میں انمول

سہیل بشیر کار

نمرہ احمد نے "میں انمول” ان لوگوں کے لیے لکھی ہے جنہیں خود میں بہتری لانے کی تمنا ہے اور جو محنت کرنا چاہتے ہیں؛ لکھتی ہیں:

 "وہ جو مضبوط اور سحر انگیز شخصیت کے مالک بننا چاہتے ہیں، لیکن اندر سے کمزور ہیں۔ انہیں بہت سے احساس کمتری لاحق ہیں۔ ان کو اپنا ٹیلنٹ نہیں معلوم اور وہ ماضی کے پچھتاؤں سے نکل نہیں پا رہے۔ وہ اندر سے اداس اور تنہا ہیں۔ ان کے پاس اچھے دوست ہیں نہ ان کے رشتے ان کی قدر کرتے ہیں ۔ اور میں انمول ان لوگوں کے لیے لکھی گئی ہے جو خود سے پیار نہیں کرتے ۔ جو اپنی ذات سے دور ہیں۔ جن کو اپنا آپ دریافت کرنے کا وقت ملا نہ فرصت ۔ وہ اپنا ہیرو خود بننا چاہتے ہیں۔ وہ لوگوں سے عزت و حمایت چاہتے ہیں۔۔۔۔ لیکن انہیں یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ اس سفر کی ابتدا کیسے کریں۔” (صفحہ 7)

کتاب کو تینتیس ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ مصنفہ چاہتی ہیں کہ قاری  ایک دن میں صرف ایک باب مکمل کرے۔ بقول ان کے  یہ کتاب ڈپریشن کا علاج تو نہیں لیکن یہ کتاب قاری کو اپنی ذات سے شناسا کرنے  کے لیے ہے۔ اس کتاب میں نمرہ نے اپنے تجربات شئیر کی ہیں لیکن یہ آج کے انسان کی کہانیاں ہے۔ پہلے باب میں مصنفہ نے ایک ایک کرکے مسائل سے قاری کو آگاہ کیا ہے۔ یہ باب پڑھ کر قاری محسوس کرتا ہے کہ جیسے یہ اسی کی کہانی ہے، وہ سیلف ہیلپ پر زور دیتی ہیں۔ سیلف ہیلپ کے بارے میں لکھتی ہیں :”سیلف ہیلپ اپنی ذات کو انسانوں کی قید سے نکالنے کا نام ہے۔ سیلف ہیلپ اپنے دل کو آزاد کرنے کا نام ہے۔ سیلف ہیلپ اپنی زندگی پر اپنا کنٹرول واپس لینے کا نام ہے۔ سیلف ہیلپ خود کو انمول سمجھ کے اپنی قدر کرنے کا نام ہے۔ آپ انمول ہیں۔ میں انمول ہوں ۔ ہم سب اپنی اپنی جگہ عام سے انسان ہیں لیکن اپنی ذات میں ہم سب قیمتی ہیں۔” (صفحہ 27)

دوسرے باب میں اس غلطی کی طرف ہماری توجہ مبذول کی گئی ہے جو اکثر ہم میں پائی جاتی ہے، ہم اپنے ماضی سے خوف کھاتے ہیں، ہم اپنے کمزوریوں کو چھپانا چاہتے ہیں حالانکہ ہمارا یہ طریقہ ہونا چاہیے کہ ہم ماضی کی غلطیوں، کمزوریوں کو  اپنے سامنے رکھیں تاکہ ہم مستقبل تشکیل دے سکیں۔ نمرہ قاری کو سمجھاتی ہے ماضی میں جو ہوا وہ آپ کا اصل ہے؛ جس کو اپنا لینا چاہیے لیکن اب آپ اس تجربے کی بنیاد پہ زندگی نہیں گزار سکتے۔ آپ کو عزم کرنا ہے۔ ماضی میں جو ہوا وہ اب نہیں ہوگا کیونکہ آپ مختلف انسان بن گئے ہیں۔

تیسرے باب میں مصنفہ کہتی ہیں کہ انسان کو اپنے آپ سے محبت کرنی چاہیے، مصنفہ کا ماننا ہے کہ ہر ایک کے اندرمحبت کی جو توانائی رکھی گئی ہے اور  بندہ جب اس محبت کو اپنی ذات پہ نہیں لٹاتا تو وہ کسی اور سے بھء محبت نہیں کر سکتا، یہ محبت آسان کے اندر عزت نفس کا مادہ پیدا کرتا ہے اور یہی عزت نفس انسان کو اس کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔

