڈایٔس پیپرس میں بی جے پی کے راجیہ سبھا ممبر پارلیمنٹ آر کے سنہا کا بھی نام آیا تھا. انڈین ایکسپریس اخبار نے ان کی صفائی کے ساتھ خبر شائع تھی. پیراڈایٔس پیپرس کی رپورٹ کے ساتھ یہ بھی سب جگہ چھپا ہے کہ اسے کس طرح پڑھیں اور سمجھیں. صاف صاف لکھا ہے کہ آف شور کمپنی قانون کے تحت ہی بنائے جاتے ہیں اور ضروری نہیں کہ تمام لین دین مشتبہ ہی ہو مگر اس کی آڑ میں جو کھیل کھیلا ہے اسے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے. حکومت کو بھی بھاری بھرکم تحقیقاتی ٹیم بنانی پڑی ہے. خیر اس پر لکھنا میرا مقصد نہیں ہے.آج بہت سے اخباروں میں آر کے سنہا کا بیان اشتہارات کی شکل میں چھپا دیکھا. یہ تشویش کی بات ہے. مجھے معلومات نہیں کہ اخبار نے اس کے لئے پیسے لئے ہیں یا نہیں. اگر مفت میں بھی چھاپا  ہے تو بھی اس طرح سے شائع کرنا غلط ہے. آر کے سنہا نے بطور سانسد راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو کو خط لکھا ہے اور اس خط کو اشتہارات کی شکل میں شایٔع کیا گیا ہے.

مزید پڑھیں >>