عیش پرست بابا گرمیت سنگھ سے بھاجپا کا کاروبار

عبدالعزیز

 گرمیت سنگھ جس نے اپنے نام کے ساتھ لوگوں کو دھوکہ اور فریب دینے کیلئے ’’بابا رام رحیم‘‘ کا ٹائٹل بھی لگا رکھا تھا۔ اس کے جیل جانے کے بعد ایک ایک کرکے اس کی عیش پرستانہ اور دہشت گردانہ زندگی سے پردہ اٹھ رہا ہے یا اٹھایا جا رہا ہے۔ جعلی بابا کے اپنی بیٹی نے باپ کے جیل جانے کے بعد میڈیا کو بیان دیا ہے کہ ’’بھارتیہ جنتا پارٹی نے میرے باپ کے ساتھ دھوکہ کیا ہے کیونکہ 2014ء میں بھاجپا کے بڑے بڑے لیڈر میرے باپ کے چرن چھونے آئے اور بھاجپا کیلئے ہاتھ جوڑ کر حمایت کی درخواست کی۔ میرے باپ نے باقاعدہ امیت شاہ اور ان کے رفقاء سے ڈیل کیا کہ اگر وہ سپورٹ دیں تو ان کو اس کے بدلے کیا ملے گا۔ بھاجپا کے صدر اور جنرل سکریٹری کیلاش وجے ورگیہ نے وعدہ کیا تھا کہ ’’میرے باپ پر سے بلتکار (زنا) اور مڈر (قتل) کے مقدمات ختم کر دیئے جائیں گے مگر بار بار میرے باپ کی طرف سے یاد دہانی کے باوجود مقدمات ختم نہیں کئے گئے۔ اس طرح میرے باپ کے ساتھ جو ڈیلنگ (کاروبار) ہوئی اس میں دھوکہ دہی ہوئی، جس کی وجہ سے میرا باپ آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہے‘‘۔

سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو وائرل کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ ہریانہ کے کھیل اور کلچرل وزیر شرما بابا کے شیش محل میں حاضر ہوئے ہیں ۔ بابا کرسی پر بیٹھے ہیں اور کلچرل وزیر ان کے سامنے پر سجدہ ریز ہیں ۔ کرسی سے اٹھ کر بابا ان کے بغل گیر ہوتے ہیں اور وزیر موصوف انھیں حکومت ہریانہ کی طرف سے 51لاکھ روپئے کی امداد فراہم کرتے ہیں ۔ یہ واقعہ جیل جانے سے دس روز پہلے کا ہے۔

ایسی ویڈیو بھی وائرل ہورہی ہے جس میں ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر (جن کی حکومت کو بعض میڈیا والے ’کھٹارا حکومت‘ کہہ رہے ہیں ) ، کیلاش وجے ورگیہ، امیت شاہ، شہنواز، ساکشی مہاراج اور دیگر سنگھی لیڈران کے ساتھ سوفے پر بیٹھ کر بابا گرمیت سنگھ سے تبادلہ خیال کر رہے ہیں ۔

  بی جے پی کے ایم پی ساکشی مہاراج پر سی بی آئی کورٹ نے جعلی بابا گرمیت سنگھ کے مقدمہ میں جو فیصلہ دیا ہے اس پرجو تنقید و تنقیص کی ہے وہ قابل  توہین ہے۔ انھوں نے کہاہے کہ جج صاحب نے ایک دو کی گواہی پر بابا کو مجرم قرار دے دیا جبکہ لاکھوں افراد بابا کو بھگوان مانتے ہیں اور ان کے عقیدتمند ہیں ان کو معاف کر دینا چاہئے۔ یہ سب ہندوؤں کے مذہبی پیشواؤں کو بدنام کرنے کی سازش رچی جارہی ہے۔ ساکشی مہاراج کی بی جے پی کے کسی لیڈر نے مذمت کی اور نہ اسے غلط بتایا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آج بھی بی جے پی کے لوگ بابا کے پیروکار ہیں اور ان کی سزا کو غلط قرار دیتے ہیں ۔ اب جو کچھ بابا کے بارے میں سامنے آرہا ہے اس سے انسانیت شرمسار ہے مگر بی جے پی والے بابا کیلئے اب بھی کچھ نہ کچھ کر ڈالنے اور ان کو جیل سے باہر لانے کیلئے تیار ہیں ۔ یہ ہے بی جے پی اور یہ ہیں ان کے لیڈران۔

