سیاست

مخالفوں کی ہوٹنگ سے وزیراعظم بھی آپے سے باہر

حفیظ نعمانی

یہ کوئی نظریاتی اختلاف کی بات نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی لوک سبھا میں تقریر کریں یا راجیہ سبھا میں یا انتخابی جلسہ میں ان کی تقریر کا انداز ایک ہی ہوتا ہے۔ یہ کوئی الزام نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے کہ ان کے پاس علم کا خزانہ نہیں ہے وہ صرف تجربہ، تربیت اور مشاہدہ کے بل پر اور انداز بیان پر گاڑی گھسیٹ رہے ہیں۔

لوک سبھا میں تحریک شکریہ پر بحث کا جواب دینے کھڑے ہوئے تو ہم نے ایک نئی بات یہ دیکھی کہ حزب مخالف نے بدتمیزی کے انداز میں شور مچانا اور ’’جملہ بازی نہیں چلے گی میچ فکسنگ نہیں چلے گی‘‘ جیسے بیہودہ نعرے لگاکر وزیراعظم نے اپنی تقریر جاری رکھی لیکن انہوں نے بھی جواب میں وہ سب کہہ دیا جو اب تک وہ اشاروں میں کہا کرتے تھے۔ ٹی وی کے جس چینل پر ہم یہ دیکھ رہے تھے اس نے ایک گھنٹہ تک دکھایا مگر ان کی شکل نہیں دکھائی جو بدتمیزی کررہے تھے صرف وزیراعظم اور ان کے حمایتیوں کو ہی دکھاتا رہا ہے۔ اور وزیراعظم نے اپنی تقریر صرف کانگریس اور اس کے سابق وزرائے اعظم تک ہی محدود رکھی۔

وزیراعظم نے ہمیشہ کی طرح پنڈت نہرو اور سردار پٹیل کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر سردار وزیراعظم بنے ہوتے تو آج ملک کی صورت ہی کچھ اور ہوتی اور کشمیر بھی پوری طرح ہندوستان کا حصہ ہوتا۔ غیب کی بات تو اللہ علیم و خبیر ہی جانتا ہے کہ کیا ہوتا لیکن ہم نے بھی جتنا اس معاملہ میں پڑھا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ آج جتنا کشمیر ہمارے ساتھ ہے وہ صرف شیخ محمد عبداللہ اور پنڈت نہرو کی دوستی کی بدولت ہے۔ اگر یہ دوستی نہ ہوتی تو تقسیم کے فارمولہ کے اعتبار سے پورا کشمیر پاکستان میں ہوتا۔ اور شیخ عبداللہ اور پنڈت نہرو کے درمیان جو معاہدئہ دہلی ہوا تھا اسی معاہدہ کا نتیجہ تھا کہ شیخ عبداللہ وزیراعظم کشمیر تھے اور کرن سنگھ صدرِ ریاست تھے۔ لیکن پنڈت نہرو نے دھوکہ دیا اور شیخ عبداللہ کے خلاف بخشی غلام محمد کو وزیراعظم بنایا اور درجنوں بار کہا کہ یہ سب عارضی سمجھوتہ ہے کشمیر کی قسمت کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعہ عوام کریں گے اور اقوام متحدہ میں بھی یہ بات کہنے کے بعد پنڈت جی مکرگئے اور کشمیر کا وہ حشر ہوا جو آج سب کے سامنے ہے۔

 اگر سردار ولبھ بھائی پٹیل وزیراعظم بن جاتے تو ملک میں وہ جمہوریت نہ ہوتی جو آج ہے اور جس کی بدولت مودی جی وزیراعظم بنے ہوئے ہیں۔ جمہوریت کا دوسرا نام سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے۔ اور سردار پٹیل نے وزیرداخلہ بنتے ہی تمام صوبوں کے وزیراعلیٰ کو حکم دے دیا تھا کہ مسلمانوں کو فوج اور پولیس میں بھرتی نہ کیا جائے اور جو پولیس افسر فیلڈ میں ہیں انہیں بھی واپس بلاکر دفتری کام میں لگا دیا جائے یعنی وہ ایس پی اور دوسرے افسروں کے گھر کی سبزی لائیں اور ان کے بچوں کو کھلائیں۔

