غزل – نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا
راجیندر رمنچندہ بانی
نہ منزلیں تھیں نہ کچھ دل میں تھا نہ سر میں تھا
عجب نظارۂ لاسمتیت نظر میں تھاعتاب تھا کسی لمحے کا اک زمانے پر
کسی کو چین نہ باہر…
ٹرینڈنگ
اپنے پاس ورڈ کی بازیابی کیجیے
آپ کو پاس ورڈ ای میل کیا جائے گا
