وصف اخلاص ہو لقب تقسیم

افتخار راغبؔ

وصف اخلاص ہو لقب تقسیم
ہوتا جاؤں میں بے سبب تقسیم

…

 میرے حصے میں شب بخیر آیا
لفظ وہ کر رہے تھے جب تقسیم

…

دونوں ہی مضطرب ہوئے دو چند
بے قراری ہوئی عجب تقسیم

…

قد میں اوپر نکل گئے بچے
ہم کو ہونا پڑے نہ اب تقسیم

…

انجمن میں تھے بے ادب سارے
اور ہوتا رہا ادب تقسیم

…

در حقیقت وہ ضرب دیتا ہے
اُنس کرتا ہے کوئی جب تقسیم

…

جس پہ ہونا تھا متحد راغبؔ
حیف اُسی بات پر ہیں سب تقسیم

تبصرے بند ہیں۔