صحت

حکیموں اور ویدوں کو انگریزی دوائیں لکھنے کی اجازت کیوں؟

آزادی کے بعد ملک میں دیسی طبوں کی تعلیمی اور تحقیقی سرگرمیوں کو اس لیے وسعت دی گئی تھی کہ یہ طریقہ ہائے علاج جو ہماری تہذیبی میراث کا حصہ ہیں ،ان کا فروغ ہو اور ملکی باشندوں کو علاج و معالجہ کے بہتر متبادل فراہم ہوں ،لیکن اس کے علیٰ الرغم اگر تعلیم و تحقیق کے ادارے دیسی معالجین کے بجائے دوسرے اور تیسرے درجہ کے ایلو پیتھک ڈاکٹر پیداکرنے لگیںتو پھراس مسئلہ پر ذمہ داروں کو سنجیدگی سے غور کرنے کی حاجت ہے اور نیشنل میڈیکل کمیشن کی اس شق کی شدید مخالفت کی ضرورت ہے ،جس میں چھ مہینے کے برج کورس کے ذریعہ انڈین سسٹم آف میڈیسن کے حاملین کو ایلوپیتھک دوائوں سے معالجہ کی اجازت دینے کی تجویز ہے۔

مزید پڑھیں >>

 یونانی دوا سازی میں ترقی کے امکانات

 دواسازی کے اندر اشکال ادویہ کی تبدیلی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔اطریفل، تریاق،جوارش،حلوہ، خمیرہ، دواء المسک، دواء الکرکم، شربت، لعوق، معجون،مفرح اور یاقوتی وغیرہ کو شکر یا شہد کے قوام میں تیار کیا جا تا ہے۔ذیابطیس جیسے مرض میں قوامی ادویہ کا استعمال ایک اہم مسئلہ ہے۔ایسی صورت میں ضرورت ہے کہ ان ادویہ کو سفوف، حبوب یا اقراص کی صورت میں تیار کیا جائے۔قدیم اطباء کے یہاں اشکال ادویہ کی تبدیلی کے شواہد ملتے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے مجربات

  مسیح الملک حکیم اجمل خاں کا سلسلہ مطب بہت پھیلا ہوا ہے۔مسیح الملک کو فنی حذاقت کے ساتھ ادویہ کے انتخاب اور ترکیب ادویہ میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔خاندانی مجربات کے علاوہ  بہت ساری ایسی دوائیں ہیں جنھیں حکیم اجمل خاں نے خود ترتیب دیا ہے۔یہ مرکبات اپنی دوائی منفعت میں نظیر نہیں رکھتی ہیں ۔وہ ادویہ ہیں جو حکیم صاحب کے مطب کا خاص حصہ تھیں ، جن پر انہیں حد درجہ یقین و اعتماد حاصل تھا، ان میں بیشتر دوائیں  ہندستانی دوا خانہ کی تیار کردہ تھیں اور ان کے نسخہ حکیم صاحب اور منیجر دوا خانہ کے علاوہ کسی کو معلوم نہ تھے۔

مزید پڑھیں >>

ہوائی آلودگی سے کیسے بچا جائے

اجسام کی پوشیدہ روح ہوا کو اپنی طرف ہمارے جسم میں جذب کرتی ہے۔ حقیقت میں ہوا جسم کی حالت کو بدلتی رہتی ہے۔ ہوا کبھی جسم کو سردی سے گرمی کی طرف۔ کبھی خشکی سے تری کی جانب، سرورو مسرت سے غم و اضمحلال کی جانب منتقل کرتی ہے۔ ہوا رکھی ہوئی اشیاء جیسے سینگ، گوشت، شراب، چربی وغیرہ میں تبدیلی کرتی رہتی ہے۔ کبھی گرم، کبھی ٹھنڈا، کبھی سخت، نرم کبھی خشک کرتی ہے۔ وجہ یہ ہے سورج، چاند، ستارے اپنی حرکت ورفتار سے ہوا میں تغیر جب پیدا کرتے ہیں تو اس سے تمام اشیاء عالم میں تغیر پیدا ہو تا ہے۔

مزید پڑھیں >>

 لاکھوں آنکھوں کو روشنی دے کر ڈاکٹر دلجیت سنگھ بھی گئے

20 ویں صدی کے آٹھویں دہے کے 1986 ء میں محسوس ہوا کہ اپنی آنکھوں کی روشنی کچھ کم ہورہی ہے۔ ڈاکٹر کو دکھایا تو انہوں نے بتایا کہ پانی آنا شروع ہوگیا ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ جب آنکھ تیار ہوجائے گی تو آپریشن کیا جائے گا۔ میرا کاروبار پریس تھا جس میں ہر وقت نظر کا کام ہوتا ہے۔ جب تک چل سکا کام چلایا اس کے بعد بچوں کی مدد لینا شروع کی۔ بڑے بیٹے شمعون مدینہ میں تھے انہوں نے کہا کہ جب آنکھ کے تیار ہونے کا انتظار ہی کرنا ہے تو مدینہ منورہ آجایئے یہاں حرم نبویؐ میں نمازوں کا ثواب کمایئے۔

