ناک میں روز روز دم کرنا

افتخار راغبؔ

ناک میں روز روز دم کرنا

تم سے سیکھے کوئی ستم کرنا

…

دل جو رکھّے اُسی کو دینا دل

غم جو بانٹے اُسی کا غم کرنا

…

روتے روتے وہ مسکرانا ترا

ہنستے ہنستے وہ آنکھ نم کرنا

…

گنگنانا کبھی مرے اشعار

نقشِ پُر شوق پر کرم کرنا

…

اک غزل روز کہہ رہا ہوں میں

شدتِ بے رُخی نہ کم کرنا

…

جانے کیسے وہ ہو گیا راغبؔ

جو نہیں تھا مجھے رقم کرنا

تبصرے بند ہیں۔