ٹرینڈنگ
- طلاق زندگی ہے : سونم اور راجا رگھوانشی کیس کے تناظر میں
- پہلگام حملہ : ایسے حملوں سے پہلے چوکسی کیوں نہیں برتی جاتی؟
- فلسطین اور عرب حکمراں: اسے دوستی کا نام دیں گے یا دغا کا؟
- نفقۂ مطلّقہ کے بارے میں سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ
- ملک کے موجودہ حالات اور ہمارا سیاسی وژن
- الیکشن، نت نئے ایشوز اور ہمارا رول
- نیامشن نیا ویژن
- بھڑوا، کٹوا، ملا آتنک وادی …
- مملکت سعودی عرب: تاریخ، معاشی چیلنجز اور حکمت عملی
- بچوں کو تعلیم کی ضرورت ہے، اجرت کی نہیں
اردو زبان اور اِملا کی معیار سازی کی پہل کون کرے گا؟(1)
اصلاحِ زبان کے نام پر اردو میں باضابطہ طور پر دلی اور لکھنؤ دونوں جگہوں پر تحریکیں چل چکی ہیں۔ مظہر جان جاناں کو اس بات کی فکر دامن گیر تھی کہ ولی اور دکن…
علاج اس کا وہی آبِ نشاط انگیز ہے ساقی
2014 ء کو یہ اُمید جاگی تھی کہ ایک عام آدمی کے ہاتھ میں حکومت آئی ہے تو وہ حکومت کو بھی عام آدمی کی امانت سمجھے گا مگر دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس نے…
’ہندوتو ا سیاست‘ اب بوڑھی ہوچکی ہے
اب دیکھنا ہے کہ ہندوتواکو اپنے نام کرنے کی سیاست میں یہ دونوں پارٹیاں مستقبل میں کیا اسٹریٹیجی اپناتی ہیں لیکن ایک بات تو طئے ہے کہ دونوں کا حالیہ پروگرام…
اردو زبان و تہذیب کے سب سے بڑے جشن ’جشن ریختہ‘ کی آمد
پانچویں جشن ریختہ کی سہ روزہ تقریبات کا آغاز ۱۴ دسمبر سے دلی کے میجر دھیان چند نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے جارہا ہے۔ جشن ریختہ اپنی گزشتہ چار تقریبا ت کی غیر…
سیکولر اقدار کا تحفظ ہر شہری کی ذمہ داری ہے
جس طرح ہندوستان میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کرتے وقت الفاظ کا خیال عموما نہیں رکھا جاتا ہے؛ کچھ لوگوں کا تو یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ نفرت آمیز زبان…
اسرائیل اور افغانستان
اسرائیل اور افغانستان سے متعلق یہ واضح حقائق ہماری نظروں سے اس لیے اوجھل ہوجاتے ہیں اس لیے کہ ہم مغرب کی نگاہ سے حالات کو دیکھتے ہیں۔ مغرب اپنے عیوب کی پردہ…
جناب حاجی عبد الوہابؒ
بستی نظام الدین صوبہ ہریانہ کے شہر میوات کے دہانے پر واقع تھی، میوات قوم کی حالت کچھ اچھی نہیں تھی، یہ لوگ حضر ت نظام الدین اولیاء کی کوششوں سے مسلمان تو ہو…
کیا بدل سکتی ہے راجستھان کی ہوا؟
اگرچہ کانگریسی لیڈروں کا دعوی ہے کہ وسندھرا حکومت اتنی زیادہ غیر مقبول ہے کہ عوام کے پاس سوائے کانگریس کو ووٹ دینے کے، کوئی اور چارہ ہی نہیں ہے۔ بی جے پی…
کیرالا میں اُردو زبان کی مختصر تاریخ
ترورکاڈ میں اُردو کے سب سے بڑے عالم و فاضل جناب ایم۔ علی مولوی صاحب تھے۔ وہ ایس۔ ایم۔ سرورؔ صاحب کے شاگرد تھے۔ ان کو مکمّل طور پر اُردو زبان پر مہارت حاصل…