چوتھے باب میں اس دنیا کے بارے میں بتاتی ہیں کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے۔ یہاں جو بھی ہوگا اس میں بندہ کی سعی کا عنصر لازمی ہوگا، لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ انتہائی محنت کرے۔ جب ایک بندہ ہر ایک کے سامنے اپنے مسائل لے کر جاتا ہے تو اس کا وزن کم ہو جاتا ہے۔ مصنفہ نے پانچویں باب میں قاری کو مثالوں سے یہ سمجھایا ہے کہ سستی شخصیت کو نکھارنے سے روکتی ہے۔ اگر آپ سستی کا شکار ہے، آپ آج کے کام کل پر ٹالتے ہیں، آگر آپ سستی کی وجہ جاننا چاہتے ہیں بلکہ اگر آپ سستی کا قرآنی اور ماڈرن علاج ڈھوندتے ہیں؛ تو آپ کو کتاب کا چھٹا باب بہترین رہنمائی کرے گا۔

کتاب کے ساتویں باب میں مصنفہ مثالوں سے قاری کو سمجھاتی ہے کہ ہم جو پلان کرتے ہیں؛ چیزیں اس کے برعکس ہو جاتی ہیں۔ اس میں بندہ کے لیے خیر ہوتا ہے، اللہ کا پلان بندے کے لیے ہمیشہ بہتر ہوتا ہے۔ شخصیت کی تعمیر میں جو رکاوٹیں ہیں ان میں ایک اہم چیز بری عادتیں ہے۔ آٹھویں باب میں مصنفہ نے بری عادتوں کے مضمرات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ساتھ ہی بری عادت کو چھوڑنے کا طریقہ بھی دکھایا ہے۔ اس باب میں انہوں نے قرآن کریم کے حوالے سے اپنے تجربات بیان کیے ہیں۔ نمرہ احمد نے "الہدی ٹرسٹ” میں گزارے ہوئے وقت کو نہایت ہی خوبصورت الفاظ میں قید کیا ہے۔ نویں باب میں مصنفہ نے ان سیکورٹی کے بارے میں سمجھایا ہے،  انسان جن جن ان سیکورٹریز کا شکار ہوتا ہے؛ انہوں نے وہ بیان کیے ہیں۔ ساتھ ہی ان سیکورٹی کے مضمرات اور حل پر بہترین بحث کی ہے۔ نمرہ احمد نے اس باب میں سورہ التغابن کی آیت 1 سے 3 تک کی خوبصورت تشریح پیش کی ہے۔ سیلف ڈیولپمنٹ میں ایک رکاوٹ زیادہ وزن ہونا ہے۔

دسویں باب میں مصنفہ نے اس پر بہترین کلام کیا ہے۔ گیارہویں باب میں بھی مصنفہ نے وزن کو موضوع بحث بنایا ہے البتہ اس باب میں انہوں نے وزن کم کرنے کا عملی طریقہ بیان کیا ہے۔ بارہویں باب میں مصنفہ نے عادت کے بارے میں بحث کی ہے اس باب میں مصنفہ نے سمجھایا ہے کہ اللہ رب العزت کو وہی عمل پسند ہے جو مسلسل کی جائے۔ تیرہواں باب میں مصنفہ نے سیلف ڈاوٹ کو موضوع بحث بنایا ہے۔ چودھویں باب میں مصنفہ سمجھاتی ہے کہ اس دنیا میں جو کام کیے جانے ہیں؛ ان میں ترویج ضروری ہے۔ یہاں جو کام کیے جاتے ہیں وہی کام بہتر ہوتے ہیں جو آرام سے کئے جائیں، لہذا ہمیں جلدی جلدی کام نہیں کرنے چاہیے۔ اس باب میں مصنفہ قاری کو اس طریقہ سے بھی روشناس کراتی ہے جس سے نماز  میں سکون حاصل ہو جاتا ہے اور دعا کو کیسے بہتر کیا جائے؛ اس پر بھی کلام کیا ہے۔

