عالم اسلام

قرآن سے قطعی نظر سامراجی دوستی اور اس کا خمیازہ

 اللہ بخش فریدی

اللہ رب العزت نے قرآن مجید میں کئی جگہوں پر دشمنان اسلام ( اسلام اور اہل اسلام کے خلاف جارحانہ عزائم اور معاندانہ رویہ رکھنے والوں ) کی دوستی سے منع فرمایا مگر مسلم حکمران انہی کو اولیت دیتے ہیں اور ان کے ساتھ بہترین دوستی کے خواہاں ہیں۔ جسے دیکھو امریکہ اوراس کے حلیفوں کی طرف دوڑا جارہاہے جو اسلام اور اہل اسلام کے بدترین دشمن ہیں۔جو لوگ اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسولﷺ اور اپنے مسلمان بھائیوں کو چھوڑ کر غیروں کو اپنا دوست، رازدار اورکارساز بناتے ہیں وہ اسلام اوراہل اسلام کے حقیقی دشمنوں سے بھی زیادہ خطرناک ہیں، وہ ہر گز ایمان والے نہیں، وہ نہ حقیقی مسلمانوں میں سے ہیں اور نہ اسلام کے حقیقی دشمنوں میں سے، جیسا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں۔

اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْط مَاھُمْ مِّنْکُمْ وَلَا مِنْھُمْ وَ یَحْلِفُوْنَ عَلَی الْکَذِبِ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ o اَعَدَّ اللّٰہُ لَھُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا اِنَّھُمْ سَآءَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo (المجادلہ 14:58)

’’ کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جوایسوں کے ساتھ دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ کا غضب ہے۔ وہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے، وہ دانستہ جھوٹی بات کہتے ہیں ( کہ ہم مسلمان ہیں)۔ اللہ عزوجل نے ان کیلئے سخت عذاب تیارکر رکھا ہے، بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں۔‘‘

جبکہ ایمان والوں کی مثال، علامت تو یہ ہے۔

لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ‘ وَلَوْکَانُوْآ اٰبَاءَ ھُمْ اَوْ اَبْنَآءَ ھُمْ اَوْ اِخْوَانَھُمْ اَوْ عَشِیْرَتَھُمْط اُولٰٓءِکَ کَتَبَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ الْاِیْمَاَن وَاَیَّدَھُمْ بِرُوْحٍ مِّنْہُط وَیُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْمِنْ تَحْتِھَا الْاٰنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط اُولٰٓءِکَ حِزْبُ اللّٰہِط اَلَآ اِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَo (المجادلہ22:)

’’تم ان لوگوں کو ’’جو اللہ عزوجل اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ‘‘ ہرگز ان لوگوں سے دوستی کرتے نہ دیکھو گے جنہوں نے اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کی مخالفت کی، اگرچہ وہ ان کے باپ، یا بیٹے، یا بھائی یا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلو ں میں اللہ تعالیٰ نے ایما ن نقش فرما دیا ہے، اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی، اورانہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں، وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی، یہ اللہ کی جماعت ہے اور بیشک اللہ کی جماعت ہی کامیاب ہے۔ ‘‘

کیا ان ( ایمان و اخلاص کے دعویداروں ) حکمرانوں نے قرآن میں غور نہیں کیا کہ اللہ رب العزت نے جگہ جگہ اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ بغض، عداوت اور دشمنی رکھنے والے ذلیل ترین لوگوں کی دوستی سے منع فرمایا ہے۔ قرآن مجید میں کئی مقامات پر ارشاد ہوتا ہے۔

سورہ المائدہ میں اللہ رب العزت نے اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ بغض عداوت او ر دشمنی رکھنے والے لوگوں ( یہود و نصاریٰ و ہنود) کی دوستی سے منع کرتے ہوئے فرمایا کہ جو ان سے دوستی رکھے گا وہ انہی میں شمار کیا جائے گا۔ یعنی وہ ظاہر کا تومسلمان ہوگا مگر باطن کا یہودی، عیسائی اور منافق۔فرمایا

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الْیَہُوْدَ وَالنَّصٰرآی اَوْلِیَآءَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِّنْکُمْ فَاِنَّہ‘ مِنْھُمْط اِنَّ اللّٰہَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ

