متفرقات

سالِ نو کی آمد: خوشی ومسرت کی نہیں احتساب کی ضرورت

ضرورت ہے اس بات کی کہ سال ِ نو کا آغاز غیر شرعی طریقہ پر کرنے سے گریز کیا  جائے،اور اس موقع پر جو خلاف ِ شریعت کا م انجام دئے جا تے ہیں،اور فضول و لا یعنی امور اختیا ر کئے جا تے، جو نا شا ئستگی اور بد اخلاقی کے مظاہرے ہو تے ہیں، عیسائیوں کے طریقہ کے مطابق جو نیو ائیر کا استقبال کیا جا تا ہے،کیک کاٹ کر اور مبارک بادیا ں دے کر جو اپنی تہذیب کا مذاق اڑایا جا تا ہے اسی طرح شور و شغب اور خدا کے غضب کو دعوت دینے والی جو حرکتیں کی جا تی ہیں،ان تمام چیزوں سے مکمل اجتناب، اور اپنے نو نہانوں کو ان تمام سے روکا جا ئے، اسلامی تعلیمات سے اپنی اولادکو آگاہ کریں،اور اسلامی سالِ نو کا تعارف،اور ماہ وسال کی یہ انقلاب انگیز تبدیلی سے حاصل ہو نے پیغامات سے واقف کر ائیں،ورنہ ہماری آنے والی نسلیں دین کی تعلیمات سے بے بہرہ ہو کر، عیسائی تہذیب و کلچر کی دلدادہ بن کر، اور مغربی طریقہ ٔ زندگی ہی میں کامیابی تصور کر کے پروان چڑھے گی۔

مزید پڑھیں >>

اُف یہ مہذب لٹیرے!

گذشتہ دنوں ایسی ہی ایک فیملی سے ملاقات ہوئی جس نے ڈیلیوری کیلئےنرسنگ ہوم میں زچہ کو داخل کیا  وہاں کے منتظمین نے صاف طور پر کہہ دیا کہ یہ آپریشن کا کیس ہے آپ فیس کا انتظا م کریں ورنہ کیس بگڑسکتا ہے اور زچہ بچہ دونوں کی موت ہوسکتی ہے غریب فیملی پیسوں کا فوری انتظام نہ کرسکی مریضہ رات بھرتڑپتی رہی لیکن انتظامیہ نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی بس وہ پیسوں کا مطالبہ کرتی رہی لیکن صبح میں بڑی آسانی سے نارمل ڈیلیوری ہوگئی اوراسپتال انتظامیہ منھ دیکھتا رہ گیا۔

مزید پڑھیں >>

لکھنے کا فن

     پس ایک قلم کار کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ داخلی جوش (ایسی ذہنی ونفسیاتی کیفیت جو ایک قلم کار کو لکھنے کے لیے انگیخت کرے)سے بھی بہرہ مند ہو؛تاکہ وہ اسے کسی (سادہ یا مشکل)فکر وخیال سے ہم آہنگ کرکے ایسا فن پارہ وجود میں لاسکے، جو اس کے اپنے اسلوب، سوچ اور ذات کی نمایندگی کرتا ہویابالفاظِ دگر جو اس کی اپنی کاغذی تصویر ہو، کسی لکھاری کے اندر ایسا داخلی جوش تبھی پایاجاتا ہے، جب وہ ایک مخصوص نفسیاتی کیفیت سے بہرہ مندہو، البتہ اس کیفیت کی کوئی متعین صورت نہیں ہوتی؛بلکہ کبھی یہ خوشی، کبھی رنج، کبھی امیدورجا تو کبھی ناامیدی و مایوسی کی حالت میں بھی پائی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

کرسمس ڈے اور ہمارا معاشرہ

ہمارے اسلامی تصورات اور اصطلاحات کو مسخ کرنے کی جو سرتوڑ کوششیں اس وقت ہورہی ہیں، اہل اسلام پر ان سے خبردار رہنا واجب ہے۔ ذمیوں کے ساتھ حسن سلوک سب سے بڑھ کر صحابہؓ کے عہد میں ہوا ہے۔ مگر ان کے دین اور دینی شعائر سے بیزاری بھی سب سے بڑھ کر صحابہؓ کے ہاں پائی گئی ہے۔ یقیناًیہ حسن سلوک آج بھی ہم پر واجب ہے، مگر اس کے جو انداز اور طریقے، حدود و قیودسے بالاترہوکراس وقت رائج کرائے جا رہے ہیں وہ دراصل اسلام کو منہدم کرنیوالے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

جامعہ نگر نئی دہلی کا ایک جائزہ

اسکی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر ایک یا دو گلی کے بعد کوئی نہ کوئی مسجد مل جائیگی لیکن وہ مسجدیں کسی نہ کسی مسئلک، ذات، علاقائیت اور تنظیم کے نام سے منسوب ہوگئیں ہیں اور ان میں زیادہ تر مقتدیوں کی تعداد بھی انکے پیروکار نظر آتے ہیں اسکے علاوہ ان مسجدوں میں مسلکی، علاقائیت اور تنظیموں کے نام پر شدت پسندی کے بنا پر تصادم بھی دیکھنے کو مل جاتا ہے بلکہ کچھ مسجدوں میں ان تصادم کے خاتمے اور امن و شانتی سے نماز قائم کرنے کیلئے پولس و عدالت کا بھی سہارا لینا پڑا ہے بڑی عجب بات ہے کہ جو دین اسلام لوگوں کوسلامتی کا راستہ دکھانے آیا ہے اسکے پیرو کار ہی اپنی نماز قائم کرنے کیلئے پولس کا سہارا لے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں >>

نوکری کرنے کا بڑھتا رجحان اور تجارت سے غفلت لمحہ فکریہ!

