گوشہ خواتین

اسلام ،خواتین کے حقوق کا محافظ اور علم بردار (پہلی قسط)

مفتی محمد صادق حسین قاسمی

جب سے مرکزی حکومت نے تین طلاق وغیرہ کے غیر ضروری مسئلہ کو چھیڑا ہے ،اس کی وجہ سے جہاں ملک کی خوش گوار فضا مکد ہوئی ہے وہیں بعض بے لگام اسلام اور عورتوں کے حقو ق کے بارے میں من مانی گفتگو کررہے ہیں ،بکاؤ میڈیا اور زر خرید چینل صبح وشام اسی راگ کو آلاپنے میں لگے ہو ئے ہیں کہ اسلام میں عورتوں کو حقو ق نہیں دئیے گئے ،اور ایک ہنگامہ برپا کررکھا ہے ،بعض نام نہاد ،آزاد مزاج اور مذہب بے زار مسلمان بھی اس سلسلہ میں غیر ذمہ دارانہ بلکہ جاہلانہ طرز عمل اختیار کئے ہوئے ہیں ۔جب کہ حقیقت اور انصاف پر مبنی بات یہ ہے کہ اسلام نے عورت کو جو عزت ،اہمیت اور عظمت اور حقوق دیئے ہیں پوری دنیا اس کا احسان نہیں بھلا سکتی ۔عورتوں کے ساتھ اسلام اور پیغمبر اسلام سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ نے جو سلوک اور معاملہ کیا اور جو اہم ترین تعلیمات دی ہیں وہ رہتی دنیا تک کے لئے ایک بے مثال اسوہ اور نمونہ ہے ۔عورتوں کے حقوق کے لئے آج ہر طرف چیخ و پکار ہے لیکن عملی طور پر کوئی عورت کو اس کا حقیقی مقام دینے اور ان کے ساتھ بہترین سلوک کرنے کے لئے تیار نہیں ،اسلام نے اپنی آمد کے ساتھ ہی عورتوں کو جو حقوق اور تحفظات دئیے اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں اور موجودہ مغربی دنیا نے جو آزادئ نسواں کا لالچ دے کر ان کی عظمتوں کو تارتار کیا ہے اس کے حقائق اور نقصانات کو ملاحظہ کرتے ہیں تاکہ جھوٹاپروپیگنڈہ کرنے والوں کی حقیقت طشت ازبام ہو۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اسلام کی آمد سے قبل جہاں دنیا میں برائیاں ہر قسم کی پھیلی ہوئی تھیں اور ظلم و انصافی کا دور دورہ تھا وہیں عورتوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا،ان پر طرح طرح کے ستم ڈھائے جاتے اور ظلم وزیادتی کا معاملہ کیا جاتا ہے ۔چناں چہ عورت کی ا ن کے یہا ں کوئی عزت باقی نہ تھی،مکان کے دوسرے سامان کی طرح یا مویشیوں کی طرح جہاں چاہتی منتقل کی جاتی،یا ورثہ میں ملتی،کچھ کھانے مردوں کے ساتھ مخصوص تھے،عورتیں ان کو استعمال نہیں کر سکتی تھیں،آدمی جتنی عورتوں سے چاہتا شادی کر سکتا تھا۔( نبئ رحمت ؐ:55)تقریبا عرب وعجم کی یہی صورت حال تھی ،ہندوستان میں عورت کی کوئی اہمیت نہیں تھی،دنیا کے مختلف ممالک میں عورت کو عیب و عار کی چیز سمجھا جاتا اور اس کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک ہوتا ۔