پندرہویں باب میں مصنفہ نے سلیف اسٹیم پر پریکٹل باتیں کی ہیں۔ مصنفہ نے سیلف اسٹیم کے ہر پہلو کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے، یوسف علیہ السلام کے قصہ سے ہمیں کیا رہنمائی ملتی ہے؛ اس باب میں ہمیں وہ رہنمائی ملتی ہے۔ انہوں نے قصہ یوسف کے اہم ترین گوشوں کو بہترین پیرایہ میں بیان کیا ہے، ایک انسان کے سیلف ڈیولمپنٹ کے لیے ایک مضر چیز ٹاکسک لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا ہے، سولہویں باب میں مصنفہ نے بتایا ہے کہ ٹاکسک لوگوں کی کیا پہچان ہے اور ان سے کب دوری اختیار کرنی چاہیے۔ سترویں باب میں مصنفہ قاری کو سمجھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک انسان کو کوئی نہ کوئی ٹیلنٹ دیا ہے اس ٹیلنٹ کو ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ اٹھارویں باب میں مصنفہ سمجھاتی ہے کہ اقدار (values) کی کتنی اہمیت ہے یہ اقدار ہی ہے جن سے پرسنیلٹی بنتی ہے۔ پھر وہ بنیادی اقدار پر بات کرتی ہیں۔ اقدرا ہی ہمارے اندرون کو درست کرتے ہیں۔ مصنفہ نے پرسنل اقدار، فیملی اقدار، پروفشنل زندگی کے اقدار، مالی اقدار کی مثالیں بھی پیش کیے ہیں، مصنفہ کہتی ہیں کہ اگر آپ کو ہائی ویلیو انسان بننا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنی اقدار اور اپنے اصول بھی اونچے رکھنے ہونگے۔ انیسویں باب میں مصنفہ نے سیلف کیر کی اہمیت بتائے ہیں۔ ساتھ ہی سیلف کیر کے مختلف فیلڈز پر گفتگو کی ہے۔ سلیف کیر اور خود غرضی میں کیا فرق ہے؟  نمرہ احمد نے اس باریک فرق کی وضاحت بھی کی ہے۔ ہم اس بات سے اپنی زندگی پریشان کرتے ہیں کہ ہمارے بارے دوسرے کیا  سوچتے ہیں۔ نمرہ بیسویں باب میں بتاتی ہے کہ ہمیں ‘نو’ کہنا سیکھنا ہوگا، ہمیں ہاۓ ویلیو انسان بننا چاہیے ہمیں اس بات سے پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا کہیں گے۔ اکیسویں باب میں مصنفہ نے عزت نفس پر بات کی ہے اس باب میں مصنفہ نے قاری کو سمجھایا ہے کہ جو غلطیاں ہم بچپن میں کرتے ہیں وہ غلطیاں ہماری کم عمری کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ کسی کو ہمیں عزت نفس پر حملہ نہ کرنے نہ دیں۔ عزت نفس کو مزید مضبوط بنانے کے لیے کچھ بہترین مشق بھی کرائی گئی ہے۔

