لگے ہیں تم میں جو، لائے گئے کرائے پر

احمد کمال حشمی

لگے ہیں تم میں جو، لائے گئے کرائے پر
کہ ہم نے جسم پہ اپنے ہیں خود اگائے پَر
.
کسی کی چال ھے اپنی نہ ھے اڑان اپنی
سبھوں کے پاؤں ہیں مانگے ہوئے، پرائے پَر
.
ارادہ ہم نے کیا ہی نہیں ھے اڑنے کا
ترے قفس میں ہیں ہم خود کتر کے آئے پَر
.
میں تجھکو یوں تو بہت باوفا سمجھتا ہوں
پر اتفاق نہیں سب کو میری رائے پر
.
کسی کو میں نے بسا رکّھا ھے غموں کے عوض
مکانِ دل کو اٹھا رکّھا ھے کرائے پر
.
اثر نہ ہوگا تری سسکیوں کا اس پہ کماؔل
کبھی جو پگھلا نہیں میری ہائے ہائے پر

تبصرے بند ہیں۔