حالیہ مضامین

  • روزگار کے اعداد و شمار کا جشن

    ہر کوئی جھوٹ پر ناچ رہا ہے اور ہمارا نوجوان بھی، جس کے دماغ میں نظریے کے نام پر کچرا بھرا جا رہا ہے. جب نوجوان وزیر سے ٹوئٹر پر جواننگ کے بارے میں پوچھتے ہیں تو انہیں بلاک کر دیا جاتا ہے. آپ سمپل سوال کرو. پوچھو کہ وزیر جی! اپنے محکمہ کے آنکڑے ٹویٹ کیجیے نا. دوسرے کی اسٹڈی پر جشن منانا بند کیجیے. تمام حکومتوں کے منتخب کمیشن نوجوانوں کو الو بنا رہے ہیں. جنہیں میڈیا ہندو مسلم ٹاپک دکھا کر دن میں بھی جگائے رکھتا ہے.ہر جگہ روزگار نکال کر کئی سالوں تک بھرتی کے عمل کو پورا نہیں کیا جا رہا ہے. یہ ہماری سیاست کا ایک کام یاب فارمولا بن گیا ہے. بے روزگار کو روزگار مت دو، روزگار کا خواب دو. آپ نوجوانوں کو الو بنائیں، نوجوان الو بنیں گے. بھارت کے نوجوانوں کا اگر یہی معیار ہے تو پھر آپ سیاست میں جائیے، ان کے دماغ میں زہر بھریے، کام کا جھوٹا خواب دکھائیے اور جھوٹے اعداد و شمار پر ڈانس کیجیے. جو بے روزگار ہے، وہ بھی تالی بجائے گا.

    مزید پڑھیں >>
  • نیوٹن اور ڈارون کے بعد اب باری ایڈیسن کی

  • کیا AAP کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟

  • سرکاری نوکریاں کہاں گئیں؟

  • نوکریوں پر نئی رپورٹ: 2017 میں 55 لاکھ نوکریاں ملیں؟

  • کیا AAP کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟

    فائدہ کے عہدے کے پیچھے ماڈل تصور یہ تھا کہ ممبر اسمبلی دوسرے کام نہ کریں کیونکہ اس کا کام ایوان میں ہونا اور عوام کی آواز اٹھانا ہے. وہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہونا چاہئے. ورنہ وہ عوام کی آواز نہیں اٹھا پائے گا. پر کیا یہ عملی طور پر بھی لاگو ہوتا ہے. اول تو اسمبلیوں کے اجلاس بھی بہت کم دنوں کے ہوتے ہیں. کیا یہ اخلاقی جرم نہیں ہے. یہی نہیں، ایم ایل اے ایوان میں وهيپ کی بنیاد پر اپنی پارٹی کے لئے ووٹ کرتا ہے. وہ عوام کا نمائندہ کاغذ پر ہوتا ہے مگر ووٹ پارٹی کے وهيپ کے حساب سے ہوتا ہے. پھر آفس آف پروفٹ کا تصور کا کیا مطلب رہ جاتا ہے. آپ خود بھی سوچئے. ایک بار پانڈی چیري کے میئر کے عہدے پر ممبر اسمبلی کی تقرری ہو گئی. اسے الیکشن کمیشن نے آفس آف پروفٹ سمجھا کیونکہ کئی طرح کے بھتے ملتے تھے. مگر اسے آفس آف پروفٹ نہیں مانا گیا کیونکہ میئر کا عہدہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں آتا تھا. مجموعی طور پر آفس آف پروفٹ کی کوئی ایک درست تشریح نہیں ملتی ہے.2006 میں شیلا دکشت نے کانگریس کے 19 ممبران اسمبلی کو کئی قسم کے عہدے دیے. پارلیمانی سیکرٹری سے لے کر ٹرانس جمنا ایریا ڈیولپمنٹ بورڈ کے چیئرمین، وائس چیئرمین کے طور پر. تقرری کے بعد الیکشن کمیشن نے 19 ممبران اسمبلی کو آفس آف پروفٹ کا نوٹس بھیج دیا. شیلا دکشت اپنی حکومت بچانے کے لئے ایک بل لے آئیں. 14 دفاتر کو آفس آف پروفٹ کے دائرے سے باہر کر دیا.

    مزید پڑھیں >>
  • سرکاری نوکریاں کہاں گئیں؟

  • الفاظ جو دلخراش ہوسکتے ہیں!

  • نوکریوں پر نئی رپورٹ: 2017 میں 55 لاکھ نوکریاں ملیں؟

  • حج سبسڈی کا کھیل ختم، باقی بھی ختم ہو!

  • روزگار کے اعداد و شمار کا جشن

    ہر کوئی جھوٹ پر ناچ رہا ہے اور ہمارا نوجوان بھی، جس کے دماغ میں نظریے کے نام پر کچرا بھرا جا رہا ہے. جب نوجوان وزیر سے ٹوئٹر پر جواننگ کے بارے میں پوچھتے ہیں تو انہیں بلاک کر دیا جاتا ہے. آپ سمپل سوال کرو. پوچھو کہ وزیر جی! اپنے محکمہ کے آنکڑے ٹویٹ کیجیے نا. دوسرے کی اسٹڈی پر جشن منانا بند کیجیے. تمام حکومتوں کے منتخب کمیشن نوجوانوں کو الو بنا رہے ہیں. جنہیں میڈیا ہندو مسلم ٹاپک دکھا کر دن میں بھی جگائے رکھتا ہے.ہر جگہ روزگار نکال کر کئی سالوں تک بھرتی کے عمل کو پورا نہیں کیا جا رہا ہے. یہ ہماری سیاست کا ایک کام یاب فارمولا بن گیا ہے. بے روزگار کو روزگار مت دو، روزگار کا خواب دو. آپ نوجوانوں کو الو بنائیں، نوجوان الو بنیں گے. بھارت کے نوجوانوں کا اگر یہی معیار ہے تو پھر آپ سیاست میں جائیے، ان کے دماغ میں زہر بھریے، کام کا جھوٹا خواب دکھائیے اور جھوٹے اعداد و شمار پر ڈانس کیجیے. جو بے روزگار ہے، وہ بھی تالی بجائے گا.

    مزید پڑھیں >>
  • نیوٹن اور ڈارون کے بعد اب باری ایڈیسن کی

  • قدم قدم پہ ہے بستی میں وحشیوں کا ہجوم

  • کیا AAP کے ساتھ امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟

  • سرکاری نوکریاں کہاں گئیں؟