حالیہ مضامین

  • کثرتیت اور اقامت دین

    یہ ایک حقیقت ہے کہ انسانوں اور انسانی گروہوں کے درمیان گوناگوں نوعیتوں کے اختلافات پائے جاتے ہیں ۔ یہ تنوع (Diversity) ایک حقیقت ہے جس کا انکار کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ کثرتیت کی اصطلاح کبھی کبھی اِس واقعے کے بیان کے لیے استعمال کی جاتی ہے مثلاً جب کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ ’’ہندوستان کا سماج Plural (یعنی کثرتیت کا حامل) ہے‘‘ تو وہ اس واقعے کا ذکر کرتا ہے کہ ہندوستان کے رہنے والے رنگ ونسل، علاقہ وزبان اور عقیدہ ومذہب وغیرہ کے اعتبار سے یکساں نہیں ہیں بلکہ ان سب پہلوئوں سے ان کے درمیان نمایاں فرق پایاجاتا ہے۔ اس تنوع کو بطور واقعہ ہر شخص تسلیم کرے گا، جو حقائق کا انکار نہیں کرنا چاہتا۔ اگر کثرتیت کی اصطلاح محض ایک حقیقی صورتحال کی عکاسی کے لئے استعمال کی جائے (جو فی الواقع موجود ہے) تو اِس اصطلاح پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ ’’عرب کا بیشتر حصہ ریگستان ہے‘‘ اور اُس کا یہ قول محض ایک حقیقت کا اظہار ہے تو وہ اسی طرح یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ فلاں ملک کا سماج Plural (کثرتیت کا حامل) ہے اور یہ بھی محض ایک حقیقت کا اظہار ہوگا۔

    مزید پڑھیں >>
  • عالمی حالات کا چیلنج اور اُمتِ مسلمہ

  • بی جے پی کی تین طلاقن کو تین طلاق

  • واجب الاتباع  کون: ہدایتِ الٰہی  یا  دینِ آبائی!

  • مزار سے مسجد تک

  • عالمی حالات کا چیلنج اور اُمتِ مسلمہ

    حالات کا مقابلہ امتِ مسلمہ کو کرنا ہے۔ چنانچہ امت مسلمہ کے بارے میں بھی چند بنیادی باتیں ہمارے ذہن میں رہنی چاہییں ۔ ایک بات یہ کہ یہ امت کسی ایک ملک میں محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس سے وابستہ افراد کسی ایک زبان کے بولنے والے یا ایک علاقے کے باشندے نہیں ہیں ، بلکہ مختلف زبانوں کے بولنے والے اور مختلف علاقوں کے رہنے والے ہیں۔ اسی طرح ان کے درمیان دیگر جغرافیائی اختلافات موجود ہیں ۔ جس چیز نے ان سب کو جمع کیاہے وہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ امت مسلمہ کے بارے میں غور کرتے ہوئے پوری امت کو سامنے رکھنا چاہیے، چاہے کسی ایک ملک کے مسلمانوں کے امور زیربحث ہوں۔ اس لیے کہ امت کا ہر حصہ دوسرے حصے کو متاثر کرتا ہےمسلمانوں کے حالات میں جو تبدیلی آتی ہے، اچھی ہو یا بری، اس میں کچھ نہ کچھ رول امت کے ہر حصے کا ہوتاہے۔ پھر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ یہ امت جس طرح ملکوں اور علاقوں میں بٹی ہوئی امت نہیں ہے۔ اسی طرح زمانے کے لحاظ سے بھی بٹی ہوئی نہیں ہے، پچھلے زمانے میں بہت سے صالحین اللہ کے دین پر عمل کرتے تھے۔اسی طرح آئندہ بھی اہلِ ایمان دین پر عمل کریں گے۔

    مزید پڑھیں >>
  • ایک لداخی لڑکی کا قبولِ اسلام

  • بی جے پی کی تین طلاقن کو تین طلاق

  • شخصیتِ انسانی کا امتیاز

  • انقلاب کا اسلامی تصور!

  • شخصیتِ انسانی کا امتیاز

    انسانی شخصیت  کے بارے میں غور کرنے والے اس امر پر تو متفق ہیں کہ انسان محض طبعی اور جسمانی وجود نہیں ہے، بلکہ اس کی شخصیت، مادّی سطح سے بالاتر واقع ہوئی ہے۔ البتہ اس امر میں اُن میں اختلاف ہے کہ انسانی وجود کے ان اعلیٰ اور بلند تر پہلوؤں کی صحیح تعبیر کیا ہے۔ انسان کی ماہیت کے بارے میں سوچنے والوں میں جو افراد، انکارِ غیب کا رجحان رکھتے ہیں وہ انسانی شخصیت کے طبعی اور مادّی پہلوؤں کے علاوہ عموماً  صرف یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ انسان غور وفکر اور تجزیے کی صلاحیت رکھتا ہے، ادراک و شعور کی لطیف قوتوں سے بہرہ ور ہے اور اس کے اندر جمالیاتی حس پائی جاتی ہے لیکن اس سطح سے آگے، وہ انسان کے اندر مادّی خصوصیات سے بالاتر، کسی وصف کی شناخت سے قاصر ہیں۔

    مزید پڑھیں >>
  • یہ غیرت تو نہیں

  • ہریانہ کے اسکول میں معصوم  بچے کا قتل

  • پیشہ وارانہ اقدار وقت کی اہم ضرورت!

  • دم بھر کا یہ سفینہ،  پل بھر کی یہ کہانی!