مزید پڑھیں >>

 موجودہ غذائی نظام اور اسلامی ہدایات

ایک طبیب دور رسالت میں مدینہ منور ہ آیا، وہ امراض کے علاج ومعالجہ کے حوالے سے وہاں چند دن رہا، اسے وہاں کوئی مریض نظر نہیں آیا، وہ اپنے وطن لوٹتے وقت حضور اکرم ﷺ کے سامنے یہاں پر بیماریوں کے ناپید ہونے پر نہایت حیرت واستعجاب کا اظہار کیا، نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ہم لوگ بھوک پر ہی کھانا کھاتے ہیں اور جب کھاتے ہیں تو آسودہ ہوکر نہیں کھاتے، نبی کریم ﷺ کے ارشاد میں مفید وغیر مفید غذا کے بارے میں مکمل رہنمائی اور حد فاصل کو بیان کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسیحا ہڑتال پر

 عالم آب و گل میں سینکڑوں ایسے واقعات ہیں جہاں دلتوں کے حقوق پامال ہوئے، انہیں چتا کے لئے دو گز زمین میسر نہ ہوسکی، لیکن آپ کو ایسا کوئی طبیب نظر نہیں آئے گا جس نے علاج کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا ہو کہ مریض اچھوت ہے میں علاج نہیں کروںگا۔ ہر شخص کا علاج کیا، ان خوبیوں کے حامل پیشے اور پیشہ وروں کی عزت ہونا یقینی ہے، لیکن وقت کے بدلاؤ نے اس عظیم پیشہ سے وابستہ افراد کے طرز زندگی کو بھی متاثر کردیا ہے، ان کے اعمال میں بھی تبدیلی ہوچکی ہے، واقعات اس کی شہادت دیتے ہیں، زندہ بچے کو کچرے کے ڈبہ میں پھینک دینا، حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرنا، بلا ضرورت جانچ کرانا، گراں قیمت پر دوائیں بیچنا، لیباریٹری سے اپنا حصہ مانگنا،دواؤں پر کمیشن وصول کرنا، یہ سارے اعمال اطباء میں آئی تبدیلی اور بگاڑ کا مظہر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

پولیو ویکسین کے حوالے سے ایک ہولناک خطرہ اور انکشاف

انسانیت سب سے بڑا مذہب کا نعرہ لگانے والے اور اسلام کو دنیا کی تباہی کا زمہ دار کہنے والے لبرل ،سیکولرز اور ارشد محمود جیسے ملحدین جو یورپی اور امریکی معاشروں کو مثالی معاشرے بتا کر اس کی پیروی کی تلقین اور اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے، وہ انسانیت کی تباہی کی اس امریکی و یورپی جدوجھد پہ منافقانہ طور پہ کیوں چپ ہیں؟ لعنت ہو ان سب پہ اللہ کی جو انسانیت کی تباہی کا تماشا دیکھیں لیکن پھر بھی منافق بن کر اپنی زبان بند رکھیں۔ جب تک دنیا کی کمان یورپ اور امریکا کے ہاتھ میں ہے دنیا اور انسانیت ایسے ہی تباہ ہوتی رہے گی۔

مزید پڑھیں >>

ایڈز: قدرتی آفت یا حیاتیاتی ہتھیار؟

جب تک ہم یورپ پر سائنسی انحصار چھوڑ کر سائنس اور ٹیکنالوجی میں خود انحصاری حاصل نہیں کریں گے۔ اس وقت تک ہمارے ساتھ ایسا ہوتا رہے گا۔ اپنے حصے کا ہاتھ تو بٹایئے۔ جو لوگ اس کے لیے سرگرم ہوں انکی حوصلہ افزائی اور ان سے تعاون تو کیجئے۔ خدارا ان کی ٹانگیں مت کھینچے۔ سوچے اور کچھ کیجئے۔ مبادا وہ وقت آجائے کہ نہ سو چنے کی ہمت ہو نہ کچھ کرنے کا موقع۔

مزید پڑھیں >>

اقتصادی زبوں حالی سے پیداہونے والے صحت کے مسائل

ایک تہائی آبادی یا 38.4 فیصد بچے ایسے ہیں جن کا جسمانی فروغ عمر کے تناسب میں نہیں ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھوک سے متاثر ملکوں کی عالمی فہرست میں اس مقام پر ہے جسے سنگین قرار دیا گیا ہے۔یہ رپورٹ اس سچائی کو واضح کررہی ہے کہ جس سرزمین کے عام باشندے قلت خوراک کے اس شدید بحران سے گزر رہے ہوں، وہاں صحت مند معاشرہ کی تعمیر کیسے ممکن ہوسکے گی؟

مزید پڑھیں >>