جسے ڈھونڈتی ہیں نگاہیں ہماری

چودھری عبد اللہ بن حمید اللہ ساحل

(ممبرا، ممبئی)

جسے ڈھونڈتی ہیں نگاہیں ہماری

کہاں کھو گئی وہ میری جان پیاری

…

نہ پیغام آیا ہے برسوں سے اس کا

میں بیٹھا ہوں صدیوں سے بس انتظاری

…

ہر اک شام جا کر تیری رہ گزر میں

نشاں ڈھونڈتا ہوں قدم کے تمہاری

…

تمہارے بنا زندگی میری تنہا

دیوانہ ہوں یا پھر ہے چھائی خماری

…

جو ساحل پہ بیٹھے ہوئے منتظر ہیں

نہ سمجھیں گے کیا ھے میری بیقراری

تبصرے بند ہیں۔