بائسویں باب میں نمرہ قاری کو کہتی ہے کہ اس کو اپنے لیے boundaries بنانی چاہیے اور دوسروں کو بتانا چاہیے کہ میری یہ باؤنڈریز ہے؛ ان کو ہرگز پھلانگنے کی کوشش نہیں کرنا۔ مصنفہ کہتی ہے کہ یہ مضبوط باؤنڈیز ہی ہے جو ہمیں خوش اور پر اعتماد رکھتے ہیں اپنی بات کو سمجھانے میں؛ انہوں نے باب کا آغاز ایک کہانی سے شروع کیا ہے۔ ساتھ ہی ایک حدیث پاک سے بھی استدلال کیا ہے۔ تیسویں باب میں مصنفہ نے قاری کو چھ نکات سمجھائے ہیں جن کو کرنے سے وہ ہر معاملے میں پرسکون ہو جائیں گے، یہاں بھی مصنفہ نے اپنی بات سمجھانے کے لیے اپنی ایک کہانی کو رقم کیا ہے۔ چوبیسویں باب میں مصنفہ کہتی ہے کہ سر میں جو درد ہوتا ہے؛ اس کی وجہ سٹرس ہے۔ ہم عام طور پر سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی اسٹرس نہیں ہے لیکن غور کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ہمیں اسٹرس ہی ہوتا ہے جس کو ہم پالے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس باب میں مصنفہ نے وہ تین طریقے سکھائے ہیں؛  جن کو پروسس کرنے سے ٹراما کم ہو سکتا ہے، ہماری ایک کمزوری یہ  ہے کہ ہم over explain کرنے کے عادی ہیں؛ اس وجہ سے کہ لوگ ہمارے بارے میں کیا سوچتے ہیں اور ہم پرفیکشن چاہتے ہیں۔ پچیسویں باب میں مصنفہ نے خوبصورت مثالوں سے اوور ایکسپلین کو سمجھایا ہے۔ چھبیسویں باب میں مصنفہ نے اس منفی نتیجہ کو؛ جو کہ یہ کتاب یا کوئی بھی سلیف ہیلپ کتاب پڑھ کر ہوتی ہے اور قاری سمجھتا ہے کہ تحریر کا مخاطب وہی ہے۔ قاری کو یہ غلط فہمی پیدا نہ ہو اس لیے یہ باب باندھا گیا ہے۔ مصنفہ لکھتی ہے :

