خصوصیسیاست

دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر: بی جے پی کیوں اُچھل رہی ہے؟

اس فلم کوبی جے پی ہی پروڈیوس کررہی ہے۔

نایاب حسن قاسمی

جاننے والے جانتے ہوں گے کہ 2014میں عین الیکشن سے چند ماہ قبل سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ کے میڈیاایڈوائزرمسٹر سنجے بارو "دی ایکسیڈینٹل پرائم منسٹر "نامی کتاب منظرِ عام پرلائے تھے اوربی جے پی، جواس وقت انتخابی مہم میں فراٹے سے آگے بڑھ رہی تھی، اس کی رفتارکومزیدکئی پرلگ گئے تھےـ اب جبکہ چندماہ بعدسترہواں لوک سبھاالیکشن ہونے کوہے، تواسی کتاب کوصفحاتِ قرطاس سے پردۂ سیمیں پراتاراجارہاہے اورابھی ستائیس دسمبرکواس کاٹریلرہی ریلیزہواہے کہ ہنگامے برپاہوگئے ہیں، چندمنٹوں پرمشتمل یہ ٹریلرہی ایسا "جامع "ہے کہ اس سے پوری فلم کے اندرون میں جھانکا جاسکتاہے اوراسی وجہ سے مختلف سمتوں سے مختلف آوازیں اٹھ رہی ہیں ـ بنیادی طورپرکانگریس اس پرکسی رائے کے اظہارسے دامن بچاتی نظرآتی ہے، جبکہ اس کے دوسرے درجے کے؛ بلکہ بعض اول درجے کے لیڈران بھی اس فلم کوبی جے پی "سپانسرڈ” بتا رہے ہیں ـ اس فلم پردھماچوکڑی کاسلسلہ ٹوئٹرسے شروع ہواہے، جہاں سب سے پہلے بی جے پی کے آفشیل ٹوئٹرہینڈل سے اس کے ٹریلرکالنک شیئرکیاگیا اوراس پرنوٹ بھی لکھاگیاکہ اس فلم میں اس بات کاانکشاف کیاگیاہے کہ کس طرح مسلسل دس سال تک اس ملک کوایک مخصوص خاندان نے یرغمال بنائے رکھااورمنموہن سنگھ کواس وقت تک محض دکھاوے کے لیے وزیراعظم بنائے رکھاگیا، جب تک گاندھی خاندان میں کوئی اس عہدے کے لائق نہیں ہوگیاـ اس کے بعد بی جے پی کے ٹاپ کے لیڈروں نے اسے ری ٹوئٹ کیا، گویاباضابطہ بی جے پی کی جانب سے اس فلم کوپرموٹ کیاجانے لگا، اس کی وجہ ظاہرہے کہ مجموعی طورپر اس فلم میں کانگریس کاوہ چہرہ دکھا یاگیاہے، جسے دیکھ کرفلم کے ناظرین کانگریس سے متنفرہوسکتے ہیں، دورہوسکتے ہیں اورممکن ہے اس فلم کی وجہ سے آنے والے الیکشن میں کانگریس کونقصان اٹھاناپڑے، ظاہرہے کہ اسی امیدمیں بی جے پی باقاعدہ اس فلم کے ڈیجیٹل پرموشن میں لگ گئی ہے؛ حالاں کہ اس سلسلے میں کانگریس کامجموعی ردعمل یہ بھی سامنے آرہاہے کہ اس فلم کوبی جے پی ہی پروڈیوس کررہی ہے۔

بی جے پی پرشک اس وجہ سے بھی کیاجارہاہے کہ اس فلم کے ڈائریکٹروجے گٹی اسی سال اگست میں 34کروڑکے جی ایس ٹی فراڈمیں جیل ہی ہواکھاچکے ہیں، اس کے باوجودایک حکمراں پارٹی، جوبدعنوانی کے خاتمے کی قسمیں کھاتی ہے، وہ اس کی فلم کی تشہیرکررہی ہےـ  کانگریس کے میڈیاترجمان رندیپ سرجے والاکاکہنایہ ہے کہ بی جے پی مختلف شعبوں میں حکومت کی بوگس کارکردگی کے خلاف اٹھنے والے سوالات سے بچنے کے لیے اس فلم کی پرموشن میں لگ گئی ہے، ابھیشیک منوسنگھوی نے بھی ٹوئٹ کیاہے کہ بی جے پی ہی اس فلم کی پروڈیوسرہےـ

