سیاست

دو مہینے کی بیوہ عروس ہماری طرف دیکھ رہی ہے

حفیظ نعمانی

خدا نظر بد سے بچائے دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین امانت اللہ خاں کو کہ انہوں نے تبریز انصاری شہید کی نوجوان بیوہ کے سر پر ہاتھ رکھنے کا فیصلہ کیا اور پانچ لاکھ روپئے اور وہ پسند کرے تو اس کے لئے ایک مکان دہلی میں دینے کی تجویز رکھی۔ جو فیصلہ دہلی وقف بورڈ کے چیئرمین نے اب کیا ہے وہ اب سے بہت پہلے ایسے ہی واقعہ پر کسی نہ کسی کو کرنا چاہئے تھا۔ اب تک جتنے مسلمان لڑکے شہید ہوئے ہیں وہ سب غریب تھے اور اپنے پیچھے ہر کوئی مسئلہ چھوڑ گیا۔ اگر حکومت انسانوں کی ہوتی تو کسی کو کچھ کرنے یا سوچنے کی ضرورت نہیں تھی لیکن جن کی حکومت ہے وہ شیطان سے زیادہ قریب ہیں اور یہ شیطنت ہی ہے کہ وہ بھی زندہ ہیں جنہوں نے کہا کہ میں نے دو گھنٹہ تک لاٹھیوں سے مارا اور وہ بھی سانڈ کی طرح زندہ ہے جس نے کہا کہ میں رسّی میں باندھ کر لایا اور سالے کو پانی بھی نہیں دیا۔ یہ ان وزیراعظم کی مرمت ہے جن کو اس کی تکلیف نہیں ہے کہ ایک 24  سال کا محنتی جوان 18  گھنٹے تک مار کھاتا رہے اور جے شری رام اور جے شری ہنومان کہتا رہے پھر بھی اس کی جان لے لی جائے بلکہ اس کی تکلیف ہے کہ جھارکھنڈ کو مآب لنچنگ کی نرسری کہہ دیا جائے۔

عزیز گرامی امانت اللہ خاں نے جو ابتدا کی ہے اسے پورے ملک میں پھیلایا جائے اور جس کسی کے ساتھ ایسا حادثہ پیش آئے اس کے لئے قانونی مدد کے علاوہ ایک معقول رقم کا انتظام کیا جائے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے گھر کے جو مسائل بھی ہوں ان کے بارے میں سرجوڑکر بیٹھا جائے اور کوشش کی جائے کہ اس کا گھر برباد نہ ہونے پائے۔ ہم کسی وقف بورڈ کو پابند نہیں کرتے جبکہ ہر ریاست یہاں تک کہ ہریانہ اور پنجاب میں بھی وقف بورڈ ہیں۔ وہ اگر دہلی وقف بورڈ کے نقش قدم پر چلیں تو کیا کہنے ورنہ ملک کے مسلمان بھرپور طریقہ سے آگے آئیں اور ہر ضرورتمند کی مدد کریں۔

امانت اللہ خاں صاحب کے بیان سے معلوم ہوکر دل اور دماغ سب ہل کر رہ گئے کہ تبریز انصاری کے بھی نہ باپ ہیں نہ ماں اور جو دولھن آئی ہے اس غریب کا بھی سگا کوئی نہیں ہے۔ اس کے بعد تو سب سے اہم یہ ہے کہ اس کے حفاظت سے رہنے کا انتظام کیا جائے اور اس کی اتنی دلجوئی کی جائے کہ وہ سال دو سال میں دوسرے عقد پر راضی ہوجائے تو کسی معقول محنتی لڑکے کے ساتھ اس کا عقد کرادیا جائے۔