’’اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو کوئی ان کے ساتھ دوستی رکھے گا تو وہ انہی میں سے ہے، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘ (المائدہ 51:5)

آگے اللہ رب العزت نے خود ہی ان بزدلو ں کی نشاندہی فرمادی جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے۔

فَتَرَی الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِھِمْ مَّرَضٌ یُّسَاِرعُوْنَ فِیْھِمْ یَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓی اَنْ تُصِیْبَنَا دَآءِرَۃٌ ط فَعَسَی اللّٰہُ اَنْ یَّاْتِیَ بِالْفَتْحِ اَوْاَمْرٍ مِّنْ عِنْدِہٖ فَیُصْبِحُوْا عَلٰی مَااَسَرُّوْا فِیْ اَنْفُسِھِمْ نٰٰدِمِیْنَo (المائدہ 52:5 )

’’اب تم ضرور دیکھو گے ان لوگو ں کو جن کے دلو ں میںآزار ( یہود و نصاریٰ و ہنود کا خوف) ہے ان کی طرف بھاگیں گے، کہیں گے’’ ہمیں ڈر ہے کہ ہم پر ان کی طرف سے کوئی آفت نہ آ جائے‘‘ تو قریب ہے کہ اللہ مسلمانوں کو فتح دے یااپنی طرف سے کوئی حکم بھیجے(ان کی ذلت ورسوائی کا ) تو پھر یہ اس پر جوانہوں نے اپنے دلوں میں چھپایا تھا پچھاتے رہ جائیں۔ ‘‘

لَا یَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ اْلکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ وَمَنْ یَّفْعَلْذٰلِکَ فَلَیْسَ مِنَ اللّٰہِ فِیْ شَیْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰۃً ط وَیُحَذِّرُکُمُ اللّٰہُ نَفْسَہ‘ ط وَاِلَی اللّٰہِ الْمَصِیْرُo (العمران 28:3)

’’مسلمان کافروں کو اپنا دوست نہ بنائیں مسلمانوں کے سوا،اور جوایسا کرے گا تواس کا اللہ عزوجل سے کوئی واسطہ نہیں، مگر یہ کہ تم ان سے کچھ ڈرو، اور اللہ تمہیں اپنے غضب سے ڈراتا ہے اور تمہیں اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ ‘‘

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَکُمْ ہُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنْ الَّذِےْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلِکُمْ وَ الْکُفَّارَ اَوْلِیَآءَ وَاتَّقُوااللّٰہَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَo

اے ایمان والو!جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی بنا لیاہے، وہ جو پہلے کتاب دئیے گئے اور کافر، ان میں سے کسی کواپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو۔(المائدہ 57:)

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا عَدُوِّیْ وَ عَدُوَّکُمْ اَوْلِیَآءَ تُلْقُوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَقَدْ کَفَرُوْا بِمَاجَآءَ کُمْ مِّنَ الْحَقِّ یُخْرِجُوْنَ الرَّسُوْلَ وَایَّٰاکُمْ اَنْ تُؤْمِنُوْا بِاللّٰہِ رَبِّکُمْط اِنْ کُنْتُمْ خَرَجْتُمْ جِہَادًا فِیْ سَبِیْلِیْ وَابْتِغَآءَ مَرْضَاتِی تُسِرُّوْنَ اِلَیْھِمْ بِالْمَوَدَّۃِ وَاَنَا اَعْلَمُ بِمَآ اَخْفَیْتُمْ وَمَا اَعْلَنْتُمْط وَمَنْ یَّفْعَلْہُ مِنْکُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ السَّبِیْلِo اِنْ یَّثْقَفُوْکُمْ یَکُوْنُوْا لَکُمْ اَعْدَآءً وَیَبْسُطُوْآ اِلَیْکُمْ اَیْدِیَھُمْ وَاَلْسِنَتَھُمْ بِالسُّوْءِ وَ وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَo لَنْ تَنْفَعَکُمْ اَرْحَامُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ ط وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌo (الممتحنۃ 1…3:60)