ان سخت اور جاں گسل حالات میں اسلام کی آمد ہوئی اور نبئ رحمت ﷺ دنیا میں تشریف لائے اور انہوں نے اپنی پیاری اور انسانیت نوازی والی تعلیمات کے ذریعہ جہاں ہر ایک کو ان حق دیا وہیں بطور خاص جو طبقات سماجی ظلم کا شکار تھے اور معاشرہ میں جن کے ساتھ زیادتی کی جاتی تھی ان کے لئے مستقل تعلیمات عطا کی اور انسانوں کو ان کے ساتھ بھلائی اور خیر خواہی کرنے کی تلقین فرمائی ،چناں چہ عورتوں کے ساتھ جو آپ ﷺ نے رحم وکرم والامعاملہ کیا اور اسلام کی رحمت بھری تعلیمات کے ذریعہ ان کی عظمتوں کو ثریا تک پہنچا اس کی نظیر دنیا پیش نہیں کرسکتی ۔عورت کی مختلف حیثیتیں ہیں ،ماں ،بیٹی ،بیوی ،بہن کی صورت میں ان کے علاحدہ علاحدہ حقوق ہیں ،اسلام نے ان تمام کی بھر پور رعایت کرتے ہوئے سب کو الگ الگ حقوق دئیے ۔ آپ ؐ کی آمد اور بعثت سے عورتوں کی بڑی دست گیری ہوئی اور ان کی حقیقی عظمتیں دنیا کے سامنے آئیں اور نبی کریم ﷺ نے اپنی مبارک تعلیمات میں جگہ جگہ ان کی رفعتوں کو بیا ن کیا اور انسانی زندگی میں ان کی اہمیتوں کو خوب اجاگر کیا۔ آپ ؐ نے خواتین میں مراتب کے لحاظ سے الگ الگ حقوق بتائے اور مرتبوں کی رعایت کے ساتھ ان کے فضائل سنائے۔
عورت بحیثت ماں:
اگر عورت ماں ہے تو آپ ؐ نے اتنی عظمت بیان کی کہ جنت اس کے قدموں کے نیچے قرار دیا (مسند احمد : 15233)تا کہ اولاد خد مت کر کے اس کی مستحق بنیں،اور خو د قران کریم میں ما ں کی بڑی اونچی شان بیا ن کی گئی اور آداب و حقو ق کو بجا لا نے کی تر غیب دلائی ۔آپ ﷺ نے اولاد کو اس اہمیت سے آگاہ کیا کہ اللہ و رسول کے بعد سب سے زیادہ قدر و عزت اور حسن سلوک کی مستحق ماں ہے۔آپ ﷺ کا ارشاد ہے:ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا یا رسول اللہ ﷺ مجھ پر لوگوں میں حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟فرمایا :تیری ماں ،اس نے پھر پوچھا کون؟آپﷺ نے فرمایا:تیری ماں ، اس نے پھر پوچھا کون ؟آپﷺ نے فرمایا: تیری ماں ،اس نے پھر پوچھا تب آپ ﷺ نے فرمایاتیرا باپ۔( بخاری:رقم 5541)اسلام نے عورت اگر ماں ہے تو یہ تعلیم دی بلکہ بعض موقعوں پر نبی کریم ﷺ نے جہاد پرماں کی خدمت کو فوقیت دی ،اور ان کی خدمت کرنے کا حکم دیا ،ااگرایک جائز ہ لیں تو معلوم ہوگا کہ مغربی معاشرہ میں ایک بورھی ماں اس کی اولاد کے لئے بوجھ بنی ہوئی ہے ،اولاد ماں کو اپنی آخری عمر میں اپنے گھر پر رکھ کر خدمت کرنے کے بجائے ’’اولڈ ایج ہوم ‘‘منتقل کردیتی ہے ،اور دیکھیں کہ بیت المعمرین کی کثیر تعداد کن کے یہاں ہیں اور بوڑھے ماں باپ کی خدمت سے کون سا معاشرہ جی چارہا ہے ۔؟زبان سے حقو ق کی بات کرنا تو آسان ہے لیکن عملی طور پر حق اداکرنا ہی بڑا کارنامہ ہے ۔
عورت بحیثت بیوی :
