شخصیت کا ارتقا

شخصیتِ انسانی کا امتیاز

انسانی شخصیت  کے بارے میں غور کرنے والے اس امر پر تو متفق ہیں کہ انسان محض طبعی اور جسمانی وجود نہیں ہے، بلکہ اس کی شخصیت، مادّی سطح سے بالاتر واقع ہوئی ہے۔ البتہ اس امر میں اُن میں اختلاف ہے کہ انسانی وجود کے ان اعلیٰ اور بلند تر پہلوؤں کی صحیح تعبیر کیا ہے۔ انسان کی ماہیت کے بارے میں سوچنے والوں میں جو افراد، انکارِ غیب کا رجحان رکھتے ہیں وہ انسانی شخصیت کے طبعی اور مادّی پہلوؤں کے علاوہ عموماً  صرف یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ انسان غور وفکر اور تجزیے کی صلاحیت رکھتا ہے، ادراک و شعور کی لطیف قوتوں سے بہرہ ور ہے اور اس کے اندر جمالیاتی حس پائی جاتی ہے لیکن اس سطح سے آگے، وہ انسان کے اندر مادّی خصوصیات سے بالاتر، کسی وصف کی شناخت سے قاصر ہیں۔

مزید پڑھیں >>

منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر

اسلام نے تحصیل علوم کو ایک تحریک کے طور پر اپنے متبعین پر لازم قرار دیا، یہاں تک کہ سب سے پہلی آیت جو غارِ حراء میں محمد  صلى الله عليه وسلم پر نازل ہوئی اس میں قرأت، علم، قلم کا بطور خاص ذکر فرمایاہے، بلکہ پڑھنے کو امر کے صیغہ ”اقراء“ کے ذریعہ واجب کردیا۔

مزید پڑھیں >>

اے انسان، کر خودی کی پہچان!

 واقعہ ایک انسان کے لیے عموماً اور مسلمان کے لیے خصوصا ًقابل غور ہے۔ جس دنیا کے لیے انسان دن و رات کھپا دیتا ہے وہ دنیا نہ تو دائمی ہے اور نہ ہی اس میں جمع کیا ہوا سازو سامان دائمی ہے۔ دراصل دنیا میں انسان چند روزہ مسافر ہے ۔

مزید پڑھیں >>

زبان کی لغویات

جتنے لوگ جہنم میں جائیں گے ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہوگی جو اپنی زبان کے کرتوتوں کی وجہ سے جہنم میں جائیں گے مثلاً جھوٹ بول دیا، کسی کی عیب جوئی کر دی ، کسی کی چغلی کھا لی ، کسی کی غیبت کر دی ، کسی کادل دکھا دیا ،کسی کی بدگمانی کی، کسی کی تکلیف پر خوشی کا اظہار کیا وغیرہ۔

مزید پڑھیں >>

آپ اچھا آدمی بننا چاہتے ہیں یا بڑا؟

ہمیں چاہیے کہ ہم بڑاآدمی بننے کے بجائے اچھاآدمی بننے کی کوشش کریں اورجب ہم اچھے بن جائیں گے توخودبخوداللہ تعالیٰ ہمیں بڑابنادے گااورہمیں بڑابننے کے لیے سوسوجتن کرنے، منافقت کرنے، باطن کوچھپانے اورتکلف کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔  یادرکھیے، بڑاآدمی عموماًتکلف کے ساتھ جیتاہے جب کہ اچھاآدمی فطری زندگی کے مزے لیتاہے۔ 

مزید پڑھیں >>

‘مواصلاتی مہارات کمیونکیشن اسکلز’ کا رسم اجراء

ٹمکور، کرناٹک ،ایچ ایم ا یس یونانی میڈیکل کالج کے سالانہ تقریبات کے موقع پر کتاب ’’مواصلاتی مہارات برائے بی یو ایم ایس طلباء ‘‘(Communication Skills for B.U.M.S., Students) کی رسم اجراء عمل میں آیا۔ اس کتاب کے مصنف جناب سید نثار احمد (احمد نثارؔ) اور ناشر جناب ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب ہیں ۔

مزید پڑھیں >>

ہم سب "نقل” کے ذمہ دار ہیں!

بس فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم اپنی اولاد کے کسی بھی ایسے فعل کی حوصلہ افزائی نہیں کرینگے جو مستقبل میں اسکے لئے اور معاشرے کیلئے نقصان دہ ثابت ہو۔ طبقاتی نظام سے بھی ہمیں آزادی چاہئے اصل تبدیلی اس طبقاتی نظام سے باہر ہماری منتظر ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم کب اس نظام کو اپنے پیروں تلے روندتے ہیں اور نقل جیسی بیماریوں سے چھٹکارا پاتے ہیں ۔ ہم سب اس نقل مافیہ کا حصہ ہیں ۔ کوئی شک نہیں اچھا وقت ہمارا انتظار کر رہا ہے۔

مزید پڑھیں >>

اے کاش کہ سمجھے کوئی!

بے شمار کتابیں موجود ہیں جن میں اسلامی تعلیمات بہت آسان الفاظ میں درج شدہ ہیں ۔ یہ تحریر کوئی خاص نہیں ہے۔ بالکل عام باتوں پر مبنی ہے اور میں اس بات سے بخوبی واقف ہوں کہ اس تحریر کو بھی ایسے ہی عام انداز میں لیا جائے گا جیسے روز مرہ زندگی میں ہدایت کی طرف بلانے والی چیزوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

ندويوں سے دو ٹوک بات: مرجعيت كس كو حاصل هے؟

ندويون سے گزارش هے كه يه بات كسى پر مخفى نہیں كه دنيا كے حالات جس برق رفتارى سے تبديل هو رهے هين، اس قسم كى تبديلى اس سے پهلے كبهى نهيں پيش آئى، آپ كا عهد هر لمحه تغير پزير هے، اور آپ كا ماحول هر لحظه دگر گوں، اس نازكـ گهڑى مين آپ پر قيادت كى ذمه دارى هے، حالات كو براه راست سمجهنے كى كوشش كريں، قرآن كريم اور سنت سے براه راست رهنمائى حاصل كريں، ان حالات مين بار بار علامه شبلى نعمانى، علامه سيد سليمان ندوى اور مفكر اسلام ابو الحسن على ندوى رحمة الله عليهم يا ماضى اور حال كى كسى شخصيت، تصنيف، مكتبه فكر اور اداره كا حواله دينا آپ كے شايان شان نهيں، ان بزرگون نے اپنے حالات اور ماحول كے لحاظ سے رهنمائى كا فريضه انجام ديا، اب آپ پر امت كے مسائل سے نپٹنے كى ذمه دارى هے، ضرورى نهيں كه ان كا جو حل ان بزرگون كے عهد ميں صحيح تها وه آپ كے لئے بهى مناسب هو، ايكـ كامياب ڈاكٹر وه نهيں جو بغير كسى تبديلى كے اپنے پيشرووں كے نسخے استعمال كرتا هو، يا مريض كے حالات كى تبديلى پر نگاه كئے بغير ايكـ هى طريقه علاج پر مصر هو.

مزید پڑھیں >>