’’اے ایمان والو!میرے اور اپنے دشمنوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، تم انہیں دوستی کا پیغام دیتے ہو، حالانکہ وہ منکرہیں اس حق کے جوتمہارے پاس آیا، جدا کرتے ہیں رسول کواور تمہیں، اس لئے کہ تم اپنے رب پر ایمان لائے، اگر تم نکلے ہو میری راہ میں جہاد کرنے کواور میری رضا چاہنے کو، تو ان سے دوستی نہ کرو،تم انہیں خفیہ محبت کا پیغام بھیجتے ہو، اور میں خوب جانتا ہو ں جوتم چھپاؤ اور جو ظاہر کرو، اور جو تم میں ایساکرے گا بیشک وہ سیدھی راہ سے بہکا۔اگر موقع پائیں تو تمہارے دشمن ہوں گے اور تمہاری طرف اپنے ہاتھ اور اپنی زبانیں برائی کے ساتھ دراز کریں گے، اوران کی تمنا ہے کہ کسی طرح تم کافر ہوجاؤ۔ ہرگز کام نہ آئیں گے تمہیں تمہارے یہ رشتے (یہود و نصاریٰ و ہنودکے ) اور نہ تمہاری اولاد، قیامت کے دن تمہیں ان سے الگ کر دے گا، اور بیشک اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے۔ ‘‘

الَّذِیْنَ یَتَّخِذُوْنَ الْکٰفِرِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَط اَ یَبْتَغُوْنَ عِنْدَھُمُ الْعِزَّۃَ فََاِنَّ الْعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیْعًاo وَقَدْ نَزَّلَ عَلَےْکُمْ فِیْ الْکِتٰبِ اَنْ اِذَا سَمِعْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ یُکْفَرُبِھَا وَیُسْتَہْزَابِھَا فَلَا تَقْعُدُوْا مَعَھُمْ حَتّٰی یَخُوْضُوْا فِیْ حَدِیْثٍ غَیْرِہٖ اِنَّکُمْ اِذًا مِّثْلُھُمْط اِنَّ اللّٰہَ جَامِعُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْکَفِرِیْنَ فِیْ جَہَنَّمَ جَمِیْعًاo

’’وہ جو مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو دوست بناتے ہیں، کیاوہ انکے پاس عزت ڈھونڈتے ہیں ؟ تو عزت توساری اللہ عزوجل کے ہاتھ میں ہے۔ اور بیشک اللہ عزوجل تم پر کتاب اتار چکا ہے۔ لہٰذا جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو، کہ ان کا انکار کیا جاتا ہے اور ان کی ہنسی اڑائی جاتی ہے توان لوگو ں کے ساتھ نہ بیٹھو، جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں، ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو گے، بیشک اللہ منافقوں اورکافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔‘‘ (النساء 139-40:4)

تَرٰی کَثِیْرً ا مِّنْھُمْ یَتَوَلَّوْنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَبِءْسَ مَا قَدَّمَتْ لَھُمْ اَنْفُسُھُمْ اَنْ سَخِطَ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَفِی الْعَذَابِ ھُمْ خٰلِدُوْنَo وَلَوْکَانُوْا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالنَّبِیِّ وَمَااُنْزِلَ اِلَیْہِ مَا اتَّخَذُوْھُمْ اَوْلِیَآءَ وَلٰکِنَّ کَثِیْرًا مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَo (المائدہ 80-1:5 )

’’ان میں سے تم بہتوں کو دیکھو گے کہ کافروں سے دوستی کرتے ہیں، کیا ہی بری چیز اپنے لئے خود آگے بھیجی، یہ کہ اللہ ان پر غضب ناک ہوا، اور وہ ہمیشہ عذاب میں رہیں گے۔ اور اگر وہ ایمان لاتے اللہ پر اور نبی ﷺ پر اور اس پر جوان کی طرف اترا، تو کافروں سے دوستی نہ کرتے، مگر ان میں بہت سے فاسق ہیں۔

اِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّٰہُ وَرَسُوْلُہ‘ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَوَیُؤْتُوْنَ الزَّکٰوۃَ وَھُمْ رٰکِعُوْنَo وَمَنْ یَّتَوَلَّ اللّٰہَ وَ رَسُوْلَہ‘ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ھُمُ الْغٰلِبُوْنَo (المائدہ 55..6:5)

’’(اے ایمان والو!) تمہارے دوست نہیں مگر اللہ اوراس کا رسول اورا یمان والے، کہ نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اوراللہ کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔ اور جو اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کو اور مسلمانوں کو اپنا دوست بنائیں تو بیشک اللہ ہی کا گروہ غالب ہے۔‘‘