پیٹ کی بھوک اورپیاس مٹانے اور انسانی ضرورتوں کو پورا کر نے کے لئے نوکری وتجارت کر نا اور حلال طریقہ سے روزی حاصل کر نا اسلام کے ایک اہم پیغام میں سے ہے، یاد رکھیں یہ دنیا دار العمل ہے، یہاں ہم سب کو کام کرنا ہے، اور وہ کام کر نا ہے جو آخرت کی کھیتی بنائے، ا س لئے ہمارے لئے از حد ضروری ہے کہ اپنے اہل وعیال کے حصول رزق کے لئے محنت ومشقت کریں ، چونکہ کسب حلال کر نا اور اپنی فیملی کی کفالت کر نا اور بچوں کو محتاجی وبیکاری سے بچانا سب سے بڑی عبادت ہے۔

مزید پڑھیں >>

حضرت آدم علیہ السلام و نوح علیہ السلام کی طویل عمروں  پر ملحدین کے سائنسی اعتراضات اور ان کا جواب

کچھ سائنسدانوں کے مطابق شروع میں زمین کا ماحول زندگی کے لیے زیادہ سازگار تھا،زمین کا مقناطیسی میدان یا میگنیٹک فیلڈ زیادہ طاقتور تھا،کرہ ہوائی یا ایٹما سفییر زیادہ کثیف یعنی Dense تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہی عوامل ہیں جن کی وجہ سے شروع میں انسانی عمر زیادہ تھی۔ مزید براں سائنسدانوں کاخیال ہے کہ انسان کے جینیاتی مادے کے کروموسوم میں ٹیلومییر پائے جاتے ہیں جو خلیے یا سیل کی ہر تقسیم کے ساتھ چھوٹے سے  چھوٹے ہوتے چلے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے سیل یا خلیے اور فرد کی عمر نسل در نسل کم سے کم ہوتی جاتی ہے۔ ان عوامل اور جینیٹک انٹراپی یا نسل در  انسانی  جینیاتی زوال پذیری  کی وجہ سے انسانی عمر نسل در نسل کم ہوتی چلی گئی۔

مزید پڑھیں >>

فیشن اور نسل نو کی تباہی

ضروری ہے کہ تمام مسلمانوں کو فیشن کے دلدل سے نکالنے کے لئے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیا جائے۔ان کے سامنے فیشن پرستی کے نقصانات کا ذکر کیا جائے ، سنت نبویؐ پر عمل کرنے کا ثواب اور اس کے مثبت اثرات سے انھیں واقف کرایا جائے۔ فضول خرچی اور اسراف کے سلسلے میں ش اور اس کے رسولؐ کی بیان کردہ وعیدیں سنائی جائیں ۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو خود ہی غور کرنا چاہئے کہ اگر وہ اسی طرح گناہوں کے دلدل میں خوار ہوتے رہے اور گناہوں کا انبار لے کر اندھیری قبر میں اتر گئے تو یاد رکھئے شدید ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔

مزید پڑھیں >>

کرچیاں میرے خوابوں کی‎

کلیم عاجز سے عشق کی جڑیں روز بروز مظبوط ہوتی جا رہی تھیں روزانہ رات کو ان کا کلام ضرور پڑھتا اور آتش شوق کو ذرا سکون پہنچاتا ۔ جنوری 2015 کا مہینہ اپنے اختتام کو تھا اگلے مہینہ کی آخری تاریخوں میں امتحان مکمل ہوجانے تھے ، گھر والوں سے مشورہ کے بعد عظیم آباد سفر کا مکمل ارادہ تھا دن دھیرے دھیرے گزر رہے تھے  کہ 16 فروری کی ایک درد انگیز صبح کو یہ خبر سنی کہ حضرت عاجز اس دار فانی سے کوچ کر گئے ، خبر تھی کہ ایک زہر آلود چھری جو میرے حلقوم میں گڑ گئی ملاقات کے راز و نیاز کے سارے خواب کرچی کرچی ہوگئے اور ذہن میں دور کہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ارشاد گرامی گونج رہا تھا کہ عرفت ربی بفسخ العزائم۔

مزید پڑھیں >>

انسانی تمدن و تہذیب کیلئے پردہ کیوں ضروری ہے؟(چوتھی قسط)

 یہ کہنا کہ ایک مرد اور ایک عورت باہم مل کر ایک پوشیدہ مقام پر سب سے الگ جو لطف اٹھاتے ہیں اس کا کوئی اثر اجتماعی زندگی پر نہیں پڑتا، محض بچوں کی سی بات ہے۔ در اصل اس کا اثر صرف اس سوسائٹی پر ہی نہیں پڑتا جس سے وہ براہ راست متعلق ہیں بلکہ پوری انسانیت پر پڑتا ہے اور اس کے اثرات صرف حال کے لوگوں ہی تک محدود نہیں رہتے بلکہ آئندہ نسلوں تک منتقل ہوتے ہیں، جس اجتماعی و عمرانی رابطہ میں پوری انسانیت بندھی ہوئی ہے، اس سے کوئی فرد کسی حال میں کسی محفوظ مقام پر بھی الگ نہیں ہے۔

مزید پڑھیں >>