جواد اکرم

جواد اکرم

مصنف بین الاقوامی معاملات کے تجزیہ نگار ہیں۔ مصنف نے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز ڈگری حاصل کی ہوئی ہے۔

خلیجی ممالک میں محنت کشوں کے شب و روز

پردیس میں ہمارے پردیسی بھائی آپس میں ایک خاندان کی طرح رہتے ہیں۔ ان سب کی پہچان صرف ان کا ملک یعنی پاکستان ہوتا ہے۔ ان کے غم بھی ساجھے ہوتے ہیں اور ان کی خوشیاں بھی ساجھی ہوتی ہیں اگرچہ خوشیاں وہاں کم ہی میسر آتی ہیں۔ ان کے کام کرنے کے اوقات اتنے طویل اور کٹھن ہوتے ہیں کہ کام کے بعد ان کو آرام کے لئے بھی بس اتنا ہی وقت ملتا ہے کہ بمشکل کل کے لئے تازہ دم ہو کر پھر سے محنت مزدوری پر جا سکیں۔ 

مزید پڑھیں >>

رجب طیب اردگان اور ہمارے رہنما

کبھی کبھی دل میں ایک خیال سا آتا ہے کہ 2016 میں ترکی میں صدر رجب طیب اردگان کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے سامنے کیوں عوام ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہو گئی اور ہمارے ہردلعزیز رہنماوں کے رخصت ہونے پر عوام سکھ کا سانس کیوں لیتی ہے بلکہ کہیں کہیں تو مٹھائیاں بھی تقسیم کی جاتی ہیں۔ اب تو بہت سارے ہمارے سیاسی رہنما بھی ہماری عوام کو کبھی کھل کر، کبھی ڈھکے چھپے الفاظ میں ترک قوم سے کچھ سیکھنے کی ترغیب دیتے رہتے ہیں حالانکہ سیکھنے کی ضرورت تو ہمارے رہنماوں کو ہے کہ وہ ترک رہنما رجب طیب اردگان سے کچھ تو سیکھیں، پھر دیکھیں عوام ان کا کتنا ساتھ دیتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

کیا واقعی بدترین جمہوریت، آمریت سے بہتر ہے؟

نہ جانے کیوں ہمارے سادہ لوح افراد یہ سوچنا شروع ہو گئے ہیں کہ جو برائیاں آمریت سے منسوب کی جاتی ہیں وہ تو ہماری اکثر سیاسی جماعتوں میں بھی ہیں۔ اکثر سیاسی جماعتوں میں موروثی سیاستدان بھی تو بادشاہوں کی طرح ہی باپ کے بعد بیٹے والے فارمولے کے تحت تخت نشین ہوتے چلے آ رہے ہیں۔ پھر سیاسی رہنما بھی تو آمروں کی طرح ہی حرف آخر قسم کے ذاتی فیصلے مسلط کرتے رہتے ہیں۔ مزیدبرآں مختلف آمریتوں کے دست و بازو بھی تو یہی ہمارے عظیم سیاستدان رہے ہیں جو جمہوری رہنما ہونے کا بھی دعوٰی کرتے ہیں۔ تو پھر یہ ہماری کس قسم کی جمہوریت ہے جسے ہمارے سیاستدان ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں کہ یہ جمہوریت آمریت سے بہتر ہے۔

مزید پڑھیں >>

‘نظریاتی ووٹر’ یا ‘شخصیاتی ووٹر’

دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں رائج جمہوری نظاموں کی مضبوطی اور کامیابی کا راز یہی ہے کہ وہاں شخصیاتی ووٹرز کی وباء نہیں ہے۔ وہاں الیکشن کو ایک احتسابی عمل کے طور پر لیا جاتا ہے۔ ہر رہنما کو خوف ہوتا ہے کہ وہاں لوگ میرٹ پر ہی ووٹ دیں گے۔ ووٹر خود کو مخصوص شخصیتوں کی غلامی میں نہیں جانے دیتے۔ جو بھی باقیوں سے بہتر کام کرتا ہے اسی کو ووٹ دیا جاتا ہے۔ اور اگر تمام پرانے لیڈر ملک و قوم کو نقصان پہنچاتے نظر آئیں تو ایسے لیڈرز کو ووٹ دے دیئے جاتے ہیں جن کو پہلے کبھی حکومت کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔

مزید پڑھیں >>

پاکستان انٹرنیشنل ائیرلائنز :  ایک عظیم قومی اثاثے کا عروج وزوال

اب اگرموجودہ حکومتی کردار کا تجزیہ کیا جائے تو اس میں قطبیت نمایاں ہے۔ حکومت یا تو بالکل ہی نجکاری کی کوشش کرتی دکھائی دیتی ہے یا پھر نجکاری کے خلاف پی آئی اے کے عملے کی بھرپور مزاحمت کی صورت میں عربوں روپے بیل آوٹ پیکج کی صورت میں بار بار فراہم کرتی نظر آتی ہے، جبکہ اصلاحات کا عنصر نہایت کم اور غیر موزوں نظر آتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

جمہوریت کے نام پر سیاسی جماعتوں میں ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت

 یوں تو پاکستانی سیاست دان ہمیشہ ملٹری ڈکٹیٹر شپس پر برانگیختہ نظرآتے ہیں لیکن اپنی اپنی سیاسی جماعتوں کے اندر موجود ڈکٹیٹرشپ اور بادشاہت کے بارے خاموش ہی رہتے ہیں ۔  سیاسی جماعتوں کے سربراہ ڈکٹیٹرز کی طرح احکامات دیتے اور اپنے بعد اپنے بیٹے، بیٹی،بیوی یا شوہر کوبادشاہانہ طریقے سے قیادت منتقل کرتے نظر آتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

روس: دوبارہ ابھرتی ہوئی ایک سپر پاور

مارچ 2014 میں روس کی یوکرائن کے علاقے کرائمیا پر چڑھائی ،قبضے اور مستقل طور پر کرائمیا کو روس کا حصہ بنانے پر بھی عالمی طاقتوں نے تھوڑے شوروغوغا کے بعد عافیت چپ سادھنے میں ہی جانی۔ اس کے علاوہ ان برسوں میں متعددمواقع پر روسی اور نیٹو کے جنگی جہازوں کا خطرناک حد تک آمناسامنا بھی ہو چکا ہے۔

مزید پڑھیں >>