"اپنی خوشی اپنا خیال اور اپنی صحت کو مقدم رکھنے کا مطلب ہے اپنی ذمہ داری کو اوپر رکھنا۔ اور دوسروں کی وہ ذمہ داریاں نہ اٹھاتے رہنا جو آپ کا فرض نہیں ہیں۔ اور جنہیں کرنے سے آپ ان کو صرف اور صرف اسپائل کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ ہر وقت دوسروں کے کاموں میں نہ لگے رہا کریں۔ لیکن ماں تو ہر وقت بچوں کے کاموں میں لگی رہتی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ وہ ماں کی ذمہ داری ہے۔ اس کے بچے کا کام اس کا اپنا کام ہے۔ اس کو اس کام کو ہر کام پہ فوقیت دینی چاہیے۔ اس کو محلے والوں یا رشتے داروں کے کاموں کے پیچھے اپنے بچے کو اگنور نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن اپنے بچے کے لیے بھی کیا ایسا کام ہے جو اسے نہیں کرنا چاہیے؟ اپنے بچے کا ہوم ورک خود سے کر دینا۔ یہ بچے کو اسپائل کرے گا۔ یہ ایک مثال ہے۔ اسی طرح لوگوں کے وہ کام اپنے ذمہ لے کر ( جو ان کی اپنی ذمہ داری تھے ) ہم ان کو خراب کرتے ہیں ۔کسی کو ایسی خوشی دینا جس میں انسان خود اداس نہ ہو جو انسان کو خود تھکا نہ دئے یہ ” پیپل پلیز نگ” میں نہیں آتا۔ حضور سنی ہی یہ تم نے فرمایا ہے : ” بہترین صدقہ وہ ہے جس کے بعد (بھی) خوشحالی قائم رہے۔ (یعنی دوسروں کو دے کر خود خالی ہو کر نہ بیٹھ جاؤ )۔ "( بخاری کتاب النفقات ۲۰۸/۵) انسان کے اپنے نفس کا بھی اس پر حق ہے۔ ہمیں ایک واضح باؤنڈری کھینچنے کی ضرورت ہے کہ کون سی خوشی ہم کسی کو دے سکتے ہیں؛ اپنا سکون قربان کرکے اور کون سی خوشی ہم کسی کو اپنا سکون قربان کیے بغیر دے سکتے ہیں۔” (صفحہ 465) شخصیت کی تعمیر میں جو چیز رکاوٹ ہے؛ وہ ہے لوگوں کو خوش کرنے کی دوڑ، ستائیسویں باب میں مصنفہ نے اس دوڑ سے بچنے کا طریقہ بتایا ہے۔ نمرہ نے خوبصورتی سے بتایا ہے کہ کون کون چیزیں ایسی ہیں جو مومنانہ صفات نہیں ہیں۔ کہانی کہانی میں نمرہ قاری کو اسلام کا صحیح تصور بھی پیش کرتی ہے۔ نمرہ مضمون کا اختتام ایک دعا سے کرتی ہے اور قاری کو دعا سمجھانے کے لیے کہتی ہے کہ دعا کتنی بار پڑھنی چاہیے پھر جواب دیتی ہے "یہ آپ کی مرضی ہے۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ذکر ذکر ہوتا ہے منتر نہیں۔۔۔۔ جو گن گن کے کیا جائے – اسے بے حساب کیا کریں تاکہ اللہ آپ کو بنا کسی حساب کتاب کے نعمتیں اور رحمتیں عطا فرمائے آمین۔ ” (صفحہ 497) اٹھائیسویں باب میں مصنفہ نے ٹاکسک لوگوں کو دماغ کے اندر گھسنے سے کیسے بچنا چاہیے؛ پر اپنی ایک کہانی بیان کرکے رہنمائی کی ہے۔ ہماری زندگی میں کچھ لوگ ایسے آتے ہیں جن کا مشن ہی ہوتا ہے ہمیں تنگ کرنا۔ وہ لوگ آپ کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو کیسے ڈیل کیا جائے پر نمرہ نے  بہترین انداز سے سمجھایا ہے۔ شخصیت سازی میں جو چیز اہم ہے وہ ہے خوش رہنا، یہ خوشی کیسے حاصل کی جائے؟  انتسویں باب میں نمرہ نے اس مسئلے پر عمدہ بحث کی ہے۔ نمرہ احمد جہاں ایک بہترین رائٹر ہے وہیں آپ نے "زنجبیل” نام سے ایک کامیاب بزنس بھی شروع کیا ہے۔ تیسویں باب میں زنجبیل کی کہانی ہے۔ یہ کہانی معاشی طور پر کچھ کرنے کا حوصلہ دیتی ہے، اکتیسویں باب میں مصنفہ سمجھاتی ہے کہ ہمیں کسی کے بھی متعلق فورا برا گمان نہیں کرنا چاہیے۔ بتسویں باب میں نمرہ احمد نے غیرحاضر دماغی پر بہترین گفتگو کی ہے۔ مصنفہ نے سکھایا ہے کہ کس طرح اپنی سوچوں سے نکل کر حال میں رہا جاتا ہے، اس باب میں مصنفہ نے غائب دماغی کے نقصانات کے علاوہ ذہن کو حاضر کرنے کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ کتاب کے آخری باب میں مصنفہ نے اپنی مصنفہ بننے کی کہانی میں قاری کو سمجھایا ہے کہ اگر وہ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اپنے خواب کی تکمیل کے مرحلے کو ذہن میں لائیں۔ یہ کامیابی آپ کو حوصلہ دے گی، بظاہر یہ عام فہم باتیں ہیں لیکن ان باتوں کو مصنفہ نے ماڈرن علوم کو ذہن میں رکھ کر قاری کے ذہن نشین کیا ہے، آپ نے اپنی بات کو سادہ مگر دلچسپ مثالوں سے سمجھایا ہے۔ یہ کتاب قاری کو اپنی ذات سے  محبت کرانا سکھاتی ہے۔ کتاب پڑھ کر قاری کو زندگی جینے کا مزہ آئے گا اور مایوسی اور احساس کمتری پھر کبھی بھی اس کے پاس نہیں آئے گی۔کتاب میں قاری کو بہت ہی مشقیں بھی بتائی گئ ہیں۔ ایک ہی موضوع پر بات کرتے ہوئے قاری کو کبھی بھی تکرار کا احساس نہیں ہوتا چونکہ کتاب عمل کرنا سکھاتی ہے لہذا کتاب کے صرف ایک باب کو ایک دن میں ختم کیجئے۔ ضرورت ہے اس کتاب  کے مشمولات کو ویڈیو سیریز میں ڈالا جائے تاکہ اس کا فائدہ زیادہ لوگوں کو ہو۔ کتاب منشورات پبلشرز اینڈ ڈسٹری بیوٹرز نئی دہلی نے نہایت ہی عمدہ طباعت سے شائع کی ہے۔ 600 صفحات کی کتاب کی قیمت 600 روپے بھی مناسب ہے۔ کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر 09810650228 پر رابطہ کیجئے۔

مبصر سے رابط : suhailkar123@gmail۔com

تبصرے بند ہیں۔