عورت اگر بیو ی ہے تو اس درجہ اس کے ساتھ حسن سلوک اور بہتر برتاؤ کا حکم دیا کہ اسی کو اخلا ق کی کسوٹی بنا یا ،آپ ؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر جو عظیم تعلیمات انسا نیت کو دی اس میں ایک یہ بھی ہے کہ :اے لوگو!تم عورتوں کے بارے میں اللہ تعالی سے ڈرتے رہوکیوں کہ تم نے ان کو اللہ تعالی کی امان سے لیا ہے ۔(مسلم : 2145)اور یہ بھی فرمایاکہ :تم سے بہتر شخص وہ ہے جس کے اخلاق عمدہ ہوں اور بہتر اخلاق رکھنے والا وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ بہتر طریقہ برتتا ہو،اور خو د اپنے بارے میں فرمایا کہ انا خیر کم لاھلی ۔(ترمذی :3859)کہ میں خود اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہو ں،نبی کریم ﷺ نے بیو ی کو بوجھ نہیں بلکہ اس کے ذریعہ ایمان کے مکمل ہو نے کی بشارت دی اور اس کو بے یا ر مددگا ر نہیں چھوڑا بلکہ اس کی تمام ضروریا ت کی ذمہ داری مردوں کے کاندھوں پر ڈالی اور اس کو گھر کی ملکہ بنایا اور عفت و عصمت کی چادر عطا کی ،یہ بھی فرمایا کہ تمہارا بیوی کے منھ میں لقمہ ڈالنا بھی اجر وثواب کا سبب ہے (بخاری:55 )موجودہ دنیا میں اگر دیکھیں کہ بیوی کے ساتھ ناانصافی والا معاملہ کس سماج میں سب سے زیادہ ہے ؟جہاں ازدواجی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ،خاندانی نظام بکھرا ہوا ہے ،مرد کے ساتھ عورت بھی کمائے ،گھر بھی سنبھالے اور بچوں کی پرورش بھی کرے ،اپنے اخراجات خود اٹھائے ،اور ایک مشین کی طرح صبح و شام کام کرے ،یہ تصور کس نے دیا اور عورت سے اس کا حقِ زوجیت کس نے چھینا ؟اسلام نے تو بیوی کو ایک ملکہ کی حیثیت دی اور نان و نفقہ شوہر کے ذمہ ڈالا تاکہ وہ گھر کو حسن و خوبی کے ساتھ چلاسکے اور اولاد کی بہترین پرورش کرسکے ،عورت اگر بحیثیت بیوی گھر کے نظام کو سنبھالے ہوئے ہوتی تو جہاں وہ شوہر کی راحت رسانی کاذریعہ ہوتی وہیں اولاد کے لئے ایک کامیاب ماں بھی ثابت ہوتی اور اہل خانہ کے لئے ایک مثالی کردار اداکرتی ،لیکن موجودہ معاشرہ نے بیوی کا یہ حق بھی چھینا اور آزادی کا ایک ایسا نعرہ لگایاکہ یہ سب کچھ بھلاکر اپنی زندگی اور پوری قوم وملت کی زندگی کو تباہ کرگئی۔
عورت بحیثت بیٹی:
اسلام سے قبل لڑکی کی پیدائش کو سببِ ذلت سمجھا جاتا اور ناجانے کتنی لڑکیوں کو زندہ در گور کردیاگیا ،بے قصور بیٹیوں کو باپ اپنے بے رحم ہاتھوں سے زندہ دفن کردیتا ،لڑکی کی پیدائش باپ کے لئے کسی بھی طرح قابل قبول نہ تھی ،قرآن کریم میں فرمایا گیا:اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی ( پیدائش ) کی خوش خبری دی جاتی تو اس کا چہرہ سیاہ پڑجاتا ہے ،اور وہ دل ہی دل میں کڑھتا ہے ۔