یہ ہماری ملت کا مزاج ہے کہ کوئی گرم مسئلہ ہو تو سب علم لے کر آگے آجاتے ہیں اور ٹھنڈا ہونے کے بعد منھ پھیر لیتے ہیں میں اپنی طرف سے یہ پیشکش کررہا ہوں کہ لکھنؤ میں پروردگار نے بہت بڑا اور بہت اچھا مکان عطا کیا ہے۔ اگر سال دو سال قیام کا مسئلہ ہو تو بہت باعزت طریقہ سے بیٹی کی طرح میری بہوئوں اور پوتیوں کے ساتھ اس کا قیام رہے گا کام کرنے کیلئے نوکر موجود ہیں اسے کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی سوائے اس کے کہ جو اپنے شوق کے لئے وہ کرنا چاہے۔ اور اس کا ہر خرچ اچھے سے اچھا ہمارے ذمہ ہوگا۔ اور ضرورت پڑی تو شادی کا ضروری سامان بھی کردیا جائے گا۔

یہ صرف ایک اس لڑکی کا مسئلہ ہے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کا کوئی نہیں ہے۔ اگر امانت اللہ خاں صاحب اپنے طور پر ہم سے کوئی اور خدمت چاہیں تو وہ حکم دیں۔ نیاز حاصل نہ ہونے کے باوجود وہ مجھے اپنا بڑا بھائی پائیں گے۔

میں شرمندہ ہوں کہ اس اہم ضرورت کے بارے میں میں نے اب تک کیوں نہیں لکھا اور احسانمند ہوں امانت اللہ خاں صاحب کا کہ انہوں نے دل و دماغ کے در کھول دیئے۔ اس کے علاوہ دوسرا مسئلہ مجرموں کو سزا دلانے اور مقدمہ کی پیروی کرنے کا ہے۔ جمال اختر ایڈوکیٹ موجود ہیں وہ بھی زحمت کریں اور ساتھ جاکر جھارکھنڈ وقف بورڈ کے ذمہ داروں سے بات کریں اور رانچی میں انہیں بہت ایسے مسلمان وکیل مل جائیں گے جو اس مقدمے کو اپنا اور ملت کا سمجھ کر اس کی پیروی کریں گے یوں تو ایسے مقدمے سرکاری وکیل کرتے ہیں لیکن وہ کیسے ہوتے ہیں اور کیا کرتے ہیں یہ بات جمال اختر صاحب ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔ رانچی اور جمشید پور کے مسلمان وکیلوں سے انشاء اللہ بہت تعاون ملے گا ضرورت اس کی ہے کہ اسے سرکاری وکیلوں کے رحم و کرم پر نہ چھوڑ دیا جائے۔

دوبارہ وزیراعظم بننے کے بعد سینٹرل ہال میں مودی جی کی تقریر سے اُمید جاگی تھی کہ شاید حالات کچھ بدلیں گے لیکن لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کی گئی دونوں تقریروں سے ہر اُمید ختم ہوگئی اور اب ہر شہر کے مسلمانوں کو ہر ہنگامی ضرورت کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ تبریز انصاری کے ساتھ مودی نواز ہندوئوں نے جو کچھ کیا ہے اس کا اندازہ صرف وہ کرسکتا ہے جس نے اپنا جوان بیٹھا کھویا ہو اور جس کی نئی نویلی دولھن کے آنسو لڑکے کے ماں باپ کو خون رُلا رہے ہوں۔ مودی جی اس درد کو کیسے سمجھ سکتے ہیں انہوں نے تو آل اور اولاد کا جھمیلا ہی نہیں پالا اور جو ہوا وہ ان کا ذاتی معاملہ ہے۔ پروردگار کا شکر ہے کہ ہمیں بھی اس غم کے دریا سے نہیں گذرنا پڑا لیکن اپنے ان دوستوں کو دیکھا ہے جو جب جوان بیٹے کا جنازہ کاندھے پر لے کر قبرستان جاتے ہیں تو واپسی میں ان کی کمر جھکی ہوئی ہوتی ہے۔ اور تبریز کا کوئی بھی نہیں ہے اس لئے ہم سب کو اس کا اور اس بیٹی کا ہر رشتہ دار ہوجانا چاہئے آخری گذارش یہ ہے کہ مجھ سے جس مدد کی ضرورت ہو اس کا حکم دیا جائے اور جس وقت ضرورت ہو ٹیلیفون کردیا جائے۔ اگر بات نہ ہوسکے تو تھوڑی دیر کے بعد پھر کردیا جائے۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

ایک تبصرہ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ

Close