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کی آزمائش تھی کہ اس (جلا شانہ ) نے اہل باطل کو مسلمانوں سے زیادہ مال و دولت دیا تاکہ وہ دیکھے کہ مسلمان حق پر قائم رہتے ہوئے خود کو ان کے مقابلہ میں استوار کرتے ہیں یا ان کے پیچھے بھاگتے ہیں(ان کی غلامی اختیار کرتے ہیں )۔مگر آ ج مسلمان اس آزمائش میں پوری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کفار کے مقابلہ میں خود کو استوار کرنے کی بجائے ان کے پیچھے بھاگنا شروع کیا، اسلام اور اسلامی اقدار وں کو بری طرح پامال کیا اور ان کی غلامی کو اپنی آزادی و خودمختاری پر ترجیح دی یہی وجہ ہے کہ آج پوری دنیا میں ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن چکی ہے۔

آئیے دیکھتے ہیں کہ ہمیں ان کی دوستی سے ملا کیا؟

1۔ پوری اسلامی دنیا سے اسلامی تشخص جاتا رہا، اور مسلمانوں کے ہر شعبہ زندگی پر ان کا خود ساختہ کافرانہ نظام مسلط کر دیا گیا۔

2۔ سودی قرض دے کراور سودی نظام بنکاری نافذ کرواکرمسلمانوں کو اللہ عزوجل اور اس کے پیارے رسول ﷺ کے خلاف جنگ کیلئے تیار کیا گیا۔

3۔ اسلام کے چودہ سو سالہ عقیدہ جہاد کو دہشت گردی کا نام دے کر اسلام کو بدنام کرنے کی نامشکور سعی جاری و ساری ہے۔

4۔ 1971ء میں انڈیاکی درپردہ حمایت کرکے اسلامی مملکت پاکستان کو دولخت کر دیا گیا۔

5۔ جدید ترین جنگی طیاروں کی پیشگی قیمت وصول کرنے کے باوجود ہمیں آج تک وہ طیارے نہ مل سکے۔ جبکہ ہمارے بدترین دشمن بھارت کو بار بار اس کی فراخدلانہ پیشکش کی جارہی ہے کہ اگر طیارے نہیں خریدنا چاہتا یا خریدنے کی طاقت نہیں رکھتا تو اسے یہ لیز پر دینے کیلئے بھی تیار ہیں۔

6۔ اسلامی ملکوں کی پر امن ایٹمی دفاعی پالیسی کی وجہ سے انہیں طرح طرح کی پابندیوں میں جکڑا جا رہا ہے جبکہ بھارت اور اسرائیل کواس کی کھلی آزادی دی گئی۔

7۔ سب سے بڑی اسلامی ریاست ’’ انڈونیشیا ‘‘ کو تقسیم کرکے ’’مشرقی تیمور ‘‘ نامی عیسائی ریاست قائم کی گئی اور اس کی مزید تقسیم در تقسیم کی سازشیں جاری ہیں۔

8۔ فلسطین’’ بیت المقدس ‘‘ پر یہودی درندوں کے ذریعے قبضہ کروایا اور مسلمانوں کو وہاں سے زبردستی نکال دیا گیا اور اب عام آدمی کو وہاں( بیت المقدس ) میں نماز پڑھنے کی بھی اجازت نہیں۔

10۔ اہل مغرب (امر یکہ و یورپ ) نے مل کر مقدس سرزمین بیت المقدس پر قابض یہودی درندوں کو دنیاکی سب سے بڑی ایٹمی طاقت بنا دیاتاکہ مسلمانوں پر دہشت طاری رہے اور ان کے خلاف آواز نہ اٹھاسکیں۔

11۔ اہل مغرب خود دن بدن جدید ترین مہلک اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کے انبار لگا رہے ہیں جبکہ مسلمانوں پر ایٹمی توانائی کے پرامن استعمال پر بھی پابندی ہے تاکہ وہ ہمیشہ کمزور رہیں اور ان کے سامنے سر نہ اٹھاسکیں۔