اس خوش خبری کو براسمجھتے ہوئے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے،(اورسوچتا ہے کہ ) ذلت برادشت کرکے اسے اپنے پاس رہنے دے یا اسے زمین میں گاڑدے ۔دیکھو انہوں نے کتنی بری باتیں طے کررکھی ہیں۔( النحل:58۔59) لیکن اسلام آیا تو اس پھول کو بھی کھلنے کا موقع ملا بلکہ اسی وجہ سے عورتوں کو زندہ رہنے کا حق ملا ،نبئ رحمت ﷺ نے بیٹیوں کی عظمتوں سے باخبر کیا اور ان کی تربیت و پرورش انعامات الہی کے مژدے سناے۔چناں چہ ارشاد فرمایا:من عال ثلاث بنات فأدبھن وزوجھن و احسن الیھن فلہ الجنۃ۔( ترمذی:رقم4483)جس شخص نے تین لڑکیوں کی پرورش کی ،پھر ان کو ادب سکھایا اور ان کی شادی کی اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کیا تو اس کے لئے جنت ہے ۔ایک حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا:جس شخص نے دو بچیوں کی پرورش کی یہاں تک وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے دن وہ اس حال میں آئے گا کہ وہ مجھ سے اتنا قریب ہوگا جیسے دو انگلیاں قریب ہوتی ہیں۔( مسلم :رقم4771)غرض یہ کہ بہت سی فضیلتیں نبی کریم ﷺ بیٹی کی بیان فرمائی تاکہ لوگوں کے دلوں میں ان کی حقیقی قدر پیدا ہوجائے اور انسانیت کی اس عظیم صنف کی عظمتوں کو سمجھ سکیں ۔زمانہ جاہلیت والا انداز آج بھی ہمارے معاشرہ میں موجود ہے ،لوگوں کی ایک بڑی تعداد لڑکی کی پیدائش کو عار محسوس کرتی ہے اور دنیا میںآنے پہلے اس کو ختم کردیتے ہیں ،حکومت کو بیٹی بچاؤ مہم چلانا پڑرہا ہے اور بیٹی کی پیدائش پر سہولیات کے مختلف اعلانات کرنا پڑرہا ہے ،یہ تصور کس نے دیا اور بیٹی کو بچانے اور بیٹی کوپڑھاکر پروان چڑھانے کی ترغیب آج سے چودہ سوسال پہلے کس کی مبارک زبان نے دی؟؟؟اسلام نے اور نبی کریم ﷺ نے آج سے بہت پہلے لوگوں کو بیٹی بچانے اور بیٹی پڑھانے کے بہت سے فوائد سے آگاہ کردیا ۔
عورت بحیثیت بہن:
عورت اگر بہن ہے تو بھا ئی کی سعادت کا ذریعہ بنا یا ،اور یہ خو ش خبری بھی سنائی کہ اگر کسی کی تین بیٹیاں اور بہنیں ہوں ان کا بار اٹھا ئے اور ان کی اچھی تربیت کی اوران کے ساتھ اچھا سلوک کیا اور پھر ان کا نکاح کردیا تو اللہ کی طرف سے اس بندے کے لئے جنت کا فیصلہ ہے ۔(ابوداؤد :4483)لغر ض اس کے علاوہ بھی اور بہت سارے حقوق مرد پر ڈال کر بنی کریم ﷺ نے اس معمار انسانیت طبقہ کی دست گیری کی اور قعرِ مذمت میں گری ہو ئی ذات کو ثریا کی بلندی پر پہونچایا ،اور جاہلیت کی تمام برائیوں اور بد گمانیوں کا خاتمہ فرماکر عورت کی عظمتوں کو دنیا کے سامنے اس انداز میں پیش کیا کہ جسکی نظیر دکھانےمیں دنیا عاجز ہے اور رہے گی۔  (جاری)

مزید دکھائیں

متعلقہ

Close