جمہوریت ایک ہی قسم کی نہیں ہوتی مودی جی کا اصرار ہے کہ ڈھائی ہزار سال پہلے بھی جمہوریت تھی۔ جمہوریت تو انگریزوں کی حکومت میں بھی تھی مگر و وٹ دینے کا حق سب کو نہیں تھا اس کے ساتھ پابندیاں تھیں۔ پنڈت نہرو نے وہ جمہوریت رائج کی کہ ہر بالغ مرد اور عورت ووٹ دے گی اور یہ جمہوریت نہرو کی دین ہے۔ سردار پٹیل ہرگز اسے رائج نہ کرتے ان کے مزاج میں سختی تھی۔ ملک کی تقسیم کے بارے میں ہر بڑا سیاسی آدمی جانتا ہے کہ مسلمانوں میں مسٹر جناح اور ہندوئوں میں صرف سردار پٹیل تقسیم پر اَڑے ہوئے تھے پنڈت نہرو اور گاندھی جی کسی حال میں تقسیم نہیں چاہتے تھے تاریخ گواہ ہے کہ ان کو سردار پٹیل نے آمادہ کیا اور ان کا کہنا تھا کہ آدھا پنجاب اور آدھا بنگال کاٹنے کے بعد کٹے پھٹے پاکستان کے بارے میں یقین ہے کہ سال دو برس میں وہ ہمارے ساتھ آجائے گا۔

لوک سبھا میں مودی جی کی تقریر کے دوران اگر بدتمیزی اور شور نہ ہوتا تو ہمیں یقین ہے کہ تقریر دوسری ہوتی مگر وہ بھی انسان ہیں بدتمیزی کے جواب میں تلخ نہ ہونا اختیار میں نہیں رہتا اس لئے انہوں نے سارا غصہ کانگریس پر اتارا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جس کانگریس کو وہ مٹا دینا چاہتے تھے اس میں پھر جان پڑنے لگی اور وہ پھر مقابلہ پر آئے گی۔ مودی جی نے سردار پٹیل کا لوہے کا مجسمہ بنوانے کے لئے 2014 ء کے الیکشن میں لوہے کی پورے ملک سے بھیک مانگی تھی لیکن وزیراعظم بننے کے بعد کسی کو نہیں معلوم کہ وہ لوہا کیا ہوا اور ضرورت اس لئے نہیں رہی کہ وزیراعظم بننے کے لئے تھا وہ کام ہوگیا تو اب کیسا لوہا؟

وزیراعظم نے راجیہ سبھا میں بھی تحریک شکریہ پر بحث کا جواب دیتے ہوئے تین طلاق کے اس بل کا ذکر کیا جو راجیہ سبھا میں اٹکا ہوا ہے ۔ وزیراعظم نے درجنوں ا عتراضات میں سے صرف ایک بات کو پکڑلیا کہ اگر کوئی جوان لڑکا کسی کو قتل کردے تو اسے اس لئے جیل نہیں بھیجنا چاہئے کہ اس کے بوڑھے ماں باپ کی دیکھ بھال کون کرے گا؟ جبکہ اہم اعتراض یہ نہیں ہے سب سے اہم یہ ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے بعد طلاق جب نہیں ہوئی تو صرف تین بار طلاق کہنا اتنا بڑا جرم کیسے ہوگیا؟ یہ تو کھلونے کے پستول سے پٹاخہ چھوڑنا ہوا اور سزا تین سال؟ اور نہ گواہ نہ ثبوت جیسے میں دیکھوں کہ ایک چھوٹے سے مکان میں دو میاں بیوی آئے ہیں بیوی بہت خوبصورت ہے کسی شیطان نے جاکر تھانے میں کہہ دیا کہ فلاں مکان میں جو رہتا ہے اس نے رات آٹھ بجے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے اسے گرفتار کرنے کے لئے اتنی اطلاع کافی ہے اور اسے گرفتار کرکے جیل بھیج دیا جائے گا۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ وزیراعظم سے مل کر پوری بات بتانا چاہتا ہے اسے ملاقات کا وقت نہیں دیا۔  راجیہ سبھا میں اسے مسترد نہیں کیا گیا ہے بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ اسے ٹھیک کرکے قانون بنایا جائے یہ تو وزیر قانون کا نہیں تحصیل میں وکالت کرنے والے وکیل کا بنایا ہوا بل لگتا ہے۔ مودی جی کو یہ ضد کیوں ہے کہ بل کتنا ہی مہمل ہو یہی رہے گا یہ تو وہی ضد ہے جس کے لئے وہ مشہور ہیں۔

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔
(اس ویب سائٹ کے مضامین کوعام کرنے میں ہمارا تعاون کیجیے۔)
Disclaimer: The opinions expressed within this article/piece are personal views of the author; and do not reflect the views of the Mazameen.com. The Mazameen.com does not assume any responsibility or liability for the same.)


مزید دکھائیں

حفیظ نعمانی

حفیظ نعمانی معروف سنیئر صحافی، سیاسی مبصر اور دانش ور ہیں۔

متعلقہ

Close