12۔ مسلمان ممالک اپنے مضبوط دفاع کیلئے اگر کوئی دفاعی ٹیکنالوجی اپنائیں، اپنے دفاع کیلئے بم، میزائل وغیرہ بنانے کی کوشش کریں تو وہ پوری انسانیت کیلئے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں جبکہ یہ اہل مغرب امریکہ و یورپ، انڈیا اور اسرائیل جو دن بدن وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے انبار لگا رہے ہیں وہ ا نسان دوست ہیں؟جس سے انسانیت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ؟

13۔ وطن عزیز پاکستان کی ایٹمی قوت پوری دنیا کی نظروں میں کھٹک رہی ہے اور الزام تراشی جاری ہے کہ یہ دنیا کیلئے خطرہ ہے۔

14۔ ایٹمی ایران اہل مغرب کو قابل قبول نہیں، اسے دنیا کیلئے بہت بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے برعکس انڈیا و اسرائیل پر ایٹمی تعاون کی نوازشات جاری ہیں۔

15۔ پُر امن فلاحی مقاصد کیلئے جدید ایٹمی ٹیکنالوجی کا استعمال تمام اقوام عالم کا حق ہے، مگر مسلم اقوام کو اس سے سختی سے باز رکھا جا رہا ہے اور غیر مسلم اقوام کیلئے رعایت و نرمی اختیار کی جا رہی ہے۔

16۔ ایرانی تیل پر قبضہ کی غرض سے اگست 1953ء امریکی سی آئی اے نے ایران کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اپنے پھٹو جنرل فضل اللہ زاہدی کو وزیر اعظم بنایااور ایران کی قومی تیل کمپنی جس نے تیل کی صنعت کی بھرپور ملکیت حاصل کر لی تھی، اسے مجبور کر کے امریکی، برطانوی، ولندیزی اور ایک فرانسیسی کمپنی پر مشتمل ’’ Iran Oil Participants ‘‘ کے نام سے ایک کنسورشیم بنوایا جو تیل کی نکاسی، صفائی اور برآمد کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس طرح تیل کی صنعت ایران کی ملکیت سے منتقل ہو کر امریکا کے قبضے میں آ گئی اور یہ اجارہ داری 25سال تک قائم رہی، جسے ایران کی انقلابی حکومت نے آ کر ختم کیا۔ جب سے امریکا کی ایران سے مخاصمت چلی آ رہی ہے۔

17۔ دو بردار اسلامی ملکوں ایران و عراق کو آپس میں لڑایا اور اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی۔

18۔ عراق کے ذریعے کویت پر قبضہ کروایا پھر قبضہ چھڑانے کے بہانے عراق پر آتش و آہن کی بارش برسائی اور لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کی جان لی۔

19۔ عراق کی دفاعی حکمت عملی کی وجہ سے اسے طرح طرح کی پابندیوں میں جکڑا، جس کے باعث لاکھوں عراقی بچے خوراک اور دوائیو ں کی کمی سے ہلاک ہوئے۔

20۔ کوسوؤ میں سربوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام کروایا۔

21۔ نام نہاد دہشت گر دی کے الزام میں محض شک کی بنا پر امارت اسلامی افغانستان و عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔

22۔ صدام کا ہوا کھڑا کرکے سعودی و کویتی سیال مادہ سیراب ہوکر چوسا اور کمی آنے پر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کا جھوٹا بہانہ بنا کر عراق پر حملہ کردیا۔جبکہ اس کا اصل مقصد عراقی تیل پر قبضہ اور صیہونی ریاست کا تحفظ تھا۔اور اب شام کا تہس نہس کر ڈالا اس کے پیچھے بھی صیہونی ریاست کا تحفظ ہے۔

23۔ دنیا بھر کی عیسائی مملکتیں یہودیوں کی نگہبان ہیں اور وہ یہودی ریاست (مقبوضہ فلسطین )
کے اردگرد مسلم قوتوں کو نہیں دیکھ سکتے۔

الغرض اگریہودو نصاریٰ اور ہنود کی سب چھوٹی بڑی وفاداریوں اور نوازشا ت کو گننا چاہیں تو ان کا شمار کرنا ناممکن ہے۔قرآن مجید میں مسلمانوں کو یہ تنبیہ کی گئی مگر کسی نے اس پر توجہ نہ دی

وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَہُوْدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَھُمْط قُلْ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الْہُدٰی ط وَلَءِنِ اتَّبَعْتَ اَہْوَآءَ ھُمْ بَعْدَ الَّذِیْ جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیِّ وَلَا نَصِیْرٍ o (البقرۃ 120:2)