ادھرانوپم کھیر فلم پرہونے والے ہنگامے پرکہتے ہیں کہ میں نے اس فلم کے لیے جتنی محنت کی ہے، اتنی اپنے پینتیس سالہ کریئرمیں پانچ سوفلموں میں کام کے دوران نہیں کی، ان کولگتاہے کہ ان کی یہ فلم اتنی بڑی اوراہم ہے کہ اسے آسکرکے لیے نامزدکیاجاناچاہیے، وہ ریلیزسے پہلے فلم کی کسی قسم کی سپیشل سکریننگ کاسختی سے انکارکرتے ہیں، ان کاکہناہے کہ فلم کے ٹریلرکے لیے اورپوری فلم کے لیے باقاعدہ قانونی طورپرسینسربورڈسے اجازت مل چکی ہے؛ اس لیے ہم کسی کوسپیشل طورپردکھانے کے پابندنہیں ہیں، حالاں کہ ایک دوسری حقیقت یہ بھی ہے کہ انوپم کھیرجیسے لوگ ہی گذشتہ چندسالوں کے دوران ریلیزہونے والی کئی فلموں پربرپاہونے والے تنازعات میں دوسری انتہاپرتھے، پی کے، اے دل ہے مشکل، لویاتری، پدماوتی وغیرہ جیسی فلموں پرجواٹھاپٹک ہوئی، اس سے سب واقف ہیں ـ عدمِ برداشت کاجومسئلہ اب تک کانگریس یادوسرے اپوزیشن والے اٹھاتے رہے، وہی اب بی جے پی، انوپم کھیر،ان کی بیوی اورگودی میڈیااٹھارہاہے؛ بلکہ مدھیہ پردیش کی نئی کانگریس حکومت کوبیک فٹ پرپہنچانے کے لیے بعض چینلوں نے یہ افواہ بھی پھیلانے میں عارمحسوس نہیں کی کہ وزیراعلی کمل ناتھ نے ایم پی میں اس فلم کوبین کرنے کااعلان کیاہے، جبکہ حقیقتاً ایسی کوئی بات نہیں تھی ـ کچھ زیادہ چالاک لوگ راہل گاندھی کے پراے ٹوئٹس کے سکرین شاٹس کے حوالوں سے برداشت وعدمِ برداشت کے موضوع کوہوادیناچاہتے ہیں ـ

میرے خیال میں سب سے زیادہ موج سنجے باروکی ہے، کانگریس والوں کاکہناہے کہ یہ صاحب یوپی اے ون میں دوہزارچارسے دوہزارآٹھ تک وزیراعظم کے میڈیاایڈوائزرتھے، پھرجب الیکشن آیا، توچلے گئے اورجب دوبارہ یوپی اے کی حکومت آئی، توپھرآفس سنبھالنے پہنچ گئے، مگرانھیں ملازمت نہیں دی گئی، کانگریس کاتویہی کہناہے کہ دوبارہ کام نہ ملنے کی وجہ سے ہی انھوں نے وہ کتاب لکھی اوراس میں نادرست باتیں درج کردیں، جبکہ دوسری طرف کے لوگ اس کتاب کوایک "گھرکے بھیدی "کے انکشافات کے طورپردیکھتے ہیں اوران کامانناہے کہ اس میں درج تمام باتیں درست ہیں ـ بہرکیف باروتوفائدے میں ہیں کہ پہلے تووزیراعظم کامشیربن کر موج کرتے رہے، وہاں سے نکلے، توپانچ سال پہلے اسی وزیراعظم پر کتاب لانچ کرکے مال بنایا اوراب اس کے فلمی حقوق بیچ کرمال بنالیا،فی الجملہ سنجے باروایک انتہادرجے کے ابن الوقت، موقع پرست، طوطاچشم اور ناقابلِ اعتمادانسان نظرآتے ہیں ـ

اس پورے سیناریومیں سب سے دلچسپ کیریکٹرریئل ڈاکٹر منموہن سنگھ کاہے، بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں اور بارونے اپنی کتاب میں بھی یہی ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ انھیں سونیاگاندھی نے وزیراعظم اس لیے بنایا کہ متعددوجوہ کی بناپروہ خودنہیں بن سکتی تھیں اوراس وقت اندرونِ گاندھی فیملی کوئی دوسراسیاسی جانشین اس قابل بھی نہیں تھا اور ڈاکٹرسنگھ نہایت شریف النفس اوربے ضررانسان تھے؛ اس لیے انھیں بلی کابکرابنادیاگیا؛ حالاں کہ دوسری طرف منموہن سنگھ کاکم وبیش نصف صدی کاسیاسی سفریہ تسلیم کرنے سے روکتاہے کہ وہ اس حدتک "بدھو "تھے کہ اپنے خلاف گاندھی فیملی کی سازشوں کوسمجھ ہی نہ سکے اورآسانی سے آلۂ کاربنتے چلے گئے ـ

اپنے اوپربننے والی فلم پرمیڈیاکے ذریعے پوچھے گئے سوال پرانھوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہااوران سے یہی توقع بھی کی جارہی تھی ـ مشہور صحافی راجدیپ سردیسائی نے ان کے اس رویے کو ان کے "لیجنڈ "ہونے کی علامت قراردیاہے ـ

بہرکیف اصل بات یہ ہے کہ چوں کہ بی جے پی اپنی مدتِ کارمیں بہترگورننس دینے کے معاملے میں بری طرح ناکام رہی ہے اوراسے خوداس حقیقت کاادراک ہوچلاہے؛اس لیے آنے والے چندماہ میں اسی قسم کے قطعی بیہودہ، بکواس اورعوامی مفادات سے غیرمتعلق قسم کے موضوعات پبلک ڈومین میں لانے اورانھیں برقراررکھنے کی کوشش کرے گی، 27 دسمبر کوپارلیمنٹ سے دوبارہ تین طلاق بل کاپاس کیاجانابھی اسی کاشاخسانہ تھا، اس بل کے جومقاصدواغراض حکومت بیان کرتی ہے، وہ اس صدی کااب تک کاسب سے دلچسپ "لطیفہ” قراردیاجاسکتاہے ـ ابھی جنوری میں ہی بابری مسجدکیس کی بھی سماعت شروع ہونے والی ہے، اس طرح کے دوچاراوربھی معاملے اٹھائے جاسکتے ہیں، میڈیاتومودی بھگتوں کی صف میں شامل ہے ہی؛ اس لیے رائی کوپہاڑبنانے کاعمل بڑی آسانی سے انجام دیاجاسکتااوریہ کامیاب بھی ہوسکتاہےـ

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

متعلقہ

Back to top button
Close