صحت

نشے سے انکار زندگی سے پیار

منشیات کا نوجوان نسل میں استعمال بہت خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے کچھ لوگ تو اسے بطور فیشن اپناتے ہیں اور بعد ازاں اس کے عادی ہو کر ہمیشہ کے لئے اس لعنتی طوق کو گلے میں ڈال لیتے ہیں اپر کلاس ،مڈل کلاس ،لوئراپر کلاس کے لوگ بھی اس کو بکثرت استعمال کرتے ہیں ۔شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میں منشیات کا استعمال روز بروز بڑھ رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

مسیحا بنے قاتل!

آج ایک طبیب فن طب حاصل کرنے کے لئے ایک کروڑ سے زائد روپیے خرچ کرتا ہے ،محنت جد وجہد لگن کے بعد وہ ڈاکٹر ہونے کا شرف حاصل کرتا ہے ،اب اس کے ذہن ودماغ پر خدمت خلق کا جذبہ سوار نہیں ہوتا ،بلکہ ایک تاجر کے خیالات سے کیفیت قلب مملو ہوتی ہے ،اور خرچ کی ہویی رقم کا حصول بھی حاشیئہ خیال میں موجود ہوتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

صحیح غذائیت کا علم، جن پر ہم توجہ نہیں دیتے!

بر صغیر میں غذائیت کے تعلق سے ایک بڑا طبقہ نا واقف ہے ۔ اکثر لوگ بس اتنا ہی جانتے ہیں کہ دال اور گوشت میں پروٹین پایا جاتا ہے ۔اس کی ایک وجہ یہاں کا نظام تعلیم بھی ہے ۔ دسویں جماعت تک غذائیت کے تعلق سے کچھ خاص نہیں پڑھایا جاتاہے ۔

مزید پڑھیں >>

سرکاری اسپتالوں کے تئیں حکومتی عدم توجہی لمحہ فکریہ!

عام آدمی کے لئے اپنا علاج ومعالجہ کرانا بہت ہی مشکل ترین ثابت ہورہاہے۔نجی کاری کی وجہ ڈاکٹروں وپیرا میڈیکس کا بھی زیادہ رحجان پرائیویٹ کلینکوں کی طرف ہے کیوں کہ اس وقت ڈاکٹروں کو دکھانے میں 80 فیصد اور بھرتی ہونے کے معاملے میں 60 فیصد حصہ پرائیویٹ سیکٹر کا ہے۔ہیلتھ سروسیز خاص طور سے شہری علاقوں تک محدود ہیں ، جہاں ملک کی صرف 28 فیصد آبادی رہتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

 عالمی یوم انسداد تمباکو: ایک جایزہ!

اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ تمباکو نوشی کے خلاف صرف ایک دن نہیں ؛بلکہ برس کے بارہ مہینے مہم چلائی جائےاورتمام طبقات بالخصوص میڈیا اور منبرومحراب منشیات کے استعمال کے رجحانات کو کنڑول کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔

مزید پڑھیں >>

ٹیکہ کاری:ماں کی ذمہ داری!

بھارت میں ٹیکے نہ لگوانے کے پیچھے کئی طرح کی وجوہات سامنے آئیں ۔ شروع میں مذہبی حضرات نے ٹیکہ کاری کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھا۔ انہوں نے عام لوگوں کے اس مہم سے جڑنے کی مخالفت کی۔ کئی ایسی باتیں بھی کہی گئیں جن کا ٹیکوں سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ جیسے پولیو کی دوا کے بارے میں کہا گیا کہ یہ آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے پلائی جانے والی دوا ہے۔ یا بچوں کو اس دوا سے بانجھ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے وغیرہ۔ دھیرے دھیرے یہ غلط فہمیاں دور ہوئی ہیں اور مذہبی لوگ ٹیکہ کاری کی اہمیت سے واقفیت ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں نے ٹیکوں کے بارے میں کہا کہ ہم اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ کچھ نے اس سے لاعلمی ظاہر کی۔ کچھ نے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ کب کونسا ٹیکہ لگتا ہے۔ کچھ نے کہا کہ ٹیکے لگانے کا وقت مناسب نہیں ہے۔ کئی کا کہنا تھا کہ ٹیکے لگوانے کیلئے ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ کچھ نے ٹیکہ لگنے سے بچے کے بیمار ہونے کا ڈر ظاہر کیا تو کسی نے غلط صلاح کا سہارا لیا۔ کچھ نے کہا کہ ہم ٹیکوں کی قیمت ادا نہیں کرسکتے۔ جبکہ سرکار کی جانب سے ٹیکے مفت میں فراہم کئے جاتے ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

نئی قومی صحت پالیسی اور عوام

قومی صحت پالیسی 2015آخر دوسال بعد منظور ہوگئی۔ اس کے تحت سرکار بڑی آبادی کو سرکاری اسپتالوں کے ذریعہ مفت علاج مہیا کرانے کی تیاری میں ہے۔ کسی بھی ملک کیلئے اس کے شہریوں کی صحت خاص ہوتی ہے۔ کیوں کہ ملک کی ترقی کا انحصار انہیں پر ہوتا ہے۔ پھر بھارت کا آئین تو دفعہ21 میں اپنے شہریوں کو ’زندگی کا حق‘ دیتا ہے اور سپریم کورٹ نے اپنے کئی فیصلوں میں ’صحت کا حق‘ زندگی کا حق تسلیم کیا ہے۔

مزید پڑھیں >>

نیند

پرسکون نیند کی بنیادی ضرورت اندھیرا ہے‘ ماحول کی تمازت اور شور شرابہ کا کم ہونا ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالٰی نے رات بنا کر پرسکون نیند کی ان فطری ضرورتوں کو پورا کر دیا۔ لیکن رات کو بالکل ہی اندھیرا نہیں کیا بلکہ چاندہ بنا کر مدھم روشنی بھی پھیلا دیا تاکہ اس کے بندے رات کو بالکل ہی بے کار یا نہ ہوجائیں ۔پھر رات کو ایک ہی وقت میں دنیا میں بسنے والی تقریباًتمام مخلوقات پر نیند طاری کرکے شورشرابہ بھی ختم کردیا۔ یوں بنی نوع انسان کو نیند کی عظیم نعمت عطا کیا تاکہ وہ شکر کرے۔

مزید پڑھیں >>

صحت کے حوالہ سے بیداری لانے کے لئے میڈیا ورک شاپ

سب سے زیادہ ضروری ہے انسانی زندگی اور بہتر صحت۔ ہمیں نہ اس کیلئے بیدار رہنا چاہئے بلکہ معاشرے کی نچلی سطح تک لوگوں کو بیدار کرنا چاہئے۔ خاص طور پر ان بیماریوں کے تئیں روک تھام کے حوالے سے جو آج بھی دنیا بھر میں تشویش کی وجہ بنی ہیں ۔ میڈیا کی ذمہ داری اس وجہ سے بھی کافی بڑھ جاتی ہے کیونکہ گاؤں قصبوں تک لوگوں کو اس کیلئے بیدا کرنے میں میڈیاکا کردار سب سے اہم ہے۔

مزید پڑھیں >>

صحت اور اسلامی تعلیمات

غورکریں توصحت اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا تحفہ ہے ؛بل کہ قدرت نے جتنی وسیع منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی ہے اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے بھی نہیں کی ،خودہمارے جسم میں باری تعالی نے ایسے ایسے نظام رکھےہیں کہ؛جنہیں دیکھ کرانسانی عقل حیران وشش در رہ جاتی ہے۔

مزید پڑھیں >>