’’اور ہرگز یہود و نصاریٰ کبھی تم سے راضی نہیں ہوں گے جب تک تم ان کے دین کی پیرو ی اختیار نہ کر لو۔ تو (اے نبی ﷺ ) آپ فرما دیں ! اللہ ہی کی ہدایت صحیح ہدایت ہے اگر تم میں سے کسی نے بعد اس کے کہ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے کامل علم آچکا، ان کی خواہشوں کی پیروی کی تو تمہیں اللہ کے غضب سے بچانے والا نہ کوئی دوست ہوگا اور نہ کوئی مدد گار۔ ‘‘

ذرا غور فرمائیں اور دیکھیں کہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کا تو ایک ایک پہلو ان کی خواہشات کے عین مطابق ہے۔ ہمارا کوئی شعبہ زندگی، کوئی ادارہ، کوئی محکمہ ایسا نہیں جوان کے اشاروں، احکامات وہدایات کے مطابق نہ چل رہا ہو،اور تو اور ہم نے تو اپنے دین کو بھی اس سطح پر رکھا ہوا ہے جو انہیں قابل قبول ہے، اس کے باوجود وہ ہم سے راضی نہیں ہورہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اللہ عزوجل کے حکم کی خلاف ورزی کر کے اس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اوراللہ عزوجل کے غضب میں گرفتار ہیں۔ ان سے دوستی کا ہمیں جو سب سے بڑافاہدہ حاصل ہوا وہ یہی ہے کہ دنیا میں بھی ذلت و رسوائی اور خواری وناداری ہمارا مقدر بن چکی ہے اورآخرت میں بھی اس کے سوا اور کچھ نہیں ملے گا۔

اسلام اچھے، دیانتدار مخلص، بااعتماد، اسلام دوست غیر مسلم ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات و روابط قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے لیکن برے، بددیانت، جارحیت پسند، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ بغض، عداوت، کینہ اور دشمنی رکھنے والوں سے دوستی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

لاَ یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ لَمْ یُقَاتِلُوْکُمْ فِْی الدِّیْنِ وَلَمْ یُخْرِجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ اَنْ تَبَرُّوْھُمْ وَ تُقْسِطُوْا اِلَیْھِمْط اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَo

اللہ عزوجل تمہیں ان لوگوں کی (دوستی، اچھے تعلقات و روابط قائم کرنے) سے منع نہیں فرماتاجو تم سے دین کے معاملہ میں نہ لڑے اورتمہیں تمہارے گھروں سے نہ نکالا،کہ ان کے ساتھ احسان کرو اور ان سے انصاف کا برتاؤ برتو،بیشک انصاف کرنے والے اللہ کے محبوب ہیں۔(الممتحنہ 8:)

اِنَّمَا یَنْھٰکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیْنَ قٰتَلُوْکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ اَخْرَجُوْکُمْ مِّنْ دِیَارِکُمْ وَظٰہَرُوْا عَلآی اِخْرَاجِکُمْ اَنْ تَوَلَّوُھُمْ وَمَنْ یَّتَوَلَّھُمْ فَاُولٰٰٓءِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَo (الممتحنہ 9:60 )

اللہ تمہیں صرف انہی سے منع کرتا ہے جوتم سے دین کے معاملہ میں لڑے اورتمہیں گھروں سے نکالا،یا تمہار ے نکالنے میں مدد کی کہ ان سے دوستی کرواور جو ان سے دوستی کریں تو وہی ظالم لوگ ہیں۔