  اس سے پتہ چلتا ہے کہ بھاجپا یا آر ایس ایس کے لیڈروں سے بابا کے تعلقات اب بھی خوشگوار ہیں اور بابا کو یقین پر یقین دلایا جارہا ہے کہ ان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ صحیح نہیں ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بھاجپا کے لیڈران بابا سے اس قدر گھل مل گئے تھے کہ ان کو دھوکہ دینا نہیں چاہتے تھے لیکن ہوا یہ کہ سی بی آئی کورٹ کے جج کلدیپ سنگھ ایک ایسے شخص ہیں جو انسان دوست ہیں اور ظالموں اور کالے کرتوت کرنے والوں کو بخشنے یا رعایت کرنے کے حق میں نہیں تھے۔ بابا گرمیت کے وکیل نے بابا کے کئی سماجی اور خدمت خلق کے کام گنائے مگر جج ٹس سے مس نہیں ہوا۔ بابا جو اپنے آپ کو بھگوان بنائے ہوئے تھا وہ بلک بلک کر روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر کہا کہ ’’جج صاحب مجھے معاف کر دیجئے‘‘۔ بابا کے وکیل نے جب اصرار کیا کہ کم سے کم رعایت دے دی جائے تو جج نے کہا ’’ایسے ظالموں کیلئے جو جعلسازی کرتے ہیں ، اپنے عقیدتمندوں کی آبرو ریزی کرتے ہیں ، ان پر ظلم و ستم کرتے ہیں ان کو کوئی رعایت نہیں دی جاسکتی۔کوئی رحم کی اپیل قابل غور نہیں ہوسکتی‘‘۔

 جج پر بابا کے سیاسی اور غیر سیاسی تاجروں اور عقیدتمندوں کا دباؤ ہی نہیں دھمکی بھی تھی مگر جج بے خوف و خطر ہوکر قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر بحال رکھا۔ کسی کو خاطر میں نہیں لایا۔

 بابا گرمیت سنگھ کو جن لوگوں نے آج جرائم کے پیشہ میں لایا اور اس کی عیش و عشرت کی دنیا بسائی وہ جیل کے باہر ہی نہیں ہیں بلکہ حکمرانوں کی صف میں کھڑے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی جگہ بابا کے ساتھ ہونی چاہئے کیونکہ یہ لوگ سب کچھ جانتے ہوئے جعلی اور عیاش بابا کی ہر طرح کی مدد کرتے رہے تاکہ الیکشن کے موقع پر ان کی حمایت سے ووٹ ملتا رہے اور وہ اقتدار کی گدی پر وہ براجمان رہیں ۔ پچاس سے زائد انسانوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ سیکڑوں لوگ زخمی ہیں ۔ کچھ لوگ موت اور زندگی کی کشمکش میں مبتلا ہیں ۔ لاکھوں ، کروڑوں نہیں بلکہ اربوں کی املاک تباہ و برباد کر دی گئی۔ آخر کیا وہ سیاستداں جو کرسیوں پر بیٹھ کر حکمرانی کر رہے ہیں اس کی بھرپائی کریں گے؟ ایسے لیڈران جو عوام کے ساتھ فریب کرتے ہیں ، ان کے یقین کو صدمہ پہنچاتے ہیں کیا ان پر مقدمہ نہیں کیا جاسکتا ہے؟ ان کو مجرم کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جاسکتا ہے؟ یہ تو باقاعدہ ظالموں اور مجرموں کے ساتھ کاروبار (Dealing) کرتے ہیں ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی 2014ء کے الیکشن کے موقع پر ہریانہ میں بابا رام رحیم کی تعریفوں کا پل باندھ دیا تھا۔ انھیں ہریانہ کا مسیحا بتایا تھا۔کیا مودی جی ناواقف تھے۔ مودی جی نہ آسارام باپو سے ناواقف تھے نہ رام رحیم سے نا آشنا تھے۔ وہ ان سب کے چرن چھوتے تھے۔ آشیرواد لیتے تھے اور عوام کے یقین کو مضبوط سے مضبوط تر کرتے تھے کہ یہ ہمارے تمہارے بھگوان ہیں اور ہم تم ان کے سش اور پتر اور پتری ہیں ۔ ان کی پوجا کرو۔ ان کے چرنوں میں جھک کر آشیرواد مانگو۔ یہ ملک کی کس قدر بدقسمتی ہے کہ اس طرح کے دھوکہ باز بابا عوام کو لوٹ رہے ہیں اور ان کے چیلے چپاٹے ملک میں حکمرانی کر رہے ہیں ۔ ان کی حکمرانی کی عمریں دراز ہو رہی ہیں ۔ غور کرنے اور سوچنے کی بات ہے۔ ملک کا خدا ہی حافظ ہے۔



⋆ عبد العزیز

عبد العزیز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے