شخصیت کا ارتقا

علم روشنی ہے، جہل اندھیرا

عمل سمجھ ہے تو جہل ناسمجھی۔ علم کے بغیر نہ قول کا بھروسہ نہ عمل کا ٹھکانہ۔ بے شک علم کا مقام عمل سے پہلے ہے۔ لیکن، عمل نہ ہو تو علم بیکار۔ حضرت علی ؑ   کاقول ہے کہ ’’علم عمل سے وابستہ ہے، جسے علم ہوگا وہ عمل بھی کرے گا۔اور علم تو عمل کو پکارتا ہے۔ اگر عمل اس پر لبیک کہے تو خیر، ورنہ علم وہاں سے کوچ کر جاتا ہے۔ ‘‘

مزید پڑھیں >>

تم چاہے تو ہو جائیں ابھی کوہ منحن پھول

  مسلم شریف کی روایت ہے کہ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ طاقتورمسلمان زیادہ بہتر اور اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے کمزور مسلمان سے اورہرایک میں بھلائی ہے اس چیز کی حرص کرو جو تمہیں (دینی) نفع پہنچائے اور اللہ سے مدد مانگو اور کم ہمتی مت دکھائو (مسلم ابن ماجہ)۔اسی طرح اعلیٰ کردار انسان کے لیے شجاعت کا وصف بھی ضروری ہے اس ضمن میں اللہ تعالیٰ انبیا ء وسابقین کے مکارم اخلاق ومحاسن افعال بیان فرماتا ہے۔ اس میں ان کوایسی تمام اعلیٰ چیزوں کا حاصل بتاتا ہے کہ وہ مکمل نمونہ ہوا کرتے تھے۔

مزید پڑھیں >>

گفتگو ہی انسان کو۔۔۔۔!

اللہ تعالی نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور تمام مخلوقات میں انسان کو  ممتاز بنایا ہے۔ اللہ رب العالمین نے ہر جاندار کو زبان دی ہے لیکن بولنے کا، اچھے میاری الفاظ چننے، استعمال کرنے اور شیرین زبان میں گفتگو کرنے کا شرف صرف انسانوں کو ہی عطا کیا ہے۔ انسان کی مختلف خصوصیات میں سے ایک خصوصیت گفتگو ہے۔ اسی کی وجہ سے انسان اپنی دلی کیفیات کا اظہار کرتا ہے۔ شیرین گفتگو ایک فن ہے یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے انسان یا تو دل میں اترتا ہے یاپھر دل سے اتر جاتا ہے۔ گفتگو ہی سامنے والے کے عیب و ہنر کردار اور خاندان کا پتہ دیتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

زندگی کو کیسے کام یاب بنائیں؟

کسی بھی کام یا مشن میں دو ہی امکانات ہیں ۔ کامیابی یا ناکامی۔ کامیابی کی صورت میں ہمیں اپنی محنت کا بدلہ اپنے سامنے ہی مل جاتا ہے لیکن ناکام ہونے کی صورت میں ہمیں شدید کرب و اذیت کی کیفیت سے گزرنا پڑتا ہے۔ ان دونوں حالتوں میں اگر ہم صبر و شکر کا دامن تھامے رکھیں تو کبھی گمراہ نہیں ہوں گے۔ کامیابی پر شکر ادا کرنا اور ناکامی پر صبر کرنا بھی نیکی ہے۔ کیوں کہ قرآن کے مطابق اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے اور جس کے ساتھ خدا ہو اسے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہیے۔

مزید پڑھیں >>

لکھنے کا فن

     پس ایک قلم کار کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ داخلی جوش (ایسی ذہنی ونفسیاتی کیفیت جو ایک قلم کار کو لکھنے کے لیے انگیخت کرے)سے بھی بہرہ مند ہو؛تاکہ وہ اسے کسی (سادہ یا مشکل)فکر وخیال سے ہم آہنگ کرکے ایسا فن پارہ وجود میں لاسکے، جو اس کے اپنے اسلوب، سوچ اور ذات کی نمایندگی کرتا ہویابالفاظِ دگر جو اس کی اپنی کاغذی تصویر ہو، کسی لکھاری کے اندر ایسا داخلی جوش تبھی پایاجاتا ہے، جب وہ ایک مخصوص نفسیاتی کیفیت سے بہرہ مندہو، البتہ اس کیفیت کی کوئی متعین صورت نہیں ہوتی؛بلکہ کبھی یہ خوشی، کبھی رنج، کبھی امیدورجا تو کبھی ناامیدی و مایوسی کی حالت میں بھی پائی جاسکتی ہے۔

مزید پڑھیں >>

سنگ میل بنو، سنگ راہ نہیں!

 دین اسلام نے ہمیشہ لوگوں کویکجہتی کی طرف دعوت دی ہے۔اس کا عملی ثبوت بھی آپ کی حیات طیبہ سے باالکل واضح نظر آرہاہےکہ آپ کے دسترخوان علم سے دیگر مذاہب اور مختلف ممالک کےحضرات بھی مستفید ہوتے۔ شب و روز یہی کوشش رہتی کہ سماج و معاشرہ میں رائج بے بنیاد اعمال و عقائد کی اصلاح کی جائے۔ اسی لئے یونان،روم، ہند اور ایران کےلادینی فلسفے جو کہ مسلمانوں کے دلوں پر راج کررہے تھے اس سےعلمی سطح پر مقابلہ کی آسان راہیں ہموار کیں ۔

مزید پڑھیں >>

انسان قرآن کے آئینہ میں (قسط اول)

انسان! جیسا کہ علیم و خبیر نے بیان کیاہے، سب سے زیادہ جھگڑالو ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بہت سی مخلوقات پیدا کی ہیں اور وہ سب اس سے کم جھگڑالو ہیں اوریہ بڑی باعث ِشرم بات ہے۔اس لئے انسان کو اپنے غرور و تکبر سے باز آنا چاہئے... اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سمجھانے کے لئے مثالیں بیان کیں، لیکن وہ سچائی کے ظاہر ہوجانے کے باوجود اس کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اگر انسان اس بدترین اَخلاقی بیماری کا علاج نہ کرے اور شفا بخش دوا سے اس کا اِزالہ نہ کرے تو یہ کتنی بری بیماری ہے!

مزید پڑھیں >>

لہو مجھکو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

 کسی بھی قوم کی ترقی اور معاشرہ کے استحکام میں اس کے نوجوان ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ایک روشن و تابناک مستقبل کا انحصار ان ہی پر ہوتا ہے۔ اگر نوجوان اپنے مقصد حیات اور منزل مقصود تک پہنچانے والی صحیح سمت یا راہ سے بھٹک جائیں تو وہ معاشرہ عدم استحکام کا شکار ہوجاتا ہے۔

مزید پڑھیں >>

سکون قلب نہیں تو کچھ بھی نہیں

اللہ نے جس بات کی تعلیم دی ہے وہ عین فطرت انسانی کے موافق اور مطابق ہے۔ اور جن چیزوں سے گریز کرنے کی تلقین کی وہ اس سے بچنا فطرت سلیم کی ضرورت ہے۔ سچ تو یہی ہے کہ ہم اور آپ اسلامی کلچر اسلامی تہذیب و ثقافت کے بغیر کسی دوسری چیز سے ذرہ برابر بھی سکون و اطمینان نہیں حاصل نہیں کر سکتے ہیں  چاہے سکون کی حصولیابی کے لئے کتنی ہی موج و مستی کر لی جائے چاہے کتنی ہی  ہنسی اور مزاق کی محفلوں میں شرکت کر لی جائے بجائے سکون کے غم اور رنج و الم ہی ملے گا۔

مزید پڑھیں >>

اس زمانے کا بڑا کیسے بنوں!

آج شخصی آزادی کے نام پر جوکچھ ہم نے اپنایا ہوا ہے وہ شخصی آزادی دنیا کی کوئی بھی تہذیب یا تعلیم یا فتہ معاشرہ پسند نہیں کرتا ہے۔ ترقی کے جو منازل ہم طے کرنا ہی ترقی سمجھتے ہیں وہ ہماری ناقص عقلی ہے کیونکہ وہ  دراصل انسانی تنزلی ہے.  ہمیں مادیت کی چکا چوند نے بلکل اندھا کردیا ہے اور ہم ترقی کے  اصل میں کیا معنی  ہیں  اسکو بھلا بیٹھے ہیں۔

مزید پڑھیں >>