اللہ رب العزت نے قرآن کریم میں بار با ر ہمیں متنبہ کیا کہ ہم مغضوب اور ضال لوگوں کے نقشِ قدم پر نہ چلیں اسلام اوراہل اسلام کے ساتھ بغض، عداوت اور دشمنی رکھنے والوں کواپنا دوست نہ بنائیں، کیونکہ وہ ہمارے دوست بن ہی نہیں سکتے۔ قرآن کریم میں صہیونیوں کی گھٹیا ذہنیت اور کردار کو بہت وضاحت سے بیان کیاگیا ہے تاکہ ہم ان کے فتنوں سے آگاہ رہیں اوران کی گرفت میں نہ آئیں۔ ان بندر نما انسانوں نے ہمیشہ اپنے محسنوں کی پیٹھ پر چُھرا گھونپا ہے۔ صہیونی تمام غیر یہودیوں کو جانور گردانتے ہیں اور ان کے قتل اور ذلیل و رسوا کرنے کو بالکل حلال سمجھتے ہیں، ظلم و ستم، لڑائی جھگڑا، فتنہ و فساد برپا کرنا ان کی فطرت میں شامل ہے۔ اگر آپ قرآن کریم او ر بائبل (انجیل) کا مطالعہ کریں تو جگہ جگہ ان کے ظلم وستم، جھگڑا و فسادات اور ناشکری کا تذکرہ موجود ہے۔ تاریخِ اسلام کا مطالعہ کریں کہ انہوں نے اسلام کے آغاز سے ہی اسلام اوراہل اسلام کے ساتھ کیا کیا پروپیگنڈہ کیا۔ مسلمانوں کو طرح طرح کی اذیتیں دیں۔ مشرکین مکہ کے ساتھ مل کر حضور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے خلاف کیاکیا سازشیں کیں اور کتنی جنگیں لڑیں۔ مسلمانوں کا روپ دھار کر کتنے فتنے برپا کیے۔ حقیقی اسلامی فلاحی فطری نظام ’’ نظام خلافت‘‘ کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔مسلمانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے لڑایا۔خلفائے راشدین کو شہید کیا۔ بھلا جواسلام کے آغاز سے ہی اسلام کے بد ترین دشمن ہوں وہ آج چودہ سو سال گزر جانے کے بعد اسلام اوراہل اسلام کے دوست اور خیر خواہ کیسے بن سکتے ہیں ؟

آج بعض اسلامی ممالک میں مقبوضہ فلسطین ( اسرائیل ) کو تسلیم کرنے اور تجارتی، سفارتی اور داخلی تعلقات قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ اسے بڑی بڑی رپوٹوں میں بیان کیا گیا ہے کہ اس کا ہم پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا بلکہ ترقی و خوشحالی کی نئی راہیں کھلیں گی، زرمبادلہ، بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا وغیرہ وغیرہ۔

ان عقل کے اندھوں سے پوچھو کہ کیا یہ اسلام کے بدترین دشمنوں، سب جانوروں سے بد تر انسانوں (جن پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کیلئے ذلت، خواری و ناداری مسلط کر رکھی ہے(وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَ الْمَسْکَنَۃُ)یہ انہیں مقدس سرزمین میںآباد کرکے، مظلوم کے مقابلہ میں ظالم کی مدد کر کے، اللہ عزوجل اوراس کے پیارے رسول ﷺ کی مخالفت مول لے کر یہ دنیا میں عزت پا لیں گے اورآخرت (جو بہت جلد آنے والی ہے) میں بھی ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہو گی۔

مزید دکھائیں

اللہ بخش فریدی

I wrote books on the topic of community awareness, community correction, aligned nation, effective Reforms, Unity & Stability of the Muslim Nations and enforcing the Islamic laws in Muslim Countries. All words and paragraphs of the books are very effective on the soul, revolutionary, influential, very strong powerful books on the wake up of the Ummah, Optimization، Consciousness and awareness and unity of the Muslim Ummah. So that these texts it opened the eyes of society they have enough to awakening. Very appreciated by the Holy Prophet (Allah’s blessing and salutation on him) in the dreams. This article Inshallah! will be a landmark in the community and the Islamic Revival prediction which would pave the way for revival of Islam which the community hopes. That's my motto and main goal of life. I've dedicated my life to achieve these noble goals. In addition, I set future strategy process of the Muslim Ummah which Named '' New Islamic World Order, for enforcement of Islamic Revivalism'' it contains 40 points. If this applies to the entire Muslim world together then we become a great power in the world. In another addition, I present new idea and plan of Real Welfare Islamic Government System، Which is the guarantor of peace and security in society, Human well-being improvement and maintaining the purity and chastity of the Society. I hope that you will understand my feelings and cooperation with to raising the wave of awareness in the Muslim Ummah and to raise the feelings of the people to awaken them slumber. These books are in Urdu language. If you know read Urdu I send you soft copies of these books and the idea of New Islamic World order and the